جڑواں انقلاب

عبدالقادر حسن  جمعرات 21 اگست 2014
Abdulqhasan@hotmail.com

[email protected]

تاریخ کے ہر انقلاب کی کامیابی حکومت کی حفاظتی فوجوں اور اداروں کی ناکامی یا پسپائی سے سامنے آتی ہے۔ روس میں جب فوجیوں نے انقلابیوں کو اشارہ کیا کہ وہ ان کے گھوڑوں کے نیچے سے گزر جائیں تو انقلابیوں کے سامنے سے سب سے بڑی رکاوٹ دور ہو گئی اور انقلاب اپنی منزل تک آسانی کے ساتھ پہنچ گیا۔ جب فرانس میں ملکہ نے انقلابی بھوکوں کو مشورہ دیا کہ روٹی نہیں ملتی تو کیک کھا کر اپنی بھوک مٹا لیں تو ملکہ سمیت پوری حکومت پھانسی کے تختے پر پہنچ گئی۔

انقلاب بری حکومتوں کے خلاف آتے ہیں جس کو عوام بدل دینا چاہتے ہیں اور ان حکومتوں کے پاس انقلابیوں کو شکست دینے کے لیے سوائے سرکاری مسلح دستوں کے اور کچھ نہیں ہوتا کیونکہ ان کا تو نام ہی عوام کو مشتعل کر دیتا ہے۔ ہماری حکومت جس کے خلاف ایک مبینہ انقلاب برپا ہے صرف سال ڈیڑھ سال کے عرصہ میں ہی عوامی انقلاب کا نشانہ بن گئی اس لیے کہ وہ حکمرانی اور ملک چلانے میں کبھی سنجیدہ ہی نہیں تھی۔

ایسے لگتا ہے جیسے وہ کسی پکنک پر آئی تھی اس نے اپنے خاندان اور متوسلین کو بھی حکمران خاندان کا فرد بنا دیا اور سب کو کھلی چھوٹ دے دی گئی، عوام کو ٹیکسوں وغیرہ سے لوٹنا شروع کر دیا،غیر ملکوں کے کروڑوں کے خرچ پر شوقیہ دورے شروع کر دیے۔ ان کے دور کی لوٹ مار کی کہانیاں جب سامنے آئیں گی اور ان کی قومی سرمائے سے عیاشیاں اور بنائی جائیدادیں دیکھی جائیں گی جو ملک کے اندر سے بیرون ملک تک پھیلی ہوئی ہیں تو یہ طعنہ ایک حقیقت بن جائے گا جو آج ہر پاکستانی دوسرے کو دیتا ہے کہ تم نے بھی تو ان کو ووٹ دیا تھا اب مزے کرو۔

ان حکمرانوں کا سب سے بڑا جرم قومی سرمائے کی لوٹ کھسوٹ نہیں بلکہ ہمارے حقیقی دشمن کے ساتھ خصوصی تعلقات ہیں جو کاروبار کے لیے استوار کیے گئے۔ بھارت نے یہ موقع پا کر اس ملک میں کاروباری لوگ کم اور تخریب کار زیادہ بھجوا دیے جن کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں فوج تک میدان میں لانی پڑی۔ یہ فوج جو بھارت کی باقاعدہ فوجی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے تھی اسے بھارت کی تخریب کاری کے خلاف میدان میں اترنا پڑا۔

مسلمان پاکستان کے لیے یہ جنگ نہیں جہاد ہے اور جہاد میں کامیابی اللہ کی مدد سے ہوتی ہے۔ ہمارا عمران خان کہتا ہے کہ اس نے اپنا نام طارق بن زیاد رکھ لیا ہے جس نے ہسپانیہ کی سرحدوں پر پہنچ کر اپنی فوج کی کشتیاں جلا دی تھیں جب سپاہ نے کہا کہ سردار آپ نے یہ کیا کیا کہ ہم تو اپنے ملک اور وطن سے بہت دور ہیں، واپس کیسے پہنچیں گے۔ اس پر طارق نے یہ تاریخی اسلامی جملہ کہا کہ ’’ہر ملک جو ہمارے خدا کا ہے وہ ہمارا ہے‘‘۔

اب کیا ہو گا اور ملک کتنے فساد اور نقصان کا نشانہ بنے گا اس کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ کاروباری لوگ فریادی ہیں کہ وہ تباہ ہو گئے ہیں۔ کاروبار بند ہیں کارخانے بند ہیں ایک چلتا ہوا باعزت گزر بسرکرنے والا ملک محتاج بن گیا ہے، اس کے مزدور بھوکے مر رہے ہیں اورکاروباری بند دکانوں کے سامنے ماتم کر رہے ہیں۔ مہینہ ڈیڑھ مہینے سے ملک کی کاروباری زندگی مفلوج کر دی گئی ہے۔

اربوں کھربوں کا یہ نقصان کون پورا کرے گا، اگرچہ اس ملک کے وسائل اس قدر ہیں کہ کچھ وقت بعد یہ ملک پھر سے کپڑے جھاڑ کر اٹھ کھڑا ہو گا لیکن سوال یہ ہے کہ حکومت پاکستانی ہوگی یا پاکستان لوٹنے والی اور پھر یہ سوال بھی ابھی تک جواب کی تلاش میں ہے کہ نئی حکومت کیسی ہو گی اور کیسے بنے گی۔ یہ تو بڑی حد تک طے ہے کہ نئی حکومت فوج کی نگرانی میں قائم ہو گی لیکن اس میں بھی بہت سارے سوالات موجود ہیں اس وقت ان پر بحث قبل از وقت ہے اور ابھی ہمارے دونوں انقلابی یعنی جڑواں انقلابی منزل کے پہلے نظارے سے لطف اندوز ہو رہے ہیں لیکن تیزی سے بدلتے ہوئے حالات کے سامنے کسی کالم میں کچھ عرض کرنا ممکن نہیں۔

کوئی 24 گھنٹے کے بعد جب یہ کالم اخبار میں چھپے گا تو عین ممکن ہے دنیا ہی بدل گئی ہو اور ہمارے اندازے سب غلط ثابت ہو گئے ہوں۔ جب سے روز مرہ کی رپورٹنگ ترک کر کے کالم نویسی شروع کی ہے ہر روز ہی ایسے کسی اندیشے سے گزرتا ہوں چونکہ مضمون نگاری نہیں کر سکتا حالات حاضرہ کی وقایع نگاری کی کوشش کرتا ہوں اس لیے حالات مجھ سے آگے نکل جاتے ہیں خصوصاً وہ حالات جن کے پیچھے کوئی نظریہ نہیں ہوتا جو محض وقت کی پیداوار ہوتے ہیں۔

بہر کیف ہر روز لکھنا ہے جب عمران نے بلا سوچے سمجھے یا کسی سے مشورہ کیے بغیر سول نافرمانی کی بات کہی کہ ٹیکس وغیرہ مت دو اور عیش کرو، نہ بجلی نہ گیس تو میں نے اپنے ایڈیٹر چوہدری صاحب سے کہا کہ میں تو اب آپ کو کالم نہیں دوں گا اور سول نافرمانی کروں گا ،ایڈیٹر نے خوش ہو کر کہا بالکل درست ہے لیکن تنخواہ بھی نہیں ملے گی کہ یہ دفتر والوں کی سول نافرمانی ہو گی۔

دنیا کے انقلابی معرکوں میں پاکستان کا یہ پہلا معرکہ ہے جو بیک وقت دو مختلف قسم کے لیڈروں کی قیادت میں چل رہا ہے اور شانہ بشانہ چلے جا رہا ہے۔ ایک انقلابی گروہ کسی جگہ پہنچتا ہے تو دوسرا قدرے توقف کے بعد وہاں پہنچ جاتا ہے کیونکہ دونوں کے راستے بھی ایک ہی ہیں بلکہ یہ دونوں ایک ہی مقام سے شروع ہوئے ایک ہی منزل کے لیے اور آگے پیچھے چلتے ہوئے منزل مراد کے قریب ایک ہی وقت پر پہنچ گئے۔

ایسے لگتا ہے جیسے ان دونوں انقلابی گروپوں کو کسی ایک نے ہی منظم کیا اور پھر دونوں کو ایک ہی منزل کی طرف دھکا دے دیا۔ اب یہ دونوں گروہ ایک ہی مقام پر قریب قریب خیمہ زن ہیں یا نعرہ زن ہیں لیکن ابھی تک ان کے درمیان لڑائی نہیں ہوئی جو تعجب کی بات ہے اور ان جلوسوں کے منتظم کو داد دیجئیے۔ حالات اس قدر تیز رفتار ہیں کہ اب کل تک چھٹی،کہ نہ جانے کیا ہو گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔