ہیجان خیز فضا

نصرت جاوید  جمعرات 21 اگست 2014
nusrat.javeed@gmail.com

[email protected]

اسلام آباد میں ایک نہیں دو انقلابی جماعتوں نے ہمیں اتنا مصروف رکھا کہ اور کسی معاملے پر نظر ہی نہیں پڑی۔ مسلسل ہیجان برپا رکھنے والی اس فضاء میں میڈیا کا کاروبار بھی چمک اُٹھا۔ 24/7چینل والوںکو Entertainment Slotsسوچنے اور انھیں تیار کرنے کی ضرورت ہی نہیں رہی۔ شام ڈھل جائے تو Liveکیمروں کو ایک سے دوسرے دھرنے تک کٹ کرتے ہے۔ وہاں جوشیلی تقریروں کے ساتھ ہی ساتھ رقص وموسیقی کے تڑکے بھی لگائے جا رہے تھے۔ ان کی وجہ سے اسکرین بڑی پُررونق بن جاتی۔

تماش بینی کی قومی علت سے حظ اٹھاتے ہوئے مگر ہم بھول گئے ہیں کہ پاکستان دُنیا سے کٹے ہوئے کسی جزیرے کا نام نہیں۔ 20کروڑ کا یہ ملک افغانستان وایران کا ہمسایہ ہے۔ ان ہمسایوں سے کہیں بڑھ کر دفاعی اور قومی سلامتی امور کے حوالے سے ایک ملک بھارت بھی ہے۔ اس ملک کے ساتھ ہماری 1948ء اور کارگل جیسی جھڑپوں کے علاوہ 65ء اور 71ء والی جنگیں بھی ہوچکی ہیں۔ اس صدی کے آغاز میں پورا ایک سال دونوں ممالک کی فوجیں سرحد کے اوپر حالتِ جنگ جیسی صورت میں موجود رہیں۔ برطانیہ اور امریکا کو بڑی کاوشوں کے بعد حالات کو پرامن بنانا پڑا۔

اس حوالے سے آپ کو یہ بھی یاد دلاتا چلوں اسرائیل نے بھی بڑا اہم کردار ادا کیا تھا۔ اس ملک کے ہزاروں نوجوان بھارت میں چھٹیاں منانے آتے ہیں۔ جب بھارت اپنی افواج کو حالتِ امن کی پوزیشن میں لے جانے کو بالکل تیار نہیں ہو رہا تھا تو اچانک اسرائیل نے اپنے طیارے دہلی، بمبئی اور گوا وغیرہ پہنچادیے اور اپنے شہریوں کو اطلاع دی کہ وہ فوراً بھارت سے اپنے ملک واپس لوٹ جائیں کیونکہ پاکستان اور بھارت میں ’’ایٹمی‘‘ جی ہاں ’’ایٹمی‘‘ جنگ شروع ہونے والی ہے۔

اسرائیل کے اس اقدام نے سیاحت سے وابستہ تمام بھارتی دکانداروں کو بہت پریشان کردیا اور اٹل بہاری واجپائی کی BJPبنیادی طورپر دکانداروں کی جماعت تھی۔ ان کی تشویش دور کرنے کے لیے واجپائی نے اپنی فوجوں کو حالتِ امن والی پوزیشن میں واپس بلا لیا۔ دونوں ممالک کی معیشت کو کئی مہینوں تک اپنی افواج کو سرحدوں پر تعین رکھنے سے مگر شدید دھچکے لگ چکے تھے۔

بھارت میں ایک بار پھر BJPکی حکومت ہے۔ نریندرمودی مگر دکانداروں کا نہیں Multi Nationalsاور اجارہ دار صنعتی خاندانوں کا نمایندہ ہے۔ وہ بنیادی طورپر ہندو انتہاء پسند بھی ہے۔ اس کی Core Constituencyاس بات پر بہت مایوس ہوئی کہ سارک سربراہوں کو اپنی حلف برداری کی تقریب میں بلانے کے نام پر اس نے پاکستان کے وزیر اعظم کے ساتھ ’’جپھیاں‘‘ ڈالنے کی کوشش کی۔ اپنے چاہنے والوں کی تشویش کو دور کرنے کے لیے ایسی کوئی چال چلنے کی شدید ضرورت تھی۔ اور بالآخر اسے یہ موقع ملک گیا۔

کئی مہینوں سے رکے ہوئے پاک۔بھارت مذاکرات کا 25اگست سے باقاعدہ آغاز ہونا تھا۔ جب بھارتی وزارتِ خارجہ کے سیکریٹری کو اسلام آباد آکر اپنے ہم منصب سے بات چیت کرنا تھی۔ دو دہائی سے زیادہ عرصے سے پاکستان ایسے مذاکرات شروع کرنے سے پہلے ہمیشہ باقاعدہ طور پر کشمیری قیادت سے رابطے کرتا ہے۔ مقصد اس کا یہ پیغام دینا ہوتا ہے کہ بھارت کے ساتھ امن کی تلاش میں انھیں بھلایا نہ جائے گا۔

اسی روایت کو ذہن میں رکھتے ہوئے نئی دہلی میں پاکستان کے سفیر نے کشمیری قیادت سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا اور مودی حکومت نے یہ اعلان کرکے 25اگست کو اپنے سیکریٹری خارجہ کو اسلام آباد بھیجنے سے انکار کردیا کہ پاکستان یا تو بھارت سے مذاکرات کرے یا بقول اس کے ’’کشمیری علیحدگی پسندوں‘‘ سے۔

ایمان داری کی بات ہے کہ بھارتی خارجہ پالیسی کے بارے میں ماہر مانے جانے والی صحافیوںاور مبصرین کی اکثریت نے مودی کے اسی فیصلے کو پسند نہیں کیا۔ ان کا خیال ہے کہ مودی نے درحقیقت ایک پرانی روایت یعنی پاکستانی سفیر کا کشمیری قیادت سے ملاقاتیں کرنا کے بارے میں Over Reactکیا ہے۔ کئی مبصرین نے اسے اپنے ہی خلاف گول کر دینا بھی ٹھہرایا۔ مودی مگر ٹس سے مس نہیں ہو رہا۔

بھارتی وزیر اعظم نے جو قدم اٹھایا اسے ہماری وزارتِ خارجہ نے صحیح طور پر خواہ مخواہ کی عذر تراشی ٹھہرایا ہے۔ مگر نواز شریف کے قومی سلامتی اور خارجہ امور پر نظر رکھنے والے مشیروں نے اس اعلان کو ایک اور انداز میں دیکھا۔ ان کی اکثریت کا خیال ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نے 25اگست والی ملاقات کے خلاف فیصلہ دراصل بے ثباتی والے اس ماحول کی وجہ سے کیا ہے جو دو انقلابی جماعتوں نے اسلام آباد میں دھرنوں کے ذریعے بنا رکھا تھا۔ بھارت سے آئے اس ’’پیغام‘‘ کے بعد جلتی پر تیل کا کام یورپی سفیروں کی تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی سے منگل کی صبح ملاقات نے کیا۔

اس ملاقات میں تحریک انصاف کے رہ نما سے ان سفیروں نے وعدہ یہ لیا کہ ریڈ زون میں داخل ہوجانے کے بعد آزادی مارچ کے ’’جنونی‘‘ سفارت خانوں کا رُخ نہیں کریں گے۔ خارجہ امور کی باریکیوں کو سمجھنے والے جانتے ہیں کہ اس قسم کی ملاقاتوں سے سفارت کار پیغام یہ بھی دیتے ہیں کہ انھیں حکومت کی طرف سے ان کی سیکیورٹی کے بارے میں دلائی گئی تسلیوں پر اعتبار نہیں رہا۔ اسی لیے طویل غوروخوض اور صلاح مشورے کے بعد اسی دن کی سہ پہر چوہدری نثار نے پریس کانفرنس کی جس کے دوران اعلان کیے گئے فیصلوں کا نتیجہ آپ میرا یہ کالم چھپنے تک اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہوں گے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔