عید قرباں اور ہمارا اجتماعی رویہ

یہ ایک ناقابل ِ تردید حقیقت ہے کہ کراچی مسائل کا شہر ہے۔



یہ ایک ناقابل ِ تردید حقیقت ہے کہ کراچی مسائل کا شہر ہے۔ یہاں رہنے والا ہر فرد روزمرہ زندگی میں کسی نہ کسی مشکل کا سامنا کرتا ہے، خواہ وہ ٹریفک کا دباؤ ہو، بنیادی سہولیات کی کمی ہو یا انتظامی بے ترتیبی، لیکن اس حقیقت کا ایک اور پہلو بھی ہے جسے ہم عموماً نظر انداز کر دیتے ہیں، اور وہ یہ کہ ان مسائل میں ایک بڑا حصہ خود شہریوں کے اپنے پیدا کردہ مسائل کا بھی ہے، یعنی جہاں ایک طرف ہم انتظامیہ کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں، وہیں دوسری طرف ہمارا اپنا طرز عمل بھی شہری زندگی کو پیچیدہ بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔بالخصوص مذہبی تہواروں کے مواقع پر یہ صورتحال مزید شدت اختیار کر لیتی ہے۔ جیسے جیسے عید الاضحی قریب آتی ہے، شہر میں ایک خاص قسم کی بے ترتیبی اور بدنظمی دیکھنے میں آتی ہے، جسے ہم ایک روایت کے طور پر قبول کر چکے ہیں، حالانکہ اس کے نتیجے میں شہری زندگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔

عید الاضحی کی آمد سے تقریباً ایک ماہ قبل ہی شہر میں مویشی منڈیوں کا قیام شروع ہو جاتا ہے۔ اصولی طور پر یہ منڈیاں شہر سے باہر قائم کی جانی چاہئیں تاکہ شہری علاقوں میں رش اور ٹریفک کے مسائل پیدا نہ ہوں۔ ماضی میں اسی مقصد کے تحت کچھ اقدامات بھی کیے گئے، لیکن عملی طور پر صورتحال مختلف نظر آتی ہے۔ کراچی شہر کے مصروف ترین علاقوں میں عارضی منڈیاں قائم کر دی جاتی ہیں، جن کے باعث ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔

 ہمارے ایک دوست کو اسپتال جانا تھا، جو کہ ایک نہایت اہم طبی ادارہ ہے، وہ لیاقت آباد سے حسن اسکوائر کی جانب روانہ ہوئے، جو عام حالات میں چند منٹوں کا سفر ہے، لیکن اس روز یہ مختصر فاصلہ ایک طویل آزمائش میں بدل گیا۔ ٹریفک اس قدر جام تھا کہ پانچ سے دس منٹ کا سفر تقریباً تیس منٹ میں طے ہوا۔ جب اس تاخیر کی وجہ معلوم کرنے کی کوشش کی گئی تو پتہ چلا کہ جانوروں کے حوالے سے ایک ’’کیٹل شو‘‘کا اہتمام ہے، جہاں بڑی تعداد میں لوگ جانور دیکھنے کے لیے آ رہے ہیں، جس کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ کیا یہ انتظامی غفلت نہیں؟

 یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مویشی منڈیوں کو شہر سے باہر منتقل کرنے کا مقصد ہی یہ تھا کہ شہری علاقوں میں ٹریفک کا دباؤ کم ہو اور عوام کو سہولت ملے، لیکن اگر وہی منڈیاں دوبارہ شہر کے اندر، وہ بھی مصروف شاہراہوں کے قریب مختلف ناموں سے قائم کی جائیں، تو پھر اس پالیسی کا فائدہ کیا رہ جاتا ہے؟

 اسی طرح ایک اور سنگین مسئلہ تجاوزات کا ہے، جو عید کے دنوں میں مزید بڑھ جاتا ہے۔ کراچی شہر کی بڑی سڑکوں، گلیوں اور فٹ پاتھوں پر چارے کی فروخت کرنے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے۔ جگہ جگہ گھاس، بھوسہ اور دیگر چارہ سڑکوں کے کنارے رکھ کر فروخت کیا جاتا ہے، جس کے باعث نہ صرف ٹریفک کی روانی متاثر ہوتی ہے بلکہ پیدل چلنے والوں کے لیے بھی مشکلات پیدا ہو جاتی ہیں۔

 یہ صورتحال اس لیے بھی تشویش ناک ہے کہ کراچی میں شہری حکومت وقتاً فوقتاً تجاوزات کے خلاف آپریشن کرتی رہتی ہے۔ چھوٹے دکانداروں اور ریڑھی بانوں کے خلاف کارروائیاں بھی دیکھنے میں آتی ہیں، لیکن جب بات بڑے پیمانے پر سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر چارہ فروخت کرنے کی ہو تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قانون کی عملداری کہیں کھو جاتی ہے۔

 تاہم اس تمام تر صورتحال میں صرف انتظامیہ کو ذمے دار ٹھہرانا بھی مناسب نہیں ہوگا۔ شہریوں کا اپنا کردار بھی اس مسئلے میں کم اہم نہیں ہے۔ ہم خود بھی ایسے رویے اختیار کرتے ہیں جو مسائل کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر، بہت سے لوگ سڑک کے درمیان گاڑی کھڑی کر کے چارہ خریدتے ہیں۔ یہ ایک معمولی سی بات معلوم ہوتی ہے، لیکن اس کے اثرات بہت بڑے ہوتے ہیں۔ ایک گاڑی کے رکنے سے پیچھے آنے والی گاڑیوں کی قطار لگ جاتی ہے، اور دیکھتے ہی دیکھتے ٹریفک جام ہو جاتا ہے۔

یہاں سوال یہ نہیں کہ سہولت کہاں ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنی سہولت کے لیے دوسروں کو اذیت میں مبتلا کرنے کے لیے تیار ہیں؟ اگر جواب ہاں میں ہے، تو پھر ہمیں اس بات پر بھی غور کرنا ہوگا کہ ہم کس قسم کے معاشرے کی تشکیل کر رہے ہیں۔

 مزید برآں، گھروں کے باہر اور گلیوں میں جانور باندھنے کا رجحان بھی ایک بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ بعض افراد عید سے کئی ہفتے قبل ہی جانور خرید کر اپنے گھروں کے سامنے یا حتیٰ کہ فلیٹس کے اندر لے آتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں صفائی کے مسائل، بدبو اور شور جیسی شکایات جنم لیتی ہیں۔ پڑوسیوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

 یہاں ایک بنیادی سوال اٹھتا ہے۔ کیا ہم اپنے پڑوسیوں کے حقوق سے آگاہ ہیں؟ اور اگر ہیں تو کیا ہم ان کا خیال رکھتے ہیں؟ بدقسمتی سے، اکثر صورتوں میں جواب نفی میں ہوتا ہے۔ ہم اپنے عمل کو ایک مذہبی جوش کا نام دے کر اس کے منفی اثرات کو نظر انداز کر دیتے ہیں، حالانکہ مذہب خود ہمیں دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔ اسی طرح گلیوں اور فٹ پاتھوں پر بڑے جانور باندھ دینا بھی ایک عام کلچر بن چکا ہے۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف ٹریفک متاثر ہوتی ہے بلکہ پیدل چلنے والوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ صورتحال ایک باشعور فرد کے لیے ذہنی کوفت کا باعث بنتی ہے، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اس کا احساس کم ہی لوگوں کو ہوتا ہے۔

مزید یہ کہ ان جانوروں کی آوازیں اور ان کے ارد گرد جمع ہونے والے لوگوں کا شور، ایک اضافی مسئلہ پیدا کرتا ہے۔ ایک پرامن ماحول، جو ہر شہری کا حق ہے، اس شور شرابے کی نذر ہو جاتا ہے، لیکن اس تمام صورتحال میں نہ تو انتظامیہ کی طرف سے کوئی موثر کارروائی دیکھنے میں آتی ہے اور نہ ہی عوام کی طرف سے کوئی سنجیدہ خود احتسابی۔

 ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس مسئلے کو ایک جامع تناظر میں دیکھیں۔ یہ محض انتظامیہ کی ناکامی یا عوام کی بے احتیاطی کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ ایک مشترکہ ذمے داری ہے۔ شہری حکومت کو چاہیے کہ وہ بہتر منصوبہ بندی کرے، قانون پر یکساں عملدرآمد یقینی بنائے اور ایسے اقدامات کرے جن سے شہری زندگی متاثر نہ ہو۔دوسری جانب، عوام کو بھی اپنے طرزِ عمل پر غور کرنا ہوگا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ شہری زندگی میں نظم و ضبط کی اہمیت کیا ہے اور ہم کس طرح اپنے رویوں کے ذریعے اس نظم کو برقرار رکھ سکتے ہیں۔

مزید برآں، سماجی اور مذہبی رہنماؤں کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ مساجد کے خطیب اور دیگر مذہبی شخصیات کو چاہیے کہ وہ اپنے خطبات میں اس مسئلے کو اجاگر کریں اور عوام کو اس بات کا شعور دیں کہ مذہبی فرائض کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنا بھی بہت ضروری ہے۔

 اگر ہم واقعی ایک بہتر اور مہذب معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی ترجیحات اور رویوں پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ قربانی صرف دکھاوے کا نام نہیں، بلکہ اس میں نظم، ذمے داری اور باہمی احترام بھی شامل ہے، اگر ہم ان اصولوں کو نظر انداز کریں گے تو مسائل کا یہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوگا اور ہم ہر سال انھی مشکلات کا سامنا کرتے رہیں گے۔