(بات کچھ اِدھر اُدھر کی) - عمران رے عمران تیری کونسی کل سیدھی

قیصر اعوان  جمعرات 21 اگست 2014
خان صاحب کی باتوں کی وجہ سے اُن کو ماسٹر آف یو ٹرن کہا جانے لگا ہے اور کہیں تو میں نے یہ بھی سُنا کہ عمران رے عمران تیری کونسی کل سیدھی۔ فوٹو: ایکسپریس

خان صاحب کی باتوں کی وجہ سے اُن کو ماسٹر آف یو ٹرن کہا جانے لگا ہے اور کہیں تو میں نے یہ بھی سُنا کہ عمران رے عمران تیری کونسی کل سیدھی۔ فوٹو: ایکسپریس

عمران خان اور طاہرالقادری نے اپنے اپنے آزادی مارچ اور انقلاب مارچ کے ہمراہ اپنے وعدوں کے عین مطابق ریڈ زون میں ڈیرے ڈال دیئے ہیں  جہاں دونوں افراد کارکنوں اور مظاہرین کے خون کو گرم کرنے کے لیے گرم گرم اعلانات اور باتیں کررہے ہیں ۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ عمران خان نے انتہائی ناشائستہ زبان استعمال کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کے اُن کا مطالبہ سُن کر حکمرانوں کی شلواریں گیلی ہو گئی ہیں، یہاں میں یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کے کہ انہوں نے پسینے سے شلواریں گیلی ہونے کی بات کی ہے آپ برائے مہربانی کچھ اور نہ سمجھیں، یہ الگ بات ہے کہ میں نے پسینے سے شلواریں گیلی ہونے کی بات پہلی مرتبہ سنی ہے، اگر آپ نے سنی ہو تو میں کچھ کہہ نہیں سکتا۔ بہرحال خان صاحب نے کہا ہے تو کچھ سوچ کر ہی کہا ہو گا۔ ویسے بھی عمران خان کی قابلیت پرتو کوئی شک کر ہی نہیں سکتا۔

ابھی کل کی بات ہے کہ ایک پی ٹی آئی کے کارکن سوشل میڈیا پر کہہ رہے تھے کہ ہمارے لیڈر ’’ Master of Politics and Economics ‘‘ ہیں آکسفورڈ یونیورسٹی سے، وہیں ایک شخص نے ان کارکن کی تصحیح کو اپنا اوّلین فرض سمجھتے ہوئے فوری اصلاح کی کہ خان صاحب ’’ Bachelor of Politics and Economics ‘‘ ہیں ماسٹر ڈگری تو انہوں نے U Turn میں لی ہوئی ہے اور اسی مناسبت سے اُنہیں ’’Master of U Turn ‘‘ بھی کہا جاتا ہے ۔ لوگ بھی نا بس ۔۔۔جو منہ میں آئے بول دیتے ہیں۔ اب خان صاحب نے وعدہ کیا تھا کہ دھرنا اور مارچ آئینی ہوں گے، اور سول نافرمانی تو اُن کا جمہوری حق ہے اور حق چھیننا پڑتا ہے پلیٹ میں رکھ کر کوئی نہیں دیتا، ہم تواس وعدہ وفائی پر کچھ نہیں بولے۔ خان صاحب کے اس اندازِ وعدہ وفائی پر پی ٹی آئی کے جیالے پھولے نہیں سما رہے کہ ’’دیکھا خان کا باؤنسر‘‘ ’’دیکھا ہمارے لیڈر کا باؤنسر‘‘ اور میرے جیسے اِسے یونہی خان صاحب کی بال ٹیمپرنگ سمجھتے رہے، ہم بیچارے سادہ لوگ کہاں جانیں کرکٹ کے داؤپیچ۔

معید پیرزادہ کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں، ایک صاحب مجھ سے کافی دیر بحث کر تے رہے کہ پیرزادہ صاحب پی ٹی آئی کے رہنما ہیں اور مجھے اُنہیں بڑی مشکل سے قائل کرنا پڑا کہ بھائی وہ ایک نامور صحافی ہیں ۔۔۔بھلا کہاں پی ٹی آئی اور کہاں معید پیرزادہ۔۔۔کہاں پیر کہاں سوموار۔ چلیں چھوڑیں اس بحث کو اصل بات کی طرف آتے ہیں، معید پیرزادہ نے کہا ہے کہ میں تاریخ کا سب سے بڑا ہجوم دیکھ رہا ہوں۔۔۔ہاں جی ، ہاں جی یہ اسلام آباد والے دھرنے کی ہی بات کر رہے ہیں۔۔۔نہیں جی انہوں نے اپنی عینک طاہرالقادری سے بالکل بھی نہیں بدلوائی، بلکہ معید پیرزادہ تو عینک لگاتے ہی نہیں ہیں۔۔۔کیا لگاتے ہیں؟ تو پھر قادری صاحب نہیں لگاتے ہوں گے۔ یہاں میں آپ کے علم میں اضافہ کرتا چلوں کہ 1994 ء میں انگلش سنگر ’’روڈ سٹیورٹ‘‘ کے گانے سننے کے لیے پینتیس لاکھ لوگ جمع ہو گئے تھے اور وہ بھی برازیل میں ، واقعی جنون کا کوئی مول نہیں ہوتا۔ ۔۔ ’’عطااللہ عیسیٰ خیلوی ‘‘ اس بات کو دل پر نہ لیں ، میرا مقصد اُن کا دل دُکھانا نہیں تھا۔

خان صاحب نے شاہدآفریدی کو للکارتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تحریکِ انصاف جوائن کر لیں ورنہ یہ قوم اُنہیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ خان صاحب جانے دیں اپنی لڑائی میں آفریدی بیچارے کو کیوں گھسیٹتے ہیں یہ قوم اُن سے بڑا پیار کرتی ہے جیسے کبھی آپ سے کرتی تھی۔ آفریدی سے یاد آیا میاں صاحب آجکل نہ جانے کیوں مصباح الحق کی طرح بیٹنگ کر رہے ہیں، میاں صاحب تھوڑا تیز کھیلیں یہ نہ ہو کہ امپائر کو ہی مداخلت کرنی پڑ جائے ۔

عمران خان اور قادری صاحب نے دو الگ الگ موقعوں پر اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ اُن کے کارکن پُرامن رہیں گے، حیرت ہے ہاتھوں میں ڈنڈے پکڑ کرکوئی کیسے پُرامن رہ سکتا ہے۔ معاف کیجئے گا میں جھنڈے کی جگہ ڈنڈے کہہ گیا۔ جھنڈوں کا ذکر چل ہی پڑا ہے تو اس کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے میں یہاں دونوں لیڈروں سے اپیل کروں گا کے آپ یومِ آزادی کے موقع پر رنگ برنگے ترنگے لہرا لہرا کر سبز ہلالی پرچم کی بڑی بے توقیری کر چکے، مگراب ہوش میں آجائیں اور اس فساد اور نفرت کی سیاست کو ترک کر کے اس ارضِ پاک کی ترقی میں اپنا حصّہ شامل کریں۔ اگر ایک معصوم جان بھی اس مفاد کی سیاست کی نظر ہوئی تو یہ قوم آپ کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔

نوٹ: روزنامہ ایکسپریس  اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر،   مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف  کے ساتھ  [email protected]  پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس بھی بھیجے جا سکتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔