اگر آپ لاہور کے شاہی قلعے کی بلند و بالا فصیلوں کے سائے میں کھڑے ہوں تو شاید آپ کو اندازہ بھی نہ ہو کہ آپ کے قدموں کے نیچے ایک ایسی دنیا آباد ہے جو صدیوں تک تاریکی، خاموشی اور رازوں میں ڈوبی رہی۔
لاہور کے تاریخی شاہی قلعے کے نیچے موجود درجنوں زیرزمین چیمبرز، راہداریاں اور تہہ خانے حالیہ بحالی کے کام کے دوران دوبارہ منظرعام پر آ رہے ہیں۔ ان کمروں کے بارے میں کئی کہانیاں گردش کرتی ہیں۔ کچھ لوگ انہیں شاہی خاندان کی پناہ گاہیں قرار دیتے ہیں، بعض کے نزدیک یہ دشمنوں کے لیے عقوبت خانے تھے، جبکہ کچھ مورخین انہیں محض قلعے کے پیچیدہ تعمیراتی ڈھانچے کا حصہ سمجھتے ہیں۔
شاہی قلعے کے ایک نسبتاً تاریک زیرزمین کمرے میں کھڑی ناہید افتخار، جو آغا خان کلچرل سروسز پاکستان کے ساتھ بطور کنزرویشن مینیجر کام کر رہی ہیں، ان کمروں کی تاریخ بیان کرتے ہوئے ایک دلچسپ اعتراف کرتی ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ تاریخ میں ہمیں ان چیمبرز کے استعمال کے بارے میں واضح شواہد نہیں ملتے۔ یہ ان چند مقامات میں سے ایک ہیں جہاں تاریخ تقریباً خاموش ہے۔ ان کے مطابق جب بحالی کا منصوبہ شروع ہوا تو یہ تمام کمرے مٹی، گردوغبار اور نمی سے بھرے ہوئے تھے۔ بعض جگہوں پر چھتیں متاثر ہو چکی تھیں جبکہ کئی دیواروں میں گہری دراڑیں پڑ چکی تھیں۔ ہمیں معلوم تھا کہ یہاں کچھ غیرمعمولی موجود ہے، لیکن جوں جوں ملبہ ہٹتا گیا، ویسے ویسے نئی کہانیاں سامنے آتی گئیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کمروں کی تعمیر مختلف ادوار میں ہوئی۔ کچھ حصے جہانگیر کے دور سے منسوب ہیں جبکہ بعض تعمیرات شاہجہان کے عہد کی معلوم ہوتی ہیں۔ کئی کمروں کے ساتھ خشک طرز کے بیت الخلا ملے ہیں، جو عام مغلیہ تعمیرات میں کم ہی دکھائی دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض ماہرین کے نزدیک ممکن ہے ان کمروں میں ایسے افراد کو رکھا جاتا ہو جنہیں باہر نکلنے کی اجازت نہ ہو۔ تاہم ناہید افتخار اس بارے میں محتاط رہنے کا مشورہ دیتی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ہمارے پاس ایسا کوئی براہ راست تاریخی ثبوت موجود نہیں جو یہ ثابت کرے کہ یہ عقوبت خانے تھے۔ البتہ کچھ تعمیراتی خصوصیات ایسی ضرور ہیں جو اس امکان کو مکمل طور پر رد بھی نہیں کرتیں۔
صدیوں تک اندھیرے میں ڈوبے رہنے والے ان چیمبرز میں اب جدید روشنی کا نظام نصب کیا جا رہا ہے۔منصوبے سے وابستہ الیکٹریکل انجینیئر تنویر الدین کے مطابق سب سے بڑا چیلنج پانچ سو سال پرانی عمارت میں جدید برقی نظام نصب کرنا تھا۔
ایک حقیقت واضح ہے کہ لاہور کے شاہی قلعے کے نیچے موجود یہ خاموش دنیا اب دوبارہ زندہ ہو رہی ہے۔ صدیوں تک مٹی، تاریکی اور فراموشی میں دفن رہنے والے یہ چیمبرز جلد سیاحوں کے لیے کھول دیے جائیں گے، جہاں آنے والے لوگ صرف اینٹیں اور پتھر نہیں دیکھیں گے بلکہ ان رازوں کو محسوس کریں گے جو تاریخ اب تک پوری طرح بیان نہیں کر سکی۔