کالم میں دانشوری کا تڑکا

نصرت جاوید  منگل 26 اگست 2014
nusrat.javeed@gmail.com

[email protected]

مجھے اپنے بارے میں شدید گمان تھا کہ اسلام آباد پر مسلط ہوئے دو دھرنوں کی طوالت پورے ملک میں جو ہیجان پیدا کر رہی ہے‘ میں غالب کے ’’ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائے کیا‘‘ والے رویے کے ساتھ خود کو اس سے محفوظ رکھ پائوں گا۔ میرا یہ گمان مگر گزشتہ چند روز سے احمقانہ گھمنڈ ثابت ہو رہا ہے۔ اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود خود کو ہیجان کی اس فضاء سے لاتعلق رکھنے میں بری طرح ناکام ہو گیا ہوں۔

دن میں کئی بار دل و دماغ پر ہذیانی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ میرے ذہن میں غلط یا صحیح موجود ہیجان کے جو اصل اسباب ہیں انھیں بیان کرنے کی جرأت نہیں پاتا۔ کبھی کبھار جرأت کی اس کمی کو اشارے اور کنایوں کے ذریعے بیان کرنے کا ہنر میں سیکھ ہی نہیں پایا۔ عجز ہنر کی دریافت اکثر یہ سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے کہ لکھنا اور بولنا چھوڑ کر گوشہ نشینی اختیار کر لوں۔ خدا نے مگر اس گوشہ نشینی کو برقرار رکھنے کے اسباب و وسائل مجھ گنہگار کے مقدر میں نہیں لکھے۔

عمر کے اس حصے میں پہنچ چکا ہوں جہاں صحافت چھوڑ کر کسی اور شعبے سے متعلق ہو کر گزارہ نہیں چلا سکتا۔ قومی ہیجان سے کہیں زیادہ غصہ اس بات پر بھی آ رہا ہے کہ میں نے صحافت کے پیشے کو دیوانگی کے ساتھ کیوں اپنا لیا تھا۔ اپنا لیا تھا تو پھر ’’اپنی اوقات‘‘ میں رہنے کی عادت کیوں نہ پیدا کر پایا۔

مجھے عمران خان اور ان کی سیاست کے بارے میں شروع سے بہت تحفظات رہے ہیں۔ ’’اچھے دنوں‘‘ میں ان تحفظات کا اظہار میں اکثر پھکڑ پن کے تڑکوں کے ساتھ کرتا رہا۔ اس کے باوجود عمران خان جب اسلام آباد پہنچ گئے تو انتہائی خلوص اور غیر جانبدارانہ انداز میں ان کے دھرنے کا تجزیہ کرنے کی مسلسل کوشش کی۔ میرا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ عمران خان نے نوجوانوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو امید کی جوت جگا کر متحرک کیا ہے۔

میری دانست میں اس بحث میں اُلجھنے کی ہرگز ضرورت نہیں کہ تحریک انصاف کے دھرنے میں شرکاء کی اوسطاََ تعداد کیا رہی۔ وہ سیکڑوں میں ہوں یا لاکھوں میں، زیادہ بنیادی بات یہ ہے کہ مسلسل کئی روز تک ساون بھادوں کے اس بے رحم موسم میں لوگوں کو احتجاج کے لیے یکجا رکھنا کسی ’’جنون‘‘ کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ جذبوں کی یہ اسپرٹ برقرار رکھتے ہوئے اس ملک کو طویل البنیاد اصلاحات کے ذریعے سنوارنے کی کوشش کی جائے تو دلوں میں اُمیدیں اور اُمنگیں کئی برسوں تک موجزن رہ سکتی ہیں۔

عمران خان اگر اپنے اہداف کو حاصل نہ کر پائے تو ان کے متوالوں کے لیے مایوسی کا ایک طویل دور شروع ہو جائے گا۔ اپنی زندگی کے کئی برس میں نے مختلف وقفوں کے دوران اس مایوسی کو سہتے ہوئے گزارے ہیں۔ میں اپنے بچوں جیسے نوجوانوں کو مایوسی کے ایسے دوروں سے محفوظ رکھنے کا شدت سے طلب گار ہوں۔ معاملات کو مگر خوفناک حد تک Either/Or بنا دیا گیا ہے۔ کوئی صحافی اب عمران خان کا گرویدہ ہے یا ان کے مخالفوں سے لفافے لینے والا بکائو مال۔ درمیان کی کوئی راہ ہی باقی نہیں رہی۔

پھر ’’دل ہی تو نہ سنگ و خشت‘‘ یہ درد سے بھرتا ہے تو کبھی کبھار غصے کی شدت میں بھی مبتلا کر دیتا ہے اور کم از کم میرے ساتھ ’’بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ‘‘ والا معاملہ ہو جاتا ہے اور میں اس کیفیت سے اکثر گزرنا شروع ہو گیا ہوں۔ منٹو کے پاگل پن کے علاوہ اور کوئی مثال ذہن میں نہیں آتی۔ منٹو مگر افسانے لکھتا تھا اور ان کے دور میں ہمارے ہاں دوست اور دشمن کے خانوں میں تقسیم کرنے والی ایسی وحشت موجود نہیں تھی جو آج کل نظر آ رہی ہے۔ اسلام آباد کے دھرنوں کے بارے میں میرے اصل جذبات گئے بھاڑ میں۔ کالم تو لکھنا ہے اس لیے آج ’’دانشوری‘‘ فرما لینے میں کوئی حرج نہیں۔

پاکستان کو عالمی حالات کے تناظر میں رکھیے تو ہمارے ہاں موجود ہیجان کسی بھی حوالے سے یکتا نظر نہیں آ رہا۔ نیویارک ٹائمز کے لیے لکھنے والا تھامس فریڈمین آج کی دُنیا میں میرا سب سے زیادہ پسندیدہ لکھاری ہے۔ ان دنوں وہ Order vs Disorder کے نام سے مضامین کا ایک سلسلہ لکھ رہا ہے۔ یہ کالم لکھنے سے پہلے میں نے اس موضوع پر لکھے ہوئے کالموں کی تیسری قسط دو سے زیادہ بار پڑھی ہے۔ پاکستان کے موجودہ حالات میں اس کے مضامین کا عنوان میں ’’ثبات بمقابلہ انتشار‘‘ کہوں گا۔

اپنے تازہ ترین مضمون میں تھامس نے دل دہلا دینے والا انکشاف یہ کیا ہے کہ لاطینی امریکا کا معاشی عدم استحکام، افریقہ میں Ebola کی وباء، عراق اور شام کی مسلکی بنیادوں پر جاری وحشیانہ خانہ جنگی اور یوکرین کے واقعات نے ایسی ہولناک فضاء بنا دی ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلی بار 5 کروڑ انسانوں سے زیادہ لوگ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے پاس اپنا اندراج کروا چکے  ہیں۔ پانچ کروڑ سے زیادہ یہ بے بس انسان ان ممالک سے تعلق رکھتے ہیں جہاں کے لوگوں نے حال ہی میں نام نہاد ’’عرب بہار‘‘ وغیرہ کے ذریعے اپنے ظالم و جابر آمروں سے نجات پائی تھی۔

اپنے وطن سے دربدر ہوتے انسانوں کی ذلت و بے بسی پر غور کرتے ہوئے Dov Seidman نامی ایک امریکی مفکر نے دعویٰ کیا ہے کہ مصر اور عراق کے لوگوں نے اپنے آمروں سے ایک طویل جدوجہد سے ’’آزادی‘‘ تو حاصل کر لی۔ “Freedom From” والا مرحلہ طے کرنے کے بعد مگر وہ یہ فیصلہ نہ کر پائے کہ انھوں نے یہ آزادی ’’کیا کرنے‘‘ (Freedom To) کے لیے حاصل کی ہے۔ Dov کا اصرار ہے کہ Freedom To کا اصل مقصد اپنی پسند کی زندگی گزارنے کے امکانات کا حصول ہے۔ ایک ایسی زندگی جہاں آپ کھل کر اپنی رائے دے سکیں۔ اپنی پسند کی سیاسی جماعت سے وابستہ ہو سکیں اور مسلکی تقسیم سے نجات پا کر خوشیوں بھری زندگی کے امکانات دریافت کر سکیں۔

Dov اس بات پر بضد ہے کہ موجودہ دور میں آمرانہ نظام کے ذریعے کسی ملک پر ’’ثبات‘‘ اوپر سے یعنی حکمران اشرافیہ کے ذریعے مسلط کرنا ممکن نہیں رہا۔ انٹرنیٹ کے ذریعے مہیا کیے گئے ابلاغ اور اظہارِ رائے کے ذرایع دریافت ہو جانے کے بعد کسی طاقتور اور جابر اشرافیہ کی جانب سے اپنے ملک پر استحکام و ثبات نافذ کرنا اب ناممکن ہو گیا ہے۔ Digital انقلاب کے بعد “Freedom To” میں والی تحریک چل نکلے تو ریاست اپنے قدیم اور روایتی اداروں اور ہتھکنڈوں کے ذریعے اسے جبر کے ساتھ ختم نہیں کر سکتی۔ Freedom From سے Freedom To لے جانے والا راستہ بڑا طویل ہے۔ جہاں کئی مقامات پر خوفناک زلزلے اور بھونچال آتے رہیں گے۔ کسی ملک کی اشرافیہ خود کو بھونچالوں سے صرف اور صرف صبر اور طویل المدتی نظام کی پر خلوص تلاش کے ذریعے ہی بچا سکتی ہے۔

یہ سب بیان کرنے کے بعد میں ہرگز یہ فیصلہ کرنے کے قابل نہیں ہو سکا کہ اسلام آباد میں نظر آئے دھرنوں اور نواز حکومت کا ان کے بارے میں رویوں کو Freedom From کے خانے میں ڈالوں یا Freedom To والے کھاتے میں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔