انتخابی اصلاحات کی ضرورت

مقتدا منصور  جمعرات 28 اگست 2014
muqtidakhan@hotmail.com

[email protected]

ملک میں جاری سیاسی بحران کی کئی جہتیں اور پرتیں ہیں۔ اس بحران کو کسی ایک زاویے ،کسی ایک تناظرسے نہیں دیکھاجاسکتا۔یہ ان غلطیوں، خامیوں اور کمزوریوں کا منطقی نتیجہ ہے جن کی درستگی پر کبھی توجہ دینے کی کوشش نہیں کی گئی۔ بلکہ 67برس سے مقتدراشرافیہ (سیاسی اور غیر سیاسی دونوں) ان کے تسلسل پر اصرار کرتی رہی ہے۔نتیجتاً سنگین نوعیت کے مسائل میں گھرے عوام کبھی سیاسی عمل سے مایوس ہوکر ایک بار پھر آمریتوں کی تمناکرنے لگتے ہیں۔

کبھی کچھ اہل دانش پارلیمانی جمہوری نظام کی جگہ صدارتی نظام کے حق میں دلائل دینے لگتے ہیں ۔حالانکہ نصف صدی سے زائد عرصے پر محیط اس ملک کی تاریخ میں کبھی بالواسطہ ،کبھی بلاواسطہ صدارتی نظام کے کئی تجربات بھی ہوئے ۔جب کہ 32 برس آمریتیں بھی مسلط  رہیں۔مگر کسی بھی طرز حکمرانی کے ثمرات عوام تک نہیں پہنچ پائے ۔ اس لیے یہ دیکھنا ضروری ہوگیا ہے کہ آیا رائج ہونے والے نظام میں کوئی نقص ہے یا انھیں نافذ کرنے کے طریقہ کار میں خرابی ہے؟

نظام حکمرانی پر بحث کرتے وقت ہمیں دو باتیں ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے ۔ اول،ہمارا پورا ریاستی انتظامی ڈھانچہ انڈیا ایکٹ1935ء کے گرد گھومتا ہے ، جس کی بنیاد پارلیمانی جمہوریت پر رکھی گئی ہے۔ اس لیے جب تک پورا ریاستی ڈھانچہ تبدیل نہیں ہوجاتا،پارلیمانی نظم حکمرانی کی جگہ صدارتی یا کوئی اور نظام متعارف کرنا ممکن نہیں ہے۔ یہ بات بھی سمجھنے کی ہے کہ حکومتی نظام میں آدھا تیتراورآدھا بٹیر نہیں چلتا ہے ۔ لہٰذا ضروری ہے کہ پارلیمانی جمہوری نظام ہی کو اس کی اصل روح کے مطابق نافذ کرکے چلانے کی کوشش کی جائے۔

اس مقصد کے لیے انتخابی نظام میں بعض کلیدی نوعیت کی تبدیلیاں ضروری ہوگئی ہیں۔ دوئم،کسی بھی نظام میں خرابی نہیں ہوتی بلکہ اس کو چلانے کا طریقہ کار اس کی کامیابی یا ناکامی کا سبب بنتا ہے۔پڑوس میں بھارت ہے ،جس کا ہمارا صدیوں کا ساتھ ہے ۔ ہماری بے شمار قدریں مشترک ہیں ۔ یہ سوچنے کی ضرورت ہے جب بھارت میں پارلیمانی جمہوریت کامیاب ہوسکتی ہے، تو ہمارے یہاں کیوں نہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ پارلیمانی جمہوریت کو کامیاب بنانے کے لیے وہاں کی ابتدائی قیادت نے کیا اقدامات کیے ۔

لہٰذا  پارلیمانی نظام کو اس کی صحیح روح کے مطابق چلانے کے لیے یہ سوچنا پڑے گا کہ خود ہمیں کیا اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ہماری نظم حکمرانی کے وہ کون سے پہلو ہیں جن کے بارے میں عوام کی بڑی اکثریت شدید تحفظات رکھتے ہوئے نالاں نظر آتی ہے۔ ان خامیوں اور خرابیوں کا ادراک کرنے کے بعد سیاسی عزم و بصیرت کو بروئے کار لاتے ہوئے مثبت تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے۔ لیکن یہ تبدیلیاں بتدریج ہی لائی جاسکتی ہیں اور ایسا صرف پارلیمان کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ کیونکہ ماورائے آئین وپارلیمان کوئی بھی اقدام مسائل کو حل کرنے کے بجائے ان کی پیچیدگیوں میں مزید اضافہ کا سبب بنے گا۔

اس لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے انتخابی عمل میںاصلاحات کے ساتھ الیکشن کمیشن کی تشکیل نو پر توجہ دی جائے۔اس کے بعد پورے ملک میں یکساں مقامی حکومتی نظام کا نفاذ ضروری ہے ۔ کیونکہ مقامی حکومتی نظام کے بغیر عوامی مسائل کو نچلی سطح پر حل کرنا ممکن نہیںہے ۔

انتخابی اصلاحات اور الیکشن کمیشن کی تشکیل نو کے حوالے سےHRCP کراچی کے دفتر میں سول سوسائٹی کے نمایندوں کی میٹنگ ہوئی ، جس میں بعض اہم تجاویز سامنے آئیں ۔اس بارے میں پائلر کے کرامت علی اور بی ایم کٹی کا ایک مضمون یکم اکتوبر 2012 میںشایع ہواتھا ۔حالیہ دنوں میں PILDAT کے احمد بلال محبوب کا بھی ایک مضمون شایع ہوا ہے ، جس میں انھوں نے چند اہم اور قابل غور تجاویز پیش کی ہیں ۔ ہم بھی ایک سے زیادہ مرتبہ انتخابی طریقہ کار اور الیکشن کمیشن کی تشکیل نو کے بارے میں انھی صفحات پر اظہاریے تحریر کرچکے ہیں ، جن کا ایک بار پھر اعادہ کیے دیتے ہیں ۔

سب سے پہلے تو ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک میں متناسب نمایندگی کا نظام رائج کیا جائے۔ کم از کم 50فیصد نشستیں متناسب نمایندگی کی بنیاد پر انتخاب کے لیے مختص کی جائیں جیساکہ آج کل خواتین اور مذہبی اقلیتوں کے لیے مختص ہیں ۔ یہ نشستیں مختلف سماجی طبقات(شراکت داروں) کے لیے مخصوص ہوں، جن میں محنت کش (مزدو/ کسان)پیشہ ور طبقہ(انجینئر، ڈاکٹر،اساتذہ، وکلا)،صنعتکار و تاجر برادری اور مذہبی اقلیتیں وغیرہ شامل ہوں۔

اس کے علاوہ عام نشستوں کے لیے بھی متناسب نمایندگی کا طریقہ کا ر مخصوص Electables کی اجارہ داری سے نجات دلانے اور بہتر پارلیمنٹرین سامنے لانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ دوئم، NADRAکو ایک خود مختار ادارہ بنایا جائے اور اس کے چیئرمین کا تقرر پارلیمان کرے ، تاکہ وہ کسی جماعت یا فرد (وزیراعظم) کے براہ راست تابع نہ ہو ۔ بلکہ صرف پارلیمان کو جوابدہ ہو ۔ نادرا کا جاری کردہ شناختی کارڈ کثیر المقاصد ہونا چاہیے۔ جو مختلف مقاصد کے علاوہ رائے دہی کے لیے بھی استعمال کیا جانا چاہیے۔

الیکشن کمیشن اپنی علیحدہ ووٹرزلسٹ تیار کرنے کے بجائے نادراکی جاری کردہ فہرست کو استعمال کرے ۔اسی طرح مردم شماری کے لیے ایک صدی پرانے طریقہ کار پر تکیہ کرنے کے بجائے نادرا کے Data-baseکو ہی مردم شماری کے لیے استعمال کیاجائے ۔ عوام کو نادرا میں زیادہ سے زیادہ رجسٹر کرنے کے لیے اس کی گشتی ٹیمیںہر شہر اور گائوں میں بھیج کر ہر شہری کی رجسٹریشن کو یقینی بنایا جائے ۔

الیکشن کمیشن کی تشکیل نو کے لیے پارلیمان میں موجود تمام جماعتوں کے نمایندوں پر مشتمل ایک کمیشن تشکیل دیاجائے ، جو کمیشن کے اراکین کا میرٹ پر تقرر کرے ۔ اس سلسلے میں سابقہ ججوں کے بجائے اچھی شہرت کے حامل سابقہ بیوروکریٹس کا انتخاب عمل میں لایا جائے ۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کا کام عدالتی نوعیت کے بجائے خالصتاً انتظامی نوعیت کا ہوتا ہے ، جس کے لیے انتظامی تجربہ رکھنے والے اچھی شہرت کے افسران بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرسکتے ہیں۔

اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ اس نوعیت کے تمام اقدامات پارلیمان کے ذریعے ہی ممکن ہیں ۔کیونکہ پارلیمان کو نظر انداز کرکے کیا جانے والا ہر عمل ماورائے جمہوریت اور آئین ہوتا ہے ۔ مگر پاکستان میں جو کھیل کھیلا جا رہا ہے، وہ اس لحاظ سے خطرناک ہے کہ اگر آئین کسی بھی سطح پر Bypassکیا گیا تو یہ اپنی افادیت کھو بیٹھے گا اور پھر ایک نیا مشترک آئین بنانا ممکن نہیں ہوسکے گا ۔ ہوسکتا ہے کہ ہر صوبہ اپنا الگ آئین بنانے کی کوشش کرے، جس کے نتائج کو ہر شخص باآسانی سمجھ سکتا ہے ۔

ہم سمجھتے ہیں کہ عمران خان اور علامہ طاہر القادری وزیر اعظم کے استعفے کی ضد چھوڑ کر پارلیمان کو مضبوط بنانے کی کوشش کریں اور پارلیمان میں موجود اپنی ہم خیال جماعتوں کے ذریعے حقیقت پسندی پر مبنی قابل عمل اصلاحات لانے کی کوشش کریں ۔ انھیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ان کی ذرا سی لغزش اور بے جا ہٹ دھرمی اس ملک کو نئے بحران میں مبتلا کرنے کا سبب بن سکتی ہے ۔

یہ درست ہے کہ سانحہ لاہور میں شہید ہونے والے افراد کی رپٹ کا درج کیا جانا اور اس کے ذمے داروں کو عدالت کے کٹہرے میں لانا حکومت کی ذمے داری ہے ۔ اس لیے مسلم لیگ (ن) کی حکومت سے بھی یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے سیاسی رویوں میں تبدیلی لائے گی اورعوام کو انصاف کی فراہمی کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کرے گی ۔ اس کے علاوہ اس پر اقربا پروری کا جو الزام ہے ، اس سے بھی دامن بچانے کی کوشش کرے گی۔لیکن سب سے پہلے انتخابی اصلاحات کی اشد ضرورت ہے ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔