(بات کچھ اِدھر اُدھر کی) - ہماری تعلیمی ترجیحات

محمد نعیم  اتوار 7 ستمبر 2014
اگر انگریزی سیکھنے کے لیے ہم اِسی طرح اُردو سے مسلسل دور ہوتے رہے توپھر ہمیں اردو سکھانے کے لیے اردو لینگویج سینٹر کھولنے پڑیں گے۔ فوٹو: فائل

اگر انگریزی سیکھنے کے لیے ہم اِسی طرح اُردو سے مسلسل دور ہوتے رہے توپھر ہمیں اردو سکھانے کے لیے اردو لینگویج سینٹر کھولنے پڑیں گے۔ فوٹو: فائل

کہنے کو تو بحیثیت پاکستانی ہماری قومی زبان اردو ہے۔یہاں لاکھوں ایسے بھی ہوں گے جن کی مادری زبان بھی اردو ہے۔ کراچی اردو بولنے والوں کے اعتبار سے بھی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے۔ لیکن ایک المیہ ہے۔ اب اردو بولنے والوں کے بچے اردو پڑھتے بڑی دشواری سے ہیں۔ گرامر کی تو بات ہی نہیں کرتا ، اردو املاء تک لکھ نہیں سکتے۔ 

اگر یقین نہیں آ رہا تو اپنے گھر کے کسی بچے کو بلائیں ، اردو کی کوئی کتاب، اخبار یا میگزین اٹھائیں اور انہیں پڑھنے کو بولیں تو آپ کو اندازہ ہو جائے گاکہ ہمارے بچوں کے اردو پڑھنے لکھنے کی قابلیت کس قدر ہے۔ اپنے نونہالوں کی یہ حالت دیکھ کر آپ سوچیں گے کہ ایسا کیوں ہے۔ یہ ہر کلاس میں تو بڑے اعلیٰ نمبروں سے امتحان پاس کرتے ہے۔ ہمیشہ اے ون اور اے گریڈ لے کر آتا ہے۔

اس صورتحال کی کئی وجوہات ہیں۔ سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ ہم انگریزی سے متاثر ہو چکے ہیں۔ اتنے متاثر کے ہمارے بچے ماہانہ ہزاروں روپے فیس دے کر انگلش میڈیم اسکول میں ہی پڑھیں گے۔ اب انگلش ان کو آئے نہ آئے ان کا نصیب ، لیکن انگلش میڈیم اسکولز کے باعث ہمارے بچے اردو سے نابلد ہو چکے ہیں۔ صورتحال یہی رہی تو اگلی نسل کو اردو سکھانے کے لیے ہمیں ہر شہر میں اردو لینگویج سینٹر کھولنے پڑیں گے۔ میں نے اردو کی بات اس لیے کی ہے کہ یہ ہماری عام بول چال کی زبان ہے۔ اگر باقی مضامین کی صورتحال دیکھی جائے تو وہ بھی آپ کو ابتر ہی نظر آئے گی۔

ایک اور تجربہ کریں، کسی اسکول یا کالج میں جائیں۔ وہاں زیرتعلیم بچوں سے سوال کریں کہ آپ پڑھ کر کیا بنیں گے۔؟ جواب میں آپ کو ڈاکٹر، انجینئر، سائنسدان،سیاست دان،صحافی،مینیجر، آپ کو یہ سب بننے والے ملیں گے۔ لیکن کوئی کہ دے کہ میں استاد بنوں گا۔ ایسا شاذونادر ہی ہو سکتا ہے۔

پھر آپ مختلف اسکولز کے مالکان کے پاس جائیں۔ ان سے پوچھیں کہ آپ نے یہ اسکول کیوں کھولا ہے۔ ممکن ہے وہ اپنے آپ کو فروغ تعلیم کے لیے فکر مند ظاہر کرے۔ لیکن آپ اگر دوچار باتیں ہی ان سے کر لیں تو اندازہ ہو جائے گا کہ اسکول کھولنے کے پیچھے سب سے بڑا مقصد پیسہ کمانا ہے۔ آپ دیکھ لیں کہ ہر گلی میں کھلے ہوئے دس بارہ پرائیوٹ اسکولز کے نام کتنے بڑے ہیں اور وہاں کا معیار تعلیم کیسا ہے۔ وہاں پڑھانے والے تدریس اور بچوں کی نفسیات کا تجربہ کتنا رکھتے ہیں؟۔ ان اسکولوں میں تدریس جیسا اہم فریضہ انجام کون دے رہا ہے۔ وہ نوجوان جنہوں نے تعلیم تو حاصل کر لی ہے مگر انہیں کہیں ملازمت نہیں مل رہی۔ تو جب تک کہیں اور ملازمت نہ مل جائے اتنے دنوں تک ٹیچنگ کر کے ٹائم پاس کر رہے ہیں۔ یا وہ لڑکیاں جو تعلیم مکمل کر چکی ہیں اور ابھی تک ان کی شادیاں نہیں ہوئیں وہ اس دورانیے میں کسی اسکول میں پڑھانے چلی جاتی ہیں۔

گلی گلی کھلے پرائیویٹ اسکولز میں اساتذہ کو تین ہزار سے سات ہزار اور اگر کوئی بڑے نام والا اسکول ہو گا تو وہ دس یا بارہ ہزار تنخواہ دے رہا ہے۔ اس صورتحال میں آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اسکول کھولنے والے اور پڑھانے والے تعلیم اور حصول تعلیم والوں کے ساتھ کتنے مخلص ہوں گے اور کتنی محنت سے وہ تدریس کا فریضہ انجام دیتے ہوں گے۔ نہ تدریس کا کوئی تجربہ اور نہ کوئی تربیت!ایسے میں ہماری نسلیں کیا پڑھ اور سیکھ رہی ہیں؟ ایسے میں جب امتحانات ہوتے ہیں تو پرائیوٹ اسکولز میں پرچے انتہائی آسان بنائے جاتے ہیں۔ پھر بھی کوئی ان کو پاس نہ کر سکے تو اضافی نمبر دے کر پاس کیا جاتا ہے۔ چاہے بچے کو کچھ پڑھنا لکھنا آئے نہ آئے۔ ہم بھی رزلٹ کارڈ دیکھ کر خوش ہو جاتے ہیں۔ کبھی بھی یہ نہیں چیک کرتے کہ ہمارا بچہ لکھ پڑھ کیسا رہا ہے۔ یہ ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے۔

اور رہے سرکاری تعلیمی ادارے تو ان کی صورتحال پہلے سے ہی بہت ابتر ہے۔ کسی ایک اسکول یا ادارے کا نام کیوں لیں۔ محکمہ تعلیم سندھ کو ہی دیکھ لیں۔

کراچی کے ساڑھے سات ہزار اساتذہ انصاف کے لیے دھکے کھانے پر مجبورہیں تاحال ان کے مستقبل کا فیصلہ نہ ہو سکا۔ دو سال سے مختلف اسکولوں میں تعینات اساتذہ کے بارے میں ابھی تک یہ فیصلہ نہیں ہو سکا کہ ان کو ملازمت پر رکھنا ہے یا ان کی ملازمت ختم کرنی ہے۔ سندھ حکومت نے بھرتیاں جعلی قرار دے کر تنخواہیں دینے سے انکاری ہے۔ اورہزاروں اساتذہ سیاسی اختلافات کے بھینٹ چڑھے ہوئے ہیں۔ کل اسی کیس کے ایک متاثرہ دوست کا پیغام ملا کہ بھائی دعا کرو ہمارے حق میں جلد فیصلہ ہو جائے اور ہمیں ہماری رکی ہوئی تنخواہیں مل جائیں۔ کیوں کہ گھر کا خرچ اور بیوی بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے جن لوگوں سے تخواہ ملنے کی امید پر قرض لے کر گزارا کر رہے تھے۔ اب وہ بھی قرض کی واپسی کا تقاضا کرنے لگ گئے ہیں۔ ایسے میں یہ اساتذہ تعلیم کی فکر کریں گے یا اپنے گھر کا چولہا جلانے کے لیے دوڑ دھوپ کریں گے۔

آپ اپنے اردگر نظر دوڑائیں ،ہمیں پڑھے لکھے افراد تو بہت زیادہ ملیں گے۔ لیکن مہذب بہت کم،نہ بات کرنے کی تمیز، نہ اٹھنے بیٹھنے کی۔ بات کریں گے تو ایک جملے میں کئی گالیاں ہوں گی۔ روڈ پر چلیں گے تو کوئی ضابطہ نہیں ہو گا۔ نہ اساتذہ کا ادب نہ والدین کا احترام، یہ اسی وجہ سے ہو رہا کہ ہم نے تعلیم پر توجہ دینا چھوڑ دی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا بچہ بہترین نمبر لے، اچھے گریڈ میں پاس ہو کر کوئی ڈگری حاصل کرے اور پھرکوئی اچھی سے نوکری کر لے۔ ہم خالصتاً کاروباری ذہن رکھ کر اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے پیسہ خرچ کر رہے ہیں کہ آج اس کو فلاں تعلیم دلوانے پر اتنے خرچ کریں گے اور کل یہ اتنے کما کر دے دے گا۔ ہمیں اس بات کی کوئی فکر نہیں کہ یہ تعلیم اس بچے کی کوئی تربیت بھی کر رہی ہے یا نہیں۔

نوٹ: روزنامہ ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ[email protected] پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس بھی بھیجے جا سکتے ہیں۔

محمد نعیم

محمد نعیم

بلاگر کالم نگار اور رکن کراچی یونین آف جرنلسٹ ہیں۔ کراچی اپ ڈیٹس میں بحیثیت سب ایڈیٹر کام کررہے ہیں اور بلاگز کے ذریعے تبدیلی کے خواہشمند ہیں۔ ٹوئٹر پررابطہ [email protected]

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔