(کھیل کود) - ثانیہ مرزااورسسرال

حبیب اللہ  اتوار 7 ستمبر 2014
دعا ہے کہ ثانیہ مرزا جلد کوئی ٹائٹل اپنے نام کرلیں کیونکہ اب یہ ٹائٹل بھارت نہیں بلکہ پاکستان آئے گا جس کی سیدھی وجہ ہےکہ مشرق میں بہو کا سب کچھ سسرال سے منسلک ہوتا ہے اور ثانیہ کا سسرال اب پاکستان ہی تو ہے۔ فوٹو: فائل

دعا ہے کہ ثانیہ مرزا جلد کوئی ٹائٹل اپنے نام کرلیں کیونکہ اب یہ ٹائٹل بھارت نہیں بلکہ پاکستان آئے گا جس کی سیدھی وجہ ہےکہ مشرق میں بہو کا سب کچھ سسرال سے منسلک ہوتا ہے اور ثانیہ کا سسرال اب پاکستان ہی تو ہے۔ فوٹو: فائل

کچن میں ہنڈیا پر رکھا ہوا پانی ایکدم سے ابلنے لگا تو اپنے نرم بستر پرلیٹی ہوئی ساس کو فوراََ ہی خوشبو آگئی اور وہ چلا کر بولی ارے نکھٹو، کا م چور بہو کیا کر رہی ہے، کیا گھر جلائے گی سارا۔بیچاری پیاز کاٹتی ہوئی آنکھوں میں ٹسوے لیے بھاگتی ہوئی باورچی خانے جا پہنچی۔

نند کی دوستیں کیا آئیں، ایکدم سے حکم صادر ہوگیا، بھابھی جاؤ جا کر اچھی سی چائے بنا کر لاؤ اور ہاں ساتھ میں سموسے تلنا مت بھولنا، چکن رولز میں مرچیں زیادہ رکھنا پچھلی بار بھی کم تھیں۔

خاوند بڑے پیار سے آئس کریم لے کر آیا تو گھر میں کہرام مچ گیا ہائے ہائے اب آئس کریم بھی اپنی بیگم کو ہی کھلائے گا۔۔، لو اب خود کو ڈاکٹر نے منع کر رکھا ہے اور بہو کو کھاتے سوچ کر بھی دل میں ہول اٹھتے ہیں۔

پتہ نہیں کیا کیا سازشیں ہوتی رہتی ہیں ساس بہو کے رشتے میں۔ اور لگتا ہے جیسے ساس بہو کا رشتہ بھی کوئی امریکی سازش ہو۔ نندیں سی آئی اے کی جاسوس اور دیور بلیک واٹر کے ایجنٹ ہوں۔مگر کبھی کبھی اس سارے کھیل کو بہو اُلٹا بھی کر دیتی ہے اور اسرائیلی ایجنٹ بن کر سی آئی اے ، کانگریس اور بلیک واٹر سب پر راج کرتی ہے۔

قارئین یہ تو کہانی ہے گھر گھر چلنے والے بھارتی ڈراموں کی۔ مگر ہمارا یہ سب الاپ شلاپ بے وقت اور بھوکے پیٹ بکنے کا مقصد آپکی توجہ ایک اہم ، بلا وجہ اور قابلِ لڑائی قومی مسئلے کی طرف دلانا ہے بلکہ یہ مسئلہ اہم قومی مسئلہ ہونے کا ساتھ ساتھ دفاعی لحاظ سے بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے۔

مسئلہ کچھ یوں ہے کہ میرے اٹھارہ سے بیس کروڑ غیرت مند پاکستانی بھائی، بہنو، بیٹیو، غریبو، امیرو، مزدورو، کسانوں ، کام چورو اور آم چورو اور ہاں! بلا وجہ کے حکمرانو، ذرا غور سے سنو!

میرا ذاتی خیال ہے کہ ہمار ی قومی بہو ثانیہ مرزا زوجہ شعیب ملک، کو شادی کے بعد اب اپنے سسرال ملک پاکستان شفٹ ہو جانا چاہیے بلکہ پوری دنیا کے صحافیوں کو بلا کر ببانگِ دہل یہ اعلان کر دینا چاہیے کہ پاکستان میرا سسرال اور حتمی گھر ہے۔ اور آج کے بعد میری عزت شہرت اور تمام اعزازات میرے سسرال کے نام ہونگے۔

یہ صرف میرا خیال نہیں بلکہ بھارت کو بھی یہ خدشہ ہے کہ کہیں پاکستانی بہو پاکستان میں ہی منتقل نہ ہوجائے شاید یہی وجہ ہے کہ بھارت نے ایک سازش کے تحت ساس بہو کے خوفناک ڈرامے بنائے ہیں تاکہ ثانیہ مرزا کے دل میں ایک ڈر اور خوف بٹھایا جائے اور وہ اپنے سسرال پاکستان نہ جائے۔

دوسری طرف اگر ہم اپنی مشرقی روایات کو دیکھیں تو بھی بہو شادی کے بعد اپنے سسرال کے نام سے ہی جانی جاتی ہے اورا سکی عزت، ذلت، نام ، مرتبہ سب سسرال کے نام ہی ہوتا ہے۔ اسکی سب سے بڑی مثال اور گواہی پاکستانی اور بھارتی پرانی فلمیں ہیں جسمیں ماں باپ بیاہ کے وقت اپنی بیٹی کو یہی سبق دیتے ہیں ’’جا بیٹی جا آج کے بعد تیرے خاوند کا گھر ہی تیرا گھر ہے اور مرتے دم تک تم اسی کی ہو کر رہنا اُسکے گھر میں۔‘‘ اپنی مشرقی روایات اور معاشرتی اصولوں کی لاج رکھتے ہوئے انکو اب اپنے سسرال کی عزت ہی بڑھانی چاہیئے۔

اس اہم قومی مسئلے پر توجہ طلب کرنے کے لیے جب میں نے اپنے زیرو بیلنس کے ساتھ ’’بھائی ‘‘ کو لندن کال ملائی تو یہ رنگ ٹون سننے کو ملی ’’ آئے گی آئے گی آئے گی۔۔۔ کبھی تو ثانیہ سسرال آئے گی‘‘۔

ابھی ابھی بعض اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ ملک کی دو جماعتوں نے کنٹینر تیا رکرکے اسلام آبا دہرنی دینے کا اعلان کیا ہے او اسکو موجودہ حکومت کی نا اہلی کہا ہے اور ر دھمکی دی ہے کہ یہ دھرنی اس وقت تک جاری رہیگی جب تک ثانیہ مرزا پاکستان کو اپنا سسرال مان نہیں لیتی بلکہ یہاں شفٹ ہو کر اپنے تمام اعزازات اس کے نام نہیں کر دیتی۔ ورنہ ہم ڈی چوک کو سی چوک بنا دیں گیں اور ریڈ زون کو ریڈ اینڈ وائیٹ زون بنا دیں گیں۔

آ خر میں ایک خبر کہ ثانیہ مرزا یو ایس اوپن ڈبلز جیت چکی ہیں ۔۔۔ مگر چونکہ اِس ٹائٹل میں اُن کے پارٹنر کا بھی حق ہے اِس لیے اب میں بھی دعا کررہا ہوں اور آپ بھی کریں کہ قومی بہو جلد سنگلز میں کوئی ٹائٹل اپنے نام کرلیں کیونکہ اب یہ ٹائٹل بھارت نہیں بلکہ پاکستان آئے جس کی سیدھی وجہ تو اوپر بتاہی دی ہے کہ مشرق میں بہو کا سب کچھ سسرال ہوتا ہے ۔ اِس لیے ہماری نیک خواہشات ثانیہ بہو کے ساتھ  ہیں کہ وہ اس سے بھی بڑ ی کامیابیاں سمیٹیں اور اپنے سسرال کا نام روشن کریں۔

نوٹ: روزنامہ ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ[email protected] پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس بھی بھیجے جا سکتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔