وزیراعظم کے لیے

جاوید چوہدری  اتوار 7 ستمبر 2014
www.facebook.com/javed.chaudhry

www.facebook.com/javed.chaudhry

میاں صاحب آپ کو یاد ہو گا محترمہ بے نظیر بھٹو نے 16 نومبر 1992 کو آپ کی حکومت کے خلاف لانگ مارچ کیا تھا، غلام اسحاق خان صدر تھے اور جنرل آصف نواز آرمی چیف۔لانگ مارچ ناکام ہو گیا لیکن غلام اسحاق خان نے18 اپریل 1993 کو 58 ٹو بی کے تحت اسمبلیاں توڑ دیں‘آپ سپریم کورٹ چلے گئے‘ سپریم کورٹ نے 26 مئی 1993 کو آپ کی حکومت بحال کر دی، آپ جنگ جیت گئے لیکن اس جیت کا کیا نتیجہ نکلا‘ بے نظیر بھٹو نے16 جولائی 1993 کو ایک اور لانگ مارچ شروع کیا مگر ان کے اسلام آباد پہنچنے سے پہلے جنرل عبدالوحید کاکڑ نے18 جولائی 1993 کو آپ اور صدر غلام اسحاق خان دونوں سے استعفیٰ لے لیا۔

میاں صاحب آپ قسمت کے دھنی اور سیاسی بحرانوں کو روکنے کے ماہر ہیں‘ آپ نے محترمہ کا لانگ مارچ ناکام بنا دیا تھااور آپ سپریم کورٹ کی جنگ بھی جیت گئے تھے اور آپ کے رفقاء اور میڈیا نے آپ کو اس جیت پر مبارک باد پیش کی تھی‘ آپ بھی اپنی کامیابی پر خوشیاں منانے لگے لیکن پھر کیا ہوا؟ آپ دو دو دریا پار کرنے کے باوجود صرف آٹھ ماہ نکال سکے‘ آپ کی حکومت اور پارلیمنٹ 18 جولائی 1993 کو فارغ ہو گئی‘ کیوں؟ کیونکہ فارغ کرنے والوں نے آپ کو فارغ کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا‘ ایک آرمی چیف فوت ہو گیا‘ اس کی جگہ دوسرا آ گیا لیکن آپ کو چلنے نہیں دیا گیا چنانچہ آپ آٹھ ماہ بعد ایوان اقتدار سے باہر تھے‘ آپ اب 1993 سے 2014 میں آ جائیے‘ آپ 21 سال بعد ایک بار پھر اسی موڑ پر ہیں‘ آپ پر چاروں اطراف سے حملہ ہوا۔

آپ کی قسمت نے یاوری کی‘ عوام نے عمران خان اور علامہ طاہر القادری کا ساتھ نہ دیا‘ موسم نے بھی رنگ دکھایا‘ سراج الحق اور جاوید ہاشمی نے انتہائی مثبت کردار ادا کیا‘ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار پارلیمنٹ پوری طاقت کے ساتھ آپ کا قلعہ بن گئی‘ میڈیا تقسیم ہو گیا‘ جمہوریت پسند اینکرز اور کالم نگار گالیاں اور دھمکیاں کھاتے رہے لیکن آپ کے ساتھ کھڑے رہے‘ آصف علی زرداری ماضی فراموش کر کے آپ کے کندھے کے ساتھ کندھا جوڑ کر کھڑے ہو گئے‘ ایم کیو ایم اور جے یو آئی ف نے بھی اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کیا اور رہی سہی کسر عمران خان کے کنسرٹس‘ ناچ گانے اور ضد نے پوری کر دی اور یوں آپ سرخرو ہو گئے لیکن آپ یہ بات ذہن میں رکھیں آپ کی یہ کامیابی عارضی ہے‘ آپ کو فارغ کرنے کا فیصلہ ہو چکا ہے اور آپ کے پاس بمشکل چند ماہ ہیں۔

آپ نے اگر یہ چند ماہ ضایع کر دیے تو 18 جولائی 1993 آتے دیر نہیں لگے گی‘ آپ ایک بار پھر گلیوں اور بازاروں میں ہوں گے اور آپ یہ خوش فہمی ذہن سے نکال دیں‘ آپ چوتھی بار اقتدار میں آ سکیں گے کیونکہ اگر اس بار آپ کی پارٹی ٹوٹی تو یہ چھوٹی چھوٹی کرچیوں میں تقسیم ہو جائے گی اور آپ کو اسے سمیٹتے سمیٹتے دس سال لگ جائیں گے اور آپ دس سال بعد عمر کے اس حصے میں ہوں گے جس میں آپ کیک تک نہیں کھا سکیں گے لہٰذا میری آپ سے درخواست ہے آپ ان تین چار مہینوں کو قدرت کی طرف سے آخری مہلت سمجھیں اور آپ جاگ جائیں‘ آپ بھی بچ جائیں گے‘ جمہوریت بھی بچ جائے گی اور ملک بھی محفوظ ہو جائے گا۔

میاں صاحب مہربانی فرما کر اپنی ہی فوج کو فتح کرنا بند کر دیں‘ آپ فوج پر اعتماد کریں اور فوج کو آپ پر اعتماد کرنے دیں‘ آپ ڈی جی آئی ایس آئی اور آرمی چیف کے ساتھ براہ راست رابطہ رکھیں‘ وہ آپ کو براہ راست فون کریں اور آپ انھیں ڈائریکٹ فون کریں‘ آپ تینوں کے درمیان کوئی چوتھا شخص نہیں ہونا چاہیے‘ آپ اپنے تمام وزراء اور حکومتی عہدیداروں پر پابندی لگا دیں یہ فوج کے بارے میں منہ سے ایک لفظ نہ نکالیں اور جونکالے وہ خواہ کوئی بھی شخص ہو آپ اسے فارغ کر دیں‘ آپ ترکی ماڈل پر چلے جائیں‘ آپ پرفارمنس اور خدمت کو اپنا سیاسی ایمان بنا لیں‘ روزانہ کی بنیاد پر کام کریں۔

آپ شام سات بجے ’’آف‘‘ کر جاتے ہیں اور آپ سے رابطہ تک ممکن نہیں رہتا‘ یہ پاکستان جیسے بحرانوں کے شکار ملک کے ساتھ ظلم ہے‘ پاکستان جیسے ملک کے وزیراعظم کو تو نیند ہی نہیں آنی چاہیے لیکن آپ سو جاتے ہیں‘ آپ فیصلہ کر لیں آپ صبح آٹھ بجے سے رات بارہ بجے تک آفس میں رہیں گے اور طیب اردگان کی طرح صرف اتوار کی شام چھٹی کریں گے‘ آپ کو سیاست یا کاروبار دونوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو گا‘ آپ کا کاروبار قانونی ہو گا لیکن یہ آپ کی سیاسی کشتی کا سوراخ بن چکا ہے‘ آپ کب تک اس سوراخ پر پاؤں رکھ کر کھڑے رہیں گے‘ آپ اپنے اور اپنے خاندان کے اثاثے ڈکلیئر کریں‘ لندن کا فلیٹ بیچیں‘ کاروبار کرنے والے بچوں کے بارے میں اعلان کریں‘ یہ کبھی سیاست میں قدم نہیں رکھیں گے۔

خاندان کو بیرونی دوروں پر لے جانا بند کیں‘ مریم نواز باصلاحیت ہیں لیکن انھیں 150 ارب روپے کے ادارے پر بٹھا دینا زیادتی ہے‘ آپ انھیں وومن ڈویلپمنٹ کا قلم دان سونپیں اور وزیراعظم یوتھ لون پروگرام زمرد خان‘ اسد عمر یا سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ کے سربراہ مولانا بشیر فاروقی جیسے کسی ایماندار اور وژنری شخص کے حوالے کر یں‘ آپ پارٹی کو بھی خاندانی سیاست سے الگ کریں‘ آپ کی پارٹی تین حصوں میں تقسیم ہے‘ آپ ن لیگ اے کو ہینڈل کرتے ہیں‘ ن لیگ بی میاں شہباز شریف کے ہاتھ میں ہے اور ن لیگ سی کے سربراہ میاں حمزہ شہباز شریف ہیں‘ سلمان شہباز شریف کاروبار کرتے ہیں لیکن وہ بھی آپ کی معاشی ٹیم کے مشیر ہیں‘ آپ نے ڈیڑھ سال سے پارٹی کا اجلاس نہیں بلایا‘ آپ کی پارٹی کے عہدے تک مکمل نہیں ہیں‘ آپ کب تک ہر چیز کو ایک رومال میں باندھنے کی کوشش کرتے رہیں گے‘ آپ پارٹی اہل لوگوں کے حوالے کریں‘ پارٹی کے لیے سیاسی کالج بنائیں اور تمام ایم این ایز‘ ایم پی ایز اور ضلعی عہدیداروں کو سیاسی تربیت دیں۔

آپ نااہل اور بے صلاحیت لوگوں کے ساتھ پارٹی چلا سکیں گے‘ حکومت اور نہ ہی ملک۔ آپ کو دل اور دماغ دونوں بڑے کرنا ہوں گے‘ آپ عام معافی کا اعلان کر دیں‘ آپ اپنی تمام ناراضگیاں اور اختلافات ختم کرنے کا اعلان کر دیں‘ جنرل مشرف کو عدلیہ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں‘ چوہدری صاحبان‘ عمران خان اور علامہ طاہر القادری کے گھر جائیں‘ ایم کیو ایم کے قائد کو فون کریں‘ لندن میں ان سے ملاقات کریں‘ یوسف رضا گیلانی‘ راجہ پرویز اشرف‘ میر ظفر اللہ جمالی اور شوکت عزیز سے مشورہ کریں۔

چوہدری اعتزاز احسن اور رضا ربانی کو اپنا مشیر بنائیں‘ سراج الحق کو صوبائی رابطوں کا وزیر بنا دیں‘ مستقل مذاکراتی کمیٹی بنائیں‘ تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کو اس میں شامل کریں اور یہ کمیٹی دھرنوں جیسے بحرانوں کا حل تلاش کرے‘ مشاہد حسین سید کو افغانستان‘ ایران‘ بھارت اور چین کے ساتھ تعلقات کا فریضہ سونپ دیں‘ وزراء کے درمیان موجود لڑائی ختم کرائیں‘ آپ نے شروع میں وزراء سے تین ماہ بعد کارکردگی رپورٹ مانگنے کا فیصلہ کیا تھا‘ آپ اس پر فوراً کام شروع کریں اور عمران خان اور علامہ طاہر القادری کا طریقہ کار غلط تھا مگر ان کے مطالبات درست ہیں‘ آپ ان کے تمام مطالبات کو گود لے لیں اور سال کے اندر اندر وہ سب کچھ کر دیں جو یہ لوگ ڈیمانڈ کر رہے ہیں۔

وزیراعظم صاحب ہم مانیں یا نہ مانیں لیکن یہ حقیقت ہے پارلیمنٹ ڈبیٹنگ کلب بن چکی ہے‘پارلیمنٹ پر 60 ہزار روپے فی منٹ اخراجات ہوتے ہیں لیکن آؤٹ پٹ کچھ نہیں ہوتی لہٰذا پھر لوگ اس پر حملہ کیوں نہ کریں؟ آپ پارلیمنٹ کو عزت بھی دیں اور اس سے وہ کام بھی لیں جس کے لیے عوام اسے منتخب کرتے ہیں‘ ملک کے ادارے ختم ہو چکے ہیں‘ آپ ڈھونڈیں تو آپ کو سیکریٹری نہیں ملتے‘ پولیس کا چیف نہیں ملتا‘ آپ اداروں پر فوراً توجہ دیں‘ پولیس ریفارمز کے لیے پانچ اہل اور ایماندار ترین سابق آئی جیز کی ٹیم بنائیں اور پولیس ڈیپارٹمنٹ ان کے حوالے کر دیں‘ آپ اگر رینجرز اور ایف سی کو گرفتاریوں‘ ناکوں اور سیکیورٹی کی ذمے داری دے دیں اور پولیس کو صرف تفتیش تک محدود کر دیں تو بھی مسئلہ بڑی حد تک حل ہو جائے گا‘ ملک میں انصاف کی حالت واقعی خراب ہے۔

جس ملک میں چیف جسٹس کو انصاف نہ ملتا ہو اور وزیراعظم عدالتوں میں دھکے کھاتے ہوں اس ملک میں عام شخص کی کیا حالت ہو گی‘ آپ بخوبی اندازہ کر سکتے ہیں‘ آپ مہربانی فرما کر سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان سے ملیں اورانصاف کی فراہمی کے عمل کو آسان اور فوری بنائیں‘نیب اور ایف آئی اے کو اس قدر خودمختار کر دیں کہ یہ وزیراعظم تک کو ہاتھ ڈال سکیں‘ ملک میں نوکریاں پیدا کرنے کے لیے بیورو قائم کریں‘ ملک میں جو شخص پچاس لوگوں کو نوکری دے اس کا انکم ٹیکس معاف کر دیں‘ دنیا بھر میں موجود اہل پاکستانیوں کو دعوت دیں‘ یہ ملک میں واپس آئیں اور سرکاری اداروں میں کام کریں اور خدا کے لیے‘ خدا کے لیے ملک میں مذہبی تقریروں اور اجتماعات پر پابندی لگا دیں‘ ملک میں صرف اعلیٰ تعلیم یافتہ عالموں کو اسپیکر کی سہولت حاصل ہونی چاہیے‘ نیم خواندہ ملاؤں کو منبر رسولؐ نہیں ملنا چاہیے اور آپ سادگی اختیار کریں‘ مہنگی گھڑیاں باندھنا‘ سونے کے بٹن والی ویسٹ کوٹ پہننا اور رائے ونڈ کے محل میں رہنا بند کر دیں۔

آپ جب ورساشے کے صوفوں پر بیٹھیں گے تو عوام کے تن بدن میں آگ لگے گی اور آپ جب جہاز لے کر بیرون ملک جائیں گے اور اس میں آپ کا خاندان ہو گا تو لوگوں کے ہاتھ آپ کے گریبانوں کی طرف اٹھیں گے‘آپ لوگوں کو باز نہیں رکھ سکیں گے‘ میاں صاحب !آپ کے ایوان کے سامنے ابھی چند ہزار لوگ بیٹھے ہیں لیکن ان چند ہزار لوگوں نے حکومت کو مہینہ بھر کے لیے مفلوج کر دیا ہے‘ آپ ذرا تصور کیجیے‘ ان لوگوں کی تعداد جب لاکھوں کروڑوں ہو جائے گی تو آپ کہاں جائیں گے‘ آپ کا کیا بنے گا چنانچہ میری درخواست ہے آپ جاگ جائیں‘ آپ کے پاس زیادہ وقت نہیں بچااگر عمران خان اور علامہ طاہر القادری کی جگہ ایسے لوگ آ گئے جو برستی بارشوں اور جھلستی دوپہروں میں کنٹینر میں بیٹھنے کی بجائے سڑک پرانقلابیوں کے ساتھ بیٹھ گئے تو پھر انھیں کوئی نہیں اٹھا سکے گا‘ آپ ایسے لوگوںکے آنے سے پہلے جاگ جائیں‘ آپ کی بہت مہربانی ہو گی۔ (میرا ٹویٹر‘ فیس بک اور ویب سائٹ کا ایڈریس نوٹ فرما لیں)

[email protected]
facebook.com/javed.chaudhry
www.javedch.com

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔