مذاکرات ناکام، بلاول ہاؤس جانیوالے اساتذہ پر پولیس کا وحشیانہ تشدد

اسٹاف رپورٹر  جمعـء 12 ستمبر 2014
وزیر تعلیم نثار کھوڑو نے این ٹی ایس ٹیسٹ پاس کرنے کی شرط پر ملازمت دینے کی پیشکش کردی، ایکشن کمیٹی کا انکار، امیدوار وزیر تعلیم کی گاڑی کے نیچے لیٹ گئے۔  فوٹو: ایکسپریس

وزیر تعلیم نثار کھوڑو نے این ٹی ایس ٹیسٹ پاس کرنے کی شرط پر ملازمت دینے کی پیشکش کردی، ایکشن کمیٹی کا انکار، امیدوار وزیر تعلیم کی گاڑی کے نیچے لیٹ گئے۔ فوٹو: ایکسپریس

کراچی: نیوٹیچرز ایکشن کمیٹی کی جانب سے دیے جانے والے دھرنے کے شرکا نے مذاکرات کی ناکامی کے بعد رکاوٹیں عبور کر کے بلاول ہاؤس کی جانب بڑھنے لگے تو پہلے سے موجود پولیس کی بھاری نفری نے انھیں روکنے کی کوشش کی اور نہ رکنے پر لاٹھی چارج شروع کر دیا جس سے متعدد افراد ڈنڈے لگنے سے زخمی ہوگئے۔

صورتحال بگڑنے پر موقع پر موجود پولیس کی واٹر کینن نے مظاہرین پرپریشر سے پانی  پھینکا، پولیس نے متعدد اساتذہ کو حراست میں لے لیا،ہنگامہ آرائی کے باعث بوٹ بیسن کا علاقہ میدان جنگ کا منظر پیش کرنے لگا، تفصیلات کے مطابق بوٹ بیسن کے قریب اپنے مطالبات کے حق میں ٹیچر ایکشن کمیٹی کی جانب سے دیے جانے والے دھرنے کے شرکا مذاکرات کی ناکامی کے بعد رکاوٹیں عبور کر کے بلاول ہاؤس کی جانب بڑھنے لگے تو پہلے سے موجود پولیس کی بھاری نفری نے انھیں روکنے کی کوشش کی اور نہ رکنے پر لاٹھی چارج شروع کردیا جس کے باعث دھرنے کے شرکا میں بھگدڑ مچ گئی جبکہ متعدد افراد کو ڈنڈے لگنے سے چوٹیں آئیں تاہم صورتحال بگڑنے پر موقع پر موجود پولیس کی واٹر کینن نے مظاہرین پر پریشر سے پانی پھینکا جس کے باعث کئی مظاہرین اپنا توازن برقرار نہ رکھتے ہوئے سڑک پر گر گئے جنھیں بعدازاں پولیس نے حراست میں لے لیا۔

ہنگامہ آرائی کے باعث بوٹ بیسن میدان جنگ کا منظر پیش کرنے لگا جس باعث ٹریفک معطل ہوگیا جبکہ بلاول ہاؤس اور شیریں جناح کالونی جانے والی شاہراہوں سمیت ملحقہ علاقوں میں بدترین ٹریفک جام ہوگیا اور گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں جس کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تاہم پولیس نے سخت جدوجہد کے بعد مظاہرین کو منتشر کر کے صورتحال کو کنٹرول کرلیا، پولیس نے ہنگامہ آرائی کے الزام میں دو درجن سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا ہے تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ اعلیٰ حکام کی ہدایت کا انتظار ہے اگر انھوں نے چھوڑنے کا کہا تو انھیں رہا کر دیا جائے گا بصورت دیگر انھیں قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

سینئر صوبائی وزیر تعلیم نثار احمد کھوڑواور ٹیچرز ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات ناکام ہوگئے، وزیرتعلیم نے امیدواروں کو ایک ماہ کے اندر این ٹی ایس ٹیسٹ میں بیٹھ کر ٹیسٹ پاس کرنے کی شرط پر ملازمت دینے کی پیشکش کردی،ایکشن کمیٹی نے پیشکش کو قبول کرنے اور دھرنا ختم کرنے سے انکار کردیا، امیدوار وزیر تعلیم کی گاڑی کے نیچے لیٹ گئے، وزیرتعلیم کے معاون اعجاز جونیجو کی گاڑی کا شیشہ توڑ دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق سینئر صوبائی وزیرتعلیم نثار احمد کھوڑو نے بوٹ بیسن کے پاس اپنے مطالبات کے حق میں دھرنا دے کر بیٹھنے والے نیو ٹیچرز ایکشن کمیٹی کے پاس پہنچ کر مذاکرات کیے ،نثار احمد کھوڑو نے کہا کہ آپ کے ساتھ کچھ لوگوں نے بددیانتی کی ہے جس کا قانونی طریقے سے ازالہ چاہتے ہیں اور وہ پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پرتیسری مرتبہ آپ کے پاس چل کرآئے ہیں اس لیے دھرنے میں شریک افراد پارٹی قیادت پر اعتمادکرکے دھرنا ختم کریں اور سندھ حکومت ایک ماہ کے اندر آپ امیدواروں کے لیے 1425 اسامیوں پر این ٹی ایس ٹیسٹ کرائے گی اور جو امیدوار اس ٹیسٹ میں پاس ہوگا انھیں نوکری دی جائیگی۔

اگر آپ تمام امیدوار ٹیسٹ نہیں دینگے اور اگر دیگر امیدوار اس ٹیسٹ میں پاس ہوگئے تو پھروہ موقع بھی آ پ کے ہاتھ سے نکل جائے گا، پیشکش کو دھرنے کے شرکا نے قبول کرنے اوردھرناختم کرنے سے انکار کردیا جس کے بعد وزیر تعلیم اپنی گاڑی میں بیٹھ کرجانے لگے تو دھرنے کے کچھ شرکا ان کی گاڑی کے نیچے لیٹ گئے جس کو پولیس نے ہٹایا اور وہ چلے گئے اس دوران مشتعل نوجوانوں نے وزیر تعلیم کے معاون اعجاز جونیجوکی گاڑی کا شیشہ توڑدیا۔

دریں اثنا وزیرتعلیم کے ترجمان شکیل میمن نے کہا ہے کہ محکمہ تعلیم دھرنے والوںکی کسی بلیک میلنگ میں نہیں آئے گاکیونکہ اب محکمہ میں میرٹ کے برخلاف بھرتیاں نہیں کی جائیگی ہم ماضی کی غلطیوں کو نہیں دھراناچاہتے ہیں، دریں اثنا ٹیچرز ایکشن کمیٹی کے سربراہ ابوبکر ابڑو نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری دھرنا جاری رہے گا، انھوں نے دھرنے کے شرکاء پر پولیس تشددکی سخت مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ پرامن اساتذہ کے دھرنے پر پولیس لاٹھجی چارچ کے واقعہ کی تحقیقات کرائی جائے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔