لشکر طیبہ پاک بھارت تعلقات کی بہتری میں رکاوٹ ہے، امریکا

آئی این پی  جمعـء 12 ستمبر 2014
شمالی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن اور قیادت میں تبدیلی کے باوجود تحریک طالبان پاکستان کے لیے ایک بڑا خطرہ رہے گی۔ نکولس راسموسن۔ فوٹو: فائل

شمالی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن اور قیادت میں تبدیلی کے باوجود تحریک طالبان پاکستان کے لیے ایک بڑا خطرہ رہے گی۔ نکولس راسموسن۔ فوٹو: فائل

واشنگٹن: امریکی انسداد دہشت گردی مرکزکے ڈپٹی ڈائریکٹر نکولس راسموسن نے کہا ہے کہ لشکر طیبہ پاک بھارت تعلقات کی بہتری میں بڑی رکاوٹ ہے۔

غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق نکولس راسموسن کا کہنا تھا کہ شمالی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن اور قیادت میں تبدیلی کے باوجود تحریک طالبان پاکستان کے لیے ایک بڑا خطرہ رہے گی۔ نکولس راسموسن کے مطابق لشکر طیبہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کی بہتری کے خلاف ہے اور اس کے لیڈرمسلسل اپنی تقریروں میں بھارت اور امریکا کے خلاف پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے الزامات عائد کرتے ہیں۔

نکولس راسموسن کا کہنا تھا کہ لشکرطیبہ نے جنوبی ایشیا میں علاقائی مقاصد کے حصول کے لیے مغربی مفادات پر حملے کیے ہیںاور 2008 میں بھارت کے شہر ممبئی کو نشانہ بنایا، لشکر طیبہ پاکستانی اور مغربی عسکریت پسندوں کو تربیت بھی فراہم کرتی ہے جن میں سے کچھ لشکر طیبہ کی قیادت کی ہدایت کے بغیر مغرب میں دہشتگرد حملوں کی منصوبہ بندی کرسکتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔