دیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کھلا

پروفیسر سیما سراج  ہفتہ 13 ستمبر 2014

چھوٹا منہ اور بڑی بات جب ہم چھوٹے تھے تو اتنی بڑی بات ہماری سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ جب ہم بڑے ہوئے تو چھوٹی چھوٹی باتیں بھی سمجھ میں آنے لگیں میرا مطلب ہے وہ چھوٹی چھوٹی باتیں جنھیں ہم بس اتنی چھوٹی سی بات کہہ کر نظرانداز کردیتے ہیں۔

چھوٹا منہ اور بڑی بات اب مطلب ہماری سمجھ میں آگیا ہے۔ آپ کو بتاؤں مگر نہیں کیونکہ آپ بھی یہی کہیں گے ’’لو اور سنو! چھوٹا منہ اور بڑی بات‘‘ لیجیے صاحب چھوٹے بڑے بھی خوب متضاد ہیں۔ چھوٹے لوگ بڑی باتیں اور بڑے لوگ چھوٹی باتیں۔ پتا نہیں کیا بات ہے کالم لکھتے لکھتے یہ چھوٹے بڑے کے چکر میں، میں کہاں پڑ گئی ہوں۔ چھوٹے میاں تو چھوٹے میاں بڑے میاں سبحان اللہ۔ عجیب بات ہے میں نے تو زبان کے پھسلنے کا محاورہ سنا تھا۔ یہاں تو قلم پھسلا جا رہا ہے۔

کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم ایسا کچھ لکھنے لگیں کہ لوگ اعتراض کریں کہ اپنے قد سے اونچی بات کرتی ہیں یا لکھتی ہیں۔ بڑی بات کرنے سے قد بڑھتا ہے اور چھوٹی بات کرنے سے انسان کا قد گھٹتا ہے۔ لیں میں نے تو آپ کو قد بڑھانے اور گھٹانے کا مفت میں نسخہ بتا دیا۔ ویسے آج کل مفت میں کوئی کسی کا کام نہیں کرتا۔ ہر چیز کی قیمت ہے۔ مہنگائی کے اس دور میں تو روز افزوں قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ ہاں بس ایک آدمی ہے کہ اس کی قیمت گھٹ رہی ہے۔ یا کم ہو رہی ہے۔ اب یہ کم زیادہ کی بحث لمبی ہوجائے گی۔ اب دیکھیں ناں دودھ میں پانی کبھی کم نہیں ہوتا زیادہ ہی ہوتا ہے۔ خیر اب تو ہر چیز کے عادی ہوگئے ہیں۔

ہائے یہ عادت بھی بری چیز ہے ایک مرتبہ لت لگ جائے تو چھوٹتی نہیں ہے۔ مثلاً جھوٹ بولنے کی عادت۔ بھلے شرمندگی اٹھانی پڑے۔ کیا کیا جائے عادت تو آخر عادت ہے۔ بدلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بالکل قوم کی تقدیر کی طرح۔ صاحب تقدیر یا قسمت کا نہ پوچھیں پہلے تو بند مٹھی میں ہوتی تھی لیکن اب بڑی طاقت کے ہاتھ میں ہے۔ ہاتھ سے یاد آیا کہ بہت دنوں سے لمبے ہاتھ خفیہ ہاتھ، آہنی ہاتھ کا تذکرہ کچھ کم کم سننے میں آرہا ہے۔ ویسے دو دو ہاتھ ہوتے کئی جگہ نظر آرہے ہیں۔

نظر۔۔۔۔جی ہاں نظر کی تو بات ہی نہ کریں۔ نظریں بدلتے دیر تھوڑی لگتی ہے۔ کچھ لوگ جلد ہی نظریں پھیر لیتے ہیں۔ بس وقت وقت کی بات ہے۔ ڈر سا لگا رہتا ہے۔ کب کون کھلاڑی کہہ اٹھے جاؤ ہم نہیں کھیلتے۔ پہلے کھلاڑی کھیل میں ہوتے تھے۔ لیکن اب ہر میدان میں ہوتے ہیں۔ یہ دوسری بات ہے کہ بعض اناڑی ہوتے ہیں سارا کھیل ہی بگاڑ دیتے ہیں۔ سنوارنے کے نام پر بگاڑنے کا عمل اس قدر زیادہ ہوگیا ہے کہ ڈر سا لگتا ہے کہ جب کوئی بچانے کی بات کرتا ہے تو ڈوبنے کا خوف مزید بڑھ جاتا ہے۔

خوف کی کیا بات ہے ہر شخص خوفزدہ ہے۔ اب تو ہر سانس خوفزدہ کر دیتی ہے۔ معلوم نہیں خوف کی اس دنیا سے ہمیں کون نکالے گا۔ چھوٹی خبر بڑی خبر ہائے یہ خبروں نے بھی مار ڈالا۔ ایسی خبر سے تو بے خبری اچھی۔ کان ترس گئے خوش خبری سننے کو۔ خوشی تو جیسے ناپید ہوتی جا رہی ہے۔ بس غم وافر مقدار میں ہیں۔ کون نکالے گا مایوسی و ناامیدی کے دلدل سے۔ یہاں تو حمام میں سب ہی۔۔۔۔۔جو خود دلدل میں پھنسے ہوں وہ دوسرے کو دلدل سے نکالنے کی ڈھارس کس طور بندھا سکتے ہیں۔اعتبار کرتے دل ڈرتا ہے۔

کہتے ہیں جو ڈر گیا وہ مر گیا۔ اب مرنے میں کیا خاک کسر رہ گئی ہے۔ اب تو گھبرا کر یہ کہتے ہیں کہ ’’مرجائیں گے ‘‘ لیکن جب دوسرے مصرعے پر غور کرتے ہیں تو ارادہ متزلزل ہوجاتا ہے۔ ’’مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے‘‘۔

سمجھ میں ہی نہیں آتا کہ کدھر جائیں ہر شخص اپنا راگ الاپ رہا ہے۔ سب باتوں کے بادشاہ ہیں۔ لفظوں کے جادوگر ہیں۔ سوچتے ہیں کس پر اعتبار کریں۔ انسان اعتبار ہی میں تو مارا جاتا ہے۔ دھوکہ کھا کھا کر اعتبار کرنے کی کچھ عادت سی ہوگئی ہے۔ مجبوری ہے اعتبار تو کرنا ہی پڑتا ہے۔ جب کہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ’’دیتے ہیں دھوکا یہ بازیگر کھلا‘‘۔

مزے کی بات تو یہی ہے کہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی ہم دھوکا کھاتے ہیں۔ اور پھر سوچتے ہیں ارے یہ بھی ویسا ہی نکلا۔ بھئی شاعری کا ذوق پیدا کریں اور شاعروں کو دروغ گو سمجھنا چھوڑ دیں۔ سمندر کو کوزے میں بند کرنے کا کمال تو صرف شاعر ہی انجام دے سکتا ہے۔ آپ کی لمبی لمبی وضاحتی تقریریں اور حقائق پر مبنی لیکچر بھی وہ کام انجام نہیں دے سکتے جو شاعر دو مصرعوں میں سمجھا دیتا ہے۔

آئے عشاق گئے وعدہ فردا لے کر
اب انھیں ڈھونڈھ چراغ رخ زیبا لے کر

لیکن صاحب اب ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں۔ خلاف وعدہ ہوکر وہ پھر آپ کے روبرو ہوں گے ایک نئے وعدے کے ساتھ۔ پرانے چہرے نئے وعدے اور نئے چہرے پرانے وعدے۔ سوچ لیجیے! مسئلہ تو سوچنا ہی ہے۔ اچھا ہی ہے کہ ہم سوچتے نہیں ہیں۔ پھر غور و فکر کرنا پڑے گا۔ نیند نہیں آئے گی۔ پھر خواب کیسے دیکھیں گے۔ اور قوم کے لیے نئی تعبیریں کیسے سامنے آئیں گی۔ سونے دو جاگ گئے تو مشکل ہوجائے گی۔ لیکن کس کی؟ اب ہر بات تو نہیں بتائی جاتی۔ یہ بھی ہم آپ کو بتائیں کہ دنیا کہاں سے کہاں نکل گئی اور ہم وہیں کے وہیں کھڑے ہیں۔ دو قدم آگے بڑھتے ہیں تو چار قدم پیچھے چلے جاتے ہیں۔ آخر کب تک؟ ہم نہیں جانتے کوئی نہیں جانتا کیا آپ جانتے ہیں؟

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔