(پاکستان ایک نظر میں) - ہم کسے محافظ سمجھیں؟

محمد نعیم  اتوار 14 ستمبر 2014
کوئی بھی جرم ہو یا ناانصافی عوام کا پہلا واسطہ پولیس سے ہی پڑتا ہے۔ لیکن جب پولیس ہی جرائم کی سرپرست بن جائے تو عوام اپنا محافظ کسے سمجھیں؟ فوٹو: فائل

کوئی بھی جرم ہو یا ناانصافی عوام کا پہلا واسطہ پولیس سے ہی پڑتا ہے۔ لیکن جب پولیس ہی جرائم کی سرپرست بن جائے تو عوام اپنا محافظ کسے سمجھیں؟ فوٹو: فائل

پولیس کا محکمہ ایسا ہے جس میں انسانوں کے علاوہ بھیڑیں بھی ہوتی ہیں۔ اس بات کا ثبوت ہمیں اس محکمے کی اعلیٰ افسران کی جانب سے دیئے گئے اکثر بیانات سے ملتا ہے۔ جس میں ان کا کہنا ہوتا ہے کہ وہ پولیس کے محکمے کو کالی بھیڑوں سے پاک کریں گے۔

یہ عزم کئی افسران کرتے نظر آئے ہیں۔ مگر زمینی حقائق اس سے یکسر مختلف نظر آ رہے ہیں۔ یا تو کالی بھیڑوں نے اپنی حفاظت کے لیے اپنی اوون سفید رنگ سے ڈائی کروا لی ہے۔ یا حکام بالا کی آنکھوں پر کالے دھن کی ایس دبیز پٹی باندھ دی ہے کہ اب ان کو کوئی کالی بھیڑ نظر ہی نہیں آ رہی۔

لیکن ایک خبر ایسی منظر عام پر آئی ہے جس کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ کالی بھیڑوں نے حکام بالا سے ’’مک مکا ‘‘کر لیا ہے۔ یہ خبر محکمہ پولیس کی ایک سابق کالی بھیڑ اور انڈرورلڈ ڈان وسیم بیٹر کے متعلق ہے۔

وسیم بیٹر کو ایف آئی اے حکام نے پاکستان واپسی پر ایئرپورٹ سے گرفتار کر لیا ہے۔ وسیم بیٹر کی گرفتاری اور اس کے جرائم کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح پولیس جرائم کی سرپرستی کرتی ہے اور شہر کے امن کو تباہ کرنے والے اور عوام کی جان و مال کو نقصان پہنچانے والے ڈاکووں کو پکڑنے اور کیفرکردار تک پہنچانے کے بجائے ان کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ سابق انسپکٹر محمد وسیم چند سالوں میں اتنا بااثر ہو چکا تھا کہ بڑے بڑے افسران کے تبادلے کروانا اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ کوئی بھی غیرقانونی کام یا جوئے کا اڈا وسیم بیٹر کی اجازت اور مطلوبہ حصہ دیئے بغیر نہیں کھل سکتا تھا۔

وسیم بیٹر ایس ایچ او سے لے کر اعلیٰ افسران تک ہر ایک کو ان کے عہدے کے مطابق جرائم کی رقم میں ان کا حصہ پہنچاتا تھا۔ جوئے کے اڈوں کی سرپرستی، اسمگلنگ سمیت دیگر جرائم سے وسیم بیٹر کے یومیہ آمدن دو کروڑ روپے تک پہنچ چکی تھی۔

میں سوچ رہا ہوں یہ تو ایک بیٹر ہے جس کی تفصیلات منظر عام پر آئی ہیں۔ نہ جانے کتنے ہی بیٹر ہوں گے جو محافظوں کے روپ میں عوام کے جان و مال اور پاکستانی قانون کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔ ایسے لوگوں کے جرائم کم ہی منظر عام پر آتے ہیں۔ کیوں کہ ان کی گرفتاری بڑے بڑے ’’پردہ نشینوں ‘‘ کو تھانے کچہری تک لانے کا سبب بن سکتی ہے۔ جو بظاہر تو قانون کے رکھوالے، ایمان دار اور فرض شناس نظر آتے ہیں مگر جرائم کو جاری رہنے کے لیے اپنا حصہ وصول کر کے اس کے مرتکب ہونے میں خود بھی ذمہ دار بنتے ہیں۔ مجھے تو محسوس ہوتا ہے کہ لگتا ہے وسیم بیٹر زیادہ پر نکلنے کی وجہ سے اعلیٰ حکام کا حصہ پہنچانے میں بدیانتی کرنے لگ گیا تھا۔ اس لیے اس کو نشان عبرت بنانے کے لی گرفتار کیا گیا ہے کہ دیگر آلہ کار اگر ’’حصہ‘‘ پہنچانے میں کوئی غفلت کر رہے ہیں تو ہوشیار ہو جائیں۔قربانی کا موسم تو وسیم قریب ہی ہے۔ یوں وسیم بیٹر کی صورت میں محکمے نے اگر ایک کالی بھیڑ کی قربانی دے دی ہے تو یقیناًاس سے ڈبل فائدہ حاصل ہو گا۔ ایک بڑے ڈان کو گرفتار کرنے کا اعزاز اور باقی بیٹروں کو خبردار کرنے کی وارنگ۔ عین ممکن ہے اس کارکردگی پر دو چار افسران کے کندھے پر سجے ستاروں اور آمدنی میں بھی اضافہ ہو جائے۔

کوئی بھی جرم ہو یا ناانصافی عوام کا پہلا واسطہ پولیس سے ہی پڑتا ہے۔ لیکن جب پولیس ہی جرائم کی سرپرست بن جائے تو عوام اپنا محافظ کسے سمجھیں؟ پاکستان کے تمام حکمرانوں سے میرا یہ سوال ہے کہ ایک ایسا محکمہ جو قانون کا رکھوالا ہونے کے باوجود قانون شکنی کرے۔ ایسے محکمے کو برقرار کھنے کا کیا فائدہ ہے۔

نوٹ: روزنامہ ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ[email protected] پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس بھی بھیجے جا سکتے ہیں۔

محمد نعیم

محمد نعیم

بلاگر کالم نگار اور رکن کراچی یونین آف جرنلسٹ ہیں۔ کراچی اپ ڈیٹس میں بحیثیت سب ایڈیٹر کام کررہے ہیں اور بلاگز کے ذریعے تبدیلی کے خواہشمند ہیں۔ ٹوئٹر پررابطہ [email protected]

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔