میں ڈاکو بننا چاہتا ہوں

قادر خان  اتوار 14 ستمبر 2014
qakhs1@gmail.com

[email protected]

یقینی طور پر کالم کا عنوان دیکھ کر آپ چونک گئے ہونگے کہ یہ کیا ، والدین تو جب بچوں سے پوچھتے ہیں کہ بیٹا  بڑے ہوکر کیا بنو گے تو بچے سوچے سمجھے بغیر کہہ دیتے ہیں کہ میں بڑا ہوکرڈاکٹر بنوں گا ، پائلٹ بنوں گا ، فوجی بنوں گا  وغیرہ وغیرہ ۔ مجھ سے بھی کبھی والدین نے پوچھا ہوگا کہ بڑے ہوکر کیا بنو گے تو مجھے تو یاد نہیں ہے کہ اس وقت میں نے کیا کہا ہوگا لیکن مجھے فلم یا ڈرامہ ہدایت کار بننے کا شوق  رہا تھا ۔

وہ الگ بات ہے کہ اس کی الف ب ، پ بھی نہیں آتی اس لیے اس طرف کوشش بھی نہیں کرسکا ، پھر اداکار بننے کا خواب دیکھا کہ حسین دوشیزائیں ہونگی اور میں ہیرو ، لیکن اس کے لیے عملی طور پر جب آئینے میں خود کو دیکھا تو سمجھ میں آیا کہ میں’ الّو‘ تو بن سکتا ہوں لیکن اداکار نہیں ، پھر صدا کار بننے کی خواہش  ابھری کہ اکثر مجھے کہا جاتا کہ تمھاری آواز بہت اچھی ہے تم رومانی غزلیں جب پڑھتے ہو تو بہت اچھا لگتا ہے اور حقیقت کا گمان ہوتا ہے ، لیکن اس پر بھی کسی نے خیال دلایا کہ اس کے لیے  اردو دانی ضروری ہے تم ٹھہرے پٹھان ، لکھنے لکھانے کا بہت شوق تھا ، ابتدا میں  سرکاری محکموں کے بد عنوان اہلکاروں کی زیادتیوں کے خلاف عوامی درخواستیں لکھتا تھا، ایک شہرت سی بن گئی کہ میری لکھی درخواست پر فوری ایکشن ہوجاتا ہے اس لیے مجھے لکھنا چاہیے ، پھر کسی سے محبت ہوگئی ، تو شاعری شروع کردی ، لیکن جتنی جلدی محبت ہوئی تھی اتنے جلدی شاعری بھی ختم کردی ۔

لیکن اچھی اور غم زدہ شاعری سے شغف رہا کیونکہ زندگی میں یہ چوٹ جو کھائی تھی ، پھر اسی عالم میں سیاست دان بننے کا خبط سوار ہوا اور اک سیاسی جماعت میں ایک عہدے پر چیلنج سمجھ کر دن رات ایک کردیے اور اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا لیکن خدمت کے اس جذبے کو تاراج کردیا گیا ، دماغ میں خلل واقع ہوا تو  ایک دوسری تنظیم جوائن کرلی ، لیکن یہاں دیکھا کہ دور کے ڈھول سہانے ہیں ، لسانیت ، تعصب اور عناد کی گرم بازاری ہے ، کافی عرصہ رویوں کو دیکھنے کے بعد عزت کے تقاضے کو مد نظر رکھتے ہوئے علیحدگی اختیار کرلی ،حساس طبیعت اور پٹھان فطرت کی وجہ سے کچھ ایسی عادتیں تھیں جنھیں دوسرے لوگ  بے وقوفی اور میں اسے عزت نفس سے تعبیر کرتا تھا۔

خیر ان تمام باتوں کی تمہید کا مقصد کوئی تعارف کرانا نہیں تھا بلکہ ایک ایسے شخص کی ذہینی کیفیت کو شیئر کرنا تھا جو سب کے لیے اپنے دل میں درد رکھتا ہے لیکن ایسے دوسری جانب سے ویسا ریسپانس نہیں ملتا ، یہی سوچ کر رہ جاتا ہوں کہ دنیا تمام کی تمام تو غلط نہیں ہوگی ، یقینی مجھ میں بھی کوئی غلطی ہوگی ، محاسبے کی ضرورت ہے لیکن کوئی ایسا شخص نہیں مل سکا کہ مجھے میری خامیوں کی نشاندہی کرسکتا ، اس لیے اسی انتظار میں زندگی کے چار دن پورے کرلیے اور چار گولیاں کھانے کے بعد زندہ بچ جانے کو اوور ٹائم قرار دیتا ہوں۔

کبھی کبھار زندگی کے نشیب وفراز سے بہت مایوس ہوجاتا ہوں لیکن شکست تسلیم نہ کرنا میری خُو میں نہیں ہے ، لیکن میرا اپنا ایک تجربہ ہے کہ قدر انسانوں میں ان کی ہے جن کے پاس مال و دولت کے انبار ہوں ، بڑی بڑی گاڑیاں ہوں ، خوشامدی حلقوں کا اثر ہو ،ہم تو معاشرے کے اس طبقے کے لوگوں سے تعلق رکھتے ہیں جو قوم کی خدمت کے نام پر اپنا گھر بار فروخت کردیتے ہیں، لیکن جن کے لیے روز و شب محنت کی ہوتی ہو اس کا ایک جملہ ایسے خدمت گار سے ملازم بنا دیتا ہے ، اور دھتکار دیا جاتا ہے ، جب وہی شخص انسانیت کے نام پر خلوص دل کے ساتھ اپنی عادت ، جسے احباب بے وقوفی کہتے ہیں ، مجبور ہوکر ، باغی بن جاتا ہے اور اپنی قوم میں معطون ہوجاتا ہے تو ایسے ٹشو پیپر کے طرح ڈسٹ بن میں پھینک دیا جاتا ہے۔

بھول جاتے ہیں کہ ان کے لیے جان خطرے میں ڈالی، گولیاں کھائیں، بچوں کا مستقبل برباد ہوا، معاشرے میں بچوں اور نوجوان نسل کی بیداری کی تحریک لے کر نکلے لیکن اپنے گھر میں اندھیرا کردیا ۔ دوسروں کے بچوں کو تعلیم کے زیور سے روشناس کرانے کی تگ و دو میں اپنی اولاد ہی تعلیم سے محروم ہو گئی ، کوئی کم عمری میں گیراج میں چلا گیا تو کوئی کارخانے میں پیکنگ کرنے لگا، کوئی گھر کے آگے چھولے فروخت کرنے لگا، قلم سے محبت کرنے والا ، گاڑیوں کے ٹائر دھونے لگا اور اسی میلے ہاتھوں سے معاشرے میں پائی جانے والی خرابیوں پر تجزیہ کرتے وقت خود کو فراموش کردیتا کہ اس کی بے حالی کا ذمے دار معاشرہ نہیں بلکہ وہ خود ہے جس نے خود کو زمانے کا ٹھیکیدار بنا دیا ہے۔

ظاہری نمو د ونمائش میں ناکام رہنے کی کم ہمتی کی وجہ سے خوشامد پسندوں کے معیار پر پورا نہ اترنا ہی سب سے بڑی ناکامی ہے۔ گھر کا نظام جو درست نہ کرسکے وہ معاشرے کو کیا درست راستے  دکھا سکتا ہے ۔بیٹوں کو تعلیم کا زیور نہیں دے سکے تو بیٹی کو عزت سے رخصت نہیں کرسکتے ، عزت کے لیے اپنی ذات کی نیلامی کرنا پڑتی ہے ، اپنی عزت نفس کو قربان کرنا پڑتا ہے اور خود کو برائے نام فروخت کردینا پڑتا ہے ۔ میں برائے فروخت ہوں ، لیکن میں معاشرے کا ایک فضول اور بیکار پرزہ ہوں ، ایک ایسا انسان ، جسے اللہ اور اس کے رسول  ﷺ سے جنگ کرنا منظور ہے کیونکہ اسے معاشرے میں اپنی ناک بڑی رکھنے کے لیے سود پر رقم اٹھانی پڑتی ہے ، اپنی بے گناہی کے لیے اپناگھر بار فروخت کرنا پڑتا ہے ۔

پیٹ میں حرام کے لقموں سے بچنے کے لیے اپنے بچوں کو اسکول ، کالج کے بجائے گیراج اور کارخانوں اور ماربل فیکڑیوں میں موت کے منہ میں بھیجنا پڑتا ہے ، کس قسم کا دانش ور ، کہاں کی تعلیم ، کہاں کا شعور ، کہاں کا احساس ، سب کچھ فضول ہے کیونکہ اس دنیا میں وہی کامیاب کہلاتا ہے جو ڈاکو ہو ، کسی کی محنت کو لوٹتا ہو اور  اس کی عزت کو مار دیتا ہو ، میں بھی ڈاکو بننا چاہتا ہوں ، میں بھی اپنے احساس محرومی کا انتقام لینا چاہتا ہوں ۔

میں بھی سوچتا ہوں کہ ایک پستول لے کر کسی موٹر سائیکل والے کو دھکا دیکر اس کا مال و اسباب لوٹ لوں ، اس  کا مال و اسباب چھین لوں ، میں بھی چاہتا ہوں کہ میں قانون نافذ کرنے والوں کے ساتھ ملکر منشیات فروخت کروں ، خوب کماؤں ، پکڑا جاؤں تو پھر اسی رقم سے رشوت دیکر چھوٹ جاؤں ، کوئی دشمن ہو تو کرائے کے لوگوں سے اپنا من پسند کام کراؤں ، کیونکہ میں نے دیکھا ہے کہ ہم جیسے لوگ سرکاری اسپتالوں میں اپنے بچوں کو گھنٹوں لائن میں کھڑا کرکے اس کے علاج کے لیے ڈاکٹر کی توجہ کے طالب ہوتے ہیں ، لیکن ان کی توجہ ہم سے زیادہ ہاؤس جاب کرنے والی فیشن ایبل اسٹاف پر ہوتی ہے ۔

غریب کا بچہ کراہ رہا ہوتا ہے اور ڈاکٹر ، اسٹاف سے ملکر دانت نکال کر ہنس رہا ہوتا ہے ، مجھے نفرت ہے ایسے معاشرے سے جہاں جینے کے لیے مرنا ضروری ہے ، جہاں سانسیں لینے کے لیے کسی کی سانس چھینا ضروری ہے ، جہاں خدمت کے بجائے ، مفاد پرستی ضروری ہے ، جہاں عزت کا معیار اس کی لوٹ مار ، منشیات فروشی اور حرام کی کمائی سے ناپا جاتا ہے ، عزت کا جب یہ معیار ہو تو بتاؤ کیا کروں َ چپ چاپ کڑھتا رہوں ، سفارش کے آگے بس نہ چلے تو ڈاکو نہ بنوں تو کیا کروں ، بچہ تکلیف سے سرکاری ڈاکٹروں کے سامنے دم توڑ رہا ہو ، تڑپ رہا ہو تو اسے پرائیوٹ اسپتال جانے کے لیے رقم کا بندوبست کرنے کے لیے ڈکیتی نہ کروں ۔

بچے بڑے ہوکر پوچھیں کہ ابا ، ہمارے مستقبل کے لیے کیا کیا ؟ تو انھیں ان کو جیل کی سلاخیں دکھاؤں اور دہشت کے اس تخت پر بٹھاؤں جہاں سب کچھ ایک فون پر قدموں میں سر کے ساتھ جھکا کر رکھ دیا جاتا ہے ۔ ضرورت ہے کہ اشتہار میں جب قوم ، لسانیت، تعصب اور رشوت دیکھی جائے تو بغیر اشتہار ، ایسی نوکری کیوں نہ کی جائے، کہ جس نے یہ سب کچھ کیا اور اس حال پر پہنچایا اس کا پیٹ چاک کرکے سب کچھ باہر نکال دیا جائے ۔ لیکن اس کے لیے بھی دلیری چاہیے ، میرے بچوں مجھے معاف کردو ، میں بزدل انسان ہوں ، میں تو انسان بھی نہ بن سکا ، لیکن ڈاکو بننا چاہتا ہوں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔