گرفتاریاں یا تشدد کی پالیسی‘ مسئلے کا حل نہیں

ایڈیٹوریل  پير 15 ستمبر 2014
تشویش کی یہ بات ہے کہ کارکنوں کو کسی ہنگامہ آرائی پرگرفتارنہیں کیا گیا بلکہ زیادہ تعداد کارکنوں کو گھروں سے پکڑا گیا۔  فوٹو: وسيم نذير / ایکسپریس

تشویش کی یہ بات ہے کہ کارکنوں کو کسی ہنگامہ آرائی پرگرفتارنہیں کیا گیا بلکہ زیادہ تعداد کارکنوں کو گھروں سے پکڑا گیا۔ فوٹو: وسيم نذير / ایکسپریس

اسلام آباد میں جاری دھرنوں سے جو بحران پیدا ہوا ہے‘ اب وہ نیا رنگ لے رہا ہے۔ اس نئے رنگ میں سیاسی کارکنوں اور لیڈروں کی وسیع پیمانے پر گرفتاریاں بھی شروع ہو گئی ہیں۔ اگلے روز تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے خلاف وسیع پیمانے پر ایک کریک ڈاون میں متعدد لیڈروں اور سیکڑوں کی تعداد میں کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ یہ گرفتاریاں اگلے روز رات بھر جاری رہیں۔ گرفتار کارکنوں میں سے بیشتر کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا گیا۔

ان گرفتاریوں میں تشویش کی یہ بات ہے کہ کارکنوں کو کسی ہنگامہ آرائی یا توڑ پھوڑ پر گرفتار نہیں کیا گیا بلکہ زیادہ تعداد میں کارکنوں کو ان کے گھروں سے پکڑا گیا جو ایک منتخب جمہوری حکومت سے متوقع نہیں ہوتا۔ اور نہ ہی اس نوعیت کے وسیع کریک ڈاون کو مستحسن قرار دیا جا سکتا ہے۔ حکومت کو کوشش یہ کرنی چاہیے کہ سیاسی بحران کو جلد از جلد سیاسی انداز میں ختم کیا جائے‘ حکومت جس قدر طاقت استعمال کرے گی اور گلیوں محلوں سے چھوٹے چھوٹے کارکنوں کو گرفتار کرے گی تو اسی سے حالات مزید خراب ہوں گے۔

واضح رہے اسلام آباد کچہری اس وقت میدان جنگ کا منظر پیش کرتی رہی جب تحریک انصاف کے بعض لیڈروں اور کارکنوں کو عدالتی ریمانڈ کے لیے لایا گیا۔ تھانہ مارگلہ میں تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر اعظم سواتی پر کار سرکار میں مداخلت اور دفعہ 144کی خلاف ورزی کا مقدمہ درج کر لیا گیا،تحریک انصاف کے کئی اور لیڈروں پر بھی ایسے ہی الزامات لگے۔ ملک میں جب سے سیاسی بحران پیدا ہوا ہے‘ حقیقت یہ ہے کہ اسے سنجیدگی سے حل کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔

اب تک فریقین میں مذاکرات کے بہت سے ادوار ہو چکے ہیں‘ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق بھی کوششیں کر رہے ہیں اور حکومتی کمیٹیاں بھی اس میں شریک رہی ہیں لیکن معاملات کسی کروٹ نہ بیٹھ سکے۔ اب تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے کارکنوں کی وسیع پیمانے پر گرفتاریوں کا عمل شروع ہو گیا ہے‘ آمریت یا فوجی دور حکومت میں سیاسی کارکنوں کو گرفتار کیا جاتا ہے۔ جمہوری حکومتیں اس قسم کی کارروائیوں سے گریز کرتی ہیں کیونکہ سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں سے معاشرے میں اشتعال بڑھتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔