دہشتگردی اور غیر قانونی نقل و حرکت روکنے کیلئے پاک افغان سرحد پر خندق کھودنے کا کام جاری

ویب ڈیسک  پير 15 ستمبر 2014
خندق کی کھدائی کا کام 30 اکتوبر تک مکمل کرلیا جائے گا، ترجمان فرنٹیئر کور بلوچستان فوٹو: ڈی ڈبلیو

خندق کی کھدائی کا کام 30 اکتوبر تک مکمل کرلیا جائے گا، ترجمان فرنٹیئر کور بلوچستان فوٹو: ڈی ڈبلیو

کوئٹہ: افغانستان سے پاکستان میں دہشتگردوں کے داخلے کو روکنے کے لئے بلوچستان میں پاک افغان سرحد کے قریب 480 کلومیٹر طویل خندق کھودنے کا کام تیزی سے جاری ہے۔

جرمن ویب سائیٹ میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں پاک افحان سرحدی ضلع قلعہ سیف اللہ کے قریب کھودی جانے والی طویل خندق کی گہرائی 8 جبکہ چوڑائی 10 فٹ ہے۔ خندق کی کھدائی میں فرنٹیئرکور بلوچستان کی ژوب ملیشیا، قلعہ سیف اللہ اسکاﺅٹس، نوشکی ملیشیا، تفتان رائفلز،مکران اسکاﺅٹس اور دالبندین رائفلز کے سینکڑوں جوان حصہ لے رہے ہیں۔ اس خندق کو کھودنے کا مقصد افغانستان سے متصل پاکستانی سرحد کو محفوظ کرنا اور آپریشن ضرب عضب سے افغانستان فرار ہونے والے شدت پسندوں کی واپسی روکنا ہے۔

فرنٹیئر کور بلوچستان کے ترجمان منظور احمد کا کہنا ہے کہ اس خندق کی کھدائی پر 26 کروڑ روپے سے زائد لاگت آئے گی اور یہ کام 30 اکتوبر تک مکمل کرلیا جائے گا۔ اس خندق کی کھدائی سے دراندازی اور اسمگلنگ کی روک تھام میں بہت مدد ملے گے۔ اس کے علاوہ غیر قانونی تارکین وطن کی نقل و حرکت پر بھی نظر رکھی جاسکے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران سے متصل پاکستان کے سرحدی علاقے میں بھی خندق کی کھدائی کا کام جا رہی ہے اور اس میں بھاری مشینری کے علاوہ ایف سی کے سیکڑوں جوان حصہ لے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان اورافغانستان کے درمیان واقع  ایک ہزار 200 کلومیٹر سے زائد طویل سرحد کا بیشتر حصہ دشوار گزار پہاڑی سلسلوں پر مشتمل ہے جہاں سے دو طرفہ دراندازی کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔