حقیقی دہشت گرد

ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی  منگل 16 ستمبر 2014
drtayyabsinghanvi100@gmail.com

[email protected]

دہشت گردی کی ابتدا کس نے کی اور بم دھماکوں کی بنیاد کس نے رکھی تھی؟ تاریخ کے اوراق پلٹیں تو 5 جون 1916 کو انگریزوں کے بہروپیے ہیرو، لارنس آف عریبیہ (جو آج بھی ہماری صفوں میں داخل ہیں) نے حجاز ریلوے کو بم دھماکوں سے اڑاکر مسلم امہ کا اتحاد پارہ پارہ کردیا تھا۔ حجاز ریلوے مسلمان حاجیوں کو ترکی، شام، اردن سے ہوتے ہوئے مدینہ اور مکہ لے جاتی تھی، جس کی تباہی سے اسلامی خلافت کا سورج غروب ہوگیا۔

اس کے بعد سے مغرب نے حجاز ریلوے کو نہیں بننے دیا اور وہ ہمیشہ سازشوں کا شکار رہی۔ خودکش حملوں کی ابتدا دوسری جنگ عظیم میں جاپانیوں نے پرل ہاربر پر حملے کے وقت کی جب انھوں نے جسم سے بم باندھ کر امریکی بحری جہازوں کی چمنیوں میں چھلانگیں لگائیں۔ دہشت اصل میں سفید فام انسانوں کی دین ہے۔ گزشتہ صدیوں میں براعظم افریقہ کے ساحلوں پر جب کوئی گورا نظر آجاتا تھا تو سب لوگ چھپ جاتے تھے کہ یہ گورا پکڑ کر ہمیں غلام بنا لے گا۔ برصغیر کے دیہاتیوں میں ایک گورا سپاہی نظر آتا تھا تو تمام گاؤں والے بھاگ کھڑے ہوتے تھے۔ اسی کا نام دہشت ہے۔ مغرب جب تک اپنی طرز فکر و رویہ تبدیل نہیں کرتا تب تک دہشت گردی کا ختم ہونا مشکل ہے۔

کالمیر جانس کہتاہے کہ ’’امریکی افسران اور میڈیا عراق اور شمالی کوریا جیسی سرکش ریاستوں کے بارے میں بہت کچھ کہتے ہیں لیکن ہمیں خود اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے کہ کہیں امریکا خود تو ایک سرکش سپر پاور نہیں بن گئی۔‘‘

1886 میں تاریخ کا پہلا بم دھماکا 1905 میں گورنر اسٹان برگ کا قتل، 1910 میں لاس اینجلس ٹائمز بلڈنگ میں بم دھماکا اس کی مثالیں ہیں۔ اس عرصے میں ذرا روس کے خلاف مارزوف کی سربراہی میں بننے والی تنظیم Volv Norodanaya نے دہشت گردی کی بڑی کارروائیاں کیں۔ 1901 میں بننے والی ایک اور روسی تنظیم Boevaya نے سرکاری وزرا کے قتل سمیت متعدد کارروائیاں کیں۔ 1901 سے 1911 تک اس تنظیم نے 200 سے زیادہ بڑی کارروائیاں کیں۔ جن میں روسی گورنروں اور بوسنگی بگڑوالوچ وزیر داخلہ لیف کے قتل سمیت اوپرا ہاؤس پر حملہ بھی شامل ہے۔ 1890 سے 1914 تک یورپ میں بھی دہشت گردی عروج پر رہی۔ 1881 میں بننے والی انارکسٹ انٹر نیشنل نے 1893 میں فرانس کے رہائشی گھروں کو بم سے اڑادیا۔

امریکا میں خود 130 تنظیموں نے دہشت گردی کی کارروائیاں کیں، ولیم بیلم نے اپنی کتاب روگ اسٹیٹ اور نوم چومسکی نے اپنی کتاب میں امریکی دہشت گردی اور مختلف ممالک میں مداخلت کی 1889 تا 2003 تک مکمل فہرست پیش کی ہے۔ جسے پڑھنے کے بعد نوم چومسکی کے الفاظ بالکل درست معلوم ہوتے ہیں جیسا کہ انھوں نے لکھا ہے کہ امریکا دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد ملک ہے۔

امریکا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا واحد رکن ہے جس نے تنہا دو تہائی قراردادیں ویٹو کیں، باقی کا پچاس فیصد برطانیہ نے استعمال کیا، گویا انھوں نے ہمیشہ دیگر اقوام سے طاقت کی زبان میں بات کی ہے، مساوات کی بنیاد پر نہیں، یہی وجہ ہے کہ امریکی دہشت گردی کے جواب میں دنیا بھر میں دہشت گردی کی لہر چل پڑی ہے، بوسنیا، لبنان، افغانستان، کشمیر، فلسطین، عراق اور چیچنیا اور دنیا کے دیگر نسلوں میں مسلمانوں کا لہو کتنا ارزاں ہے۔ بین الاقوامی دہشت گردی فرقہ واریت اور اسلحے کی دوڑ انتہا پسندی کی ہی قبیح شکلیں ہیں۔ قومی اور بین الاقوامی سطح پر انتہا پسندی کا رجحان لا قانونیت اور انارکی کا سبب بنتا ہے۔

مغربی دنیا نے 14 اگست 1914 کو جنگ عظیم اول کا میدان گرم کیا جو بعد ازاں 1556 دنوں تک جاری رہی، جس میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد تقریباً 9 ملین، شدید زخمی ہونے والوں کی تعداد 22ملین، اپاہج اور معذور ہوجانے والوں کی تعداد 25 ملین بتائی جاتی ہے۔ اس جنگ پر ہونے والے اخراجات سے بیلجیم، روس، امریکا، جرمنی، کینیڈا اور آسٹریلیا کے مکینوں کے لیے تمام آسائشوں اور لوازمات کے ساتھ  مکانات بنائے جاسکتے تھے۔ جب کہ دوسری عالمی جنگ میں 35 ملین انسان ہلاک ہوئے۔

20 ملین معذور ہوئے، 17 ملین حمل ساقط ہوئے، 13 ہزار پرائمری سیکنڈری اسکول، 6 ہزار یونی ورسٹیاں، 8 ہزار لیبارٹریز ویران و برباد ہوگئیں۔ امریکا اور جاپان کی جنگ 1945 میں امریکا کی طرف سے جاپان پر دو چھوٹے ایٹم بم گرائے گئے، جس سے ہیروشیما میں 70 ہزار افراد، ناگا ساکی میں 40 ہزار افراد ہلاک ہوئے اور اتنے ہی زخمی ہوئے۔

عصر حاضر میں بلا شبہ عالمی میڈیا کی شہ سرخی ’’دہشت گردی‘‘ ہے جس کے خلاف مغرب نے پچھلے تیرہ سال سے اعلان جنگ کر رکھا ہے اور اس جنگ میں پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک بھی مغرب کے ساتھ شامل ہوچکے ہیں۔ دہشت گردی کی جو تشریح مغرب کرتا ہے وہ واضح نہیں ہے کہ وہ لوگ جنھیں خود مغرب والوں نے بنایا تھا اور ماضی میں ہیرو قرار دیا تھا، اب جب وہ امریکی قبضے کے خلاف نبرد آزما ہیں تو ’’دہشت گرد‘‘ ہیں وہ کبھی اس کو صلیبی جنگوں کا نام دیتے ہیں، کبھی ’’تہذیبی ٹکراؤ‘‘ کہتے ہیں اور کبھی مذہبی، کبھی سیاسی اور کبھی معاشی رنگ دے دیتے ہیں مگر اس تعصب سے نکل نہیں پاتے۔

9/11 کے بعد ٹوئن ٹاورز کی راکھ پر سابق عالمی چیمپئن باکسر محمد علی کو لے گئے اور تباہی دکھانے کے بعد اس سے سوال کیا کہ یہ سب کچھ تمھارے مذہب کے لوگوں نے کیا ہے، ان کے متعلق تمھارا کیا تاثر ہے؟ محمد علی نے نہایت اطمینان کے ساتھ لیکن فوراً جواب دیا جس سے ان کے منہ پر تالے پڑگئے۔ محمد علی نے کہاکہ ’’ہٹلر تو تمہارے مذہب کا تھا، اس کے بارے میں تمھارا کیا تاثر ہے۔‘‘

آج مغرب اپنے تمام ذرایع کے ہمراہ یہ ثابت کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگارہا ہے کہ اسلام ایک انتہا پسند، قدامت پرست اور دہشت گرد مذہب ہے، وہ ہر مسلمان کو دہشت گرد اور اسلام کو دہشت گردی کی فیکٹری قرار دیتا ہے۔ ان حالات کے پیش نظر عصر حاضر امت مسلمہ سے تقاضا کرتا ہے کہ وہ مغرب کے پروپیگنڈے کا نہ صرف موثر جواب دے بلکہ یہ ثابت کرے کہ ’’اسلام ساری دنیا کو بھلائی دینے والا دین ہے ‘‘ ’’یہ امت عالم گیر امن کی دعوے دار امت ہے‘‘ ’’ان کی کتاب دنیا کو روشنی فراہم کرنے والی کتاب ہے‘‘ ’’ان کا نبیﷺ  تو تمام جہانوں کے لیے رحمت بن کر آنے والا رسول ہے‘‘ مغرب کو بتایا جائے کہ خود ان کے بڑے بڑے دانشور تسلیم کرتے ہیں کہ Successful on both the religious and secular level He was the only man in history who was as supremely یہ بھی واضح کیا جائے جن کا مزاج ہی یہ کہ ’’دین میں کوئی جبر نہیں‘‘ ہو وہ تشدد اور دہشت گردی جیسے برے راستے پر کبھی نہیں نکل سکتے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔