وزیر اعلیٰ کی غیر موجودگی سے صوبائی امور متاثر ہونے لگے

شاہد حمید  بدھ 17 ستمبر 2014
تحریک انصاف کی جانب سے جاری دھرنے کی وجہ سے یقینی طور پر دیگر کسی صوبہ کو نہیں بلکہ خیبرپختونخوا کو ہی نقصان ہو رہا ہے۔  فوٹو: فائل

تحریک انصاف کی جانب سے جاری دھرنے کی وجہ سے یقینی طور پر دیگر کسی صوبہ کو نہیں بلکہ خیبرپختونخوا کو ہی نقصان ہو رہا ہے۔ فوٹو: فائل

پشاور: تحریک انصاف کے دھرنے کو بھی ایک ماہ ہوگیا ہے اور خیبرپختونخوا میں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے وزیراعلیٰ کے خلاف جمع کردہ تحریک عدم اعتماد کو بھی جمع ہوئے ایک ماہ پورا ہونے کو ہے لیکن دونوں حوالوں سے تادم تحریر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

تحریک انصاف کی جانب سے اسلام آباد میں جاری دھرنے کی وجہ سے یقینی طور پر دیگر کسی صوبہ کو نہیں بلکہ خیبرپختونخوا کو ہی نقصان ہو رہا ہے کیونکہ ایک جانب تو خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ اور ان کی ٹیم کے ارکان گزشتہ ایک ماہ سے اسلام آباد میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں، اگرچہ وہ وقتافوقتاًپشاور کے ’’دورے‘‘ پر بھی آتے ہیں لیکن ان کا زیادہ وقت اسلام آباد میں گزررہا ہے جس کی وجہ سے صوبہ میں تمام امور متاثر ہو رہے ہیں۔

سرکاری محکموں میں اس رفتار سے کام نہیں ہو پا رہا جس رفتار سے وزیراعلیٰ اور ان کی ٹیم کے دیگر ارکان کی موجودگی میں ہوتا ہے جبکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ صوبہ کو اس کے بعد کے اثرات سے بھی نمٹنا ہوگا جو ممکنہ طور پر مرکز کی جانب سے آئیں گے کیونکہ مرکزی حکومت ہی کی جانب سے صوبوں کو قابل تقسیم پول سے رقم منتقل کی جاتی ہے جس میں تاخیر کا بڑا واضح مطلب یہ ہوگا کہ صوبہ میں ترقیاتی کام بھی رک جائیں گے اور دیگر مالی امور کے حوالے سے بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا جس کا سب سے زیادہ نقصان کسی اور کو نہیں بلکہ صوبہ کی عوام کو ہوگا۔

تحریک انصاف کی قیادت نے صوبائی اسمبلی کے سپیکر کے عہدہ کی نزاکتوں کا احساس کرتے ہوئے انھیں تو یہ چھوٹ دے دی ہے کہ وہ اسلام آباد میں جاری دھرنے میں شرکت نہ کریں لیکن وزیراعلیٰ، صوبائی وزراء ،مشیروں، معاونین خصوصی اور اراکین اسمبلی کو رعایت نہیں دی جا رہی، حالانکہ جو’’شفقت‘‘سپیکر کے ساتھ برتی گئی ہے وہی نرمی حکومتی ٹیم کے دیگر ارکان کے ساتھ بھی برتنی چاہیے اور اراکین اسمبلی کو بھی یہی چھوٹ دینی چاہیے کیونکہ گزشتہ ڈھائی مہینوں سے صوبائی اسمبلی کی کسی ایک بھی قائمہ کمیٹی کا اجلاس منعقد نہیں ہو سکا اور نہ ہی یہ کمیٹیاں کسی قسم کا بزنس کر سکی ہیں جبکہ ان حالات میں اسمبلی کا اجلاس منعقد کرنا تو خام خیالی ہی قراردیا جاسکتا ہے جس کی وجہ سے اسمبلی کے حوالے سے بھی تمام امور ٹھپ ہوکر رہ گئے ہیں۔

اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے بجا طور پر صوبہ کی عوام میں یہ جذبات پیدا ہو رہے ہیں کہ ’’کیا تحریک انصاف نے صوبہ میں حکومت چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے؟‘‘ یہ کوئی اچھا تاثر نہیں ہے ۔ یہ صورت حال اس وجہ سے پیدا ہوئی کہ تحریک انصاف کی قیادت پارٹی اور حکومت میں فرق نہیں کر سکی، حالانکہ اگر پارٹی کے تمام عہدیداروں اور ورکروں کو دھرنے میں مصروف رکھا جاتا لیکن حکومت کو اپنی جگہ کام کرنے دیاجاتا تو نہ تو صوبہ میں سرکاری امور متاثر ہوتے اور نہ ہی کسی کو تحریک انصاف پر انگلیاں اٹھانے کا موقع ملتا۔

تاہم یہ غلطی کرتے ہوئے پی ٹی آئی نے خود اپنے لیے اورصوبہ کے لیے مسائل پیدا کر لیے ہیں، لیکن اب بھی اگر پی ٹی آئی کی قیادت اسلام آباد دھرنے کو یونہی جاری رکھنے کا ارادہ رکھے ہوئے ہے تو وہ حکومت کو دھرنے سے چھٹی دیدے تاکہ پارٹی اپنا کام کرے اور حکومت اپنا۔ تاکہ صوبہ کی عوام جس نے پی ٹی آئی کو ووٹ دے کر تبدیلی لانے کے لیے اقتدار کے ایوانوں میں بھیجا تھا ان میں پائی جانے والی مایوسی بھی ختم ہو سکے۔

جس طرح تحریک انصاف اپنی جگہ ڈٹی ہوئی وفاقی دارالحکومت میں دھرنا جاری رکھے ہوئے ہے اسی طرح خیبرپختونخوا میں اپوزیشن جماعتیں بھی اپنی جگہ ڈٹی ہوئی وزیراعلیٰ کے خلاف جمع کردہ تحریک عدم اعتماد پر حکومت کی جانب سے اجلاس بلانے کا انتظار کر رہی ہیں۔

19 اگست کو اپوزیشن جماعتوں نے وزیراعلیٰ پرویز خٹک کے خلاف صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں تحریک عدم اعتماد جمع کرائی تھی لیکن اب تک اپوزیشن جماعتیں مذکورہ تحریک عدم اعتماد پر کارروائی کے لیے اسمبلی کا اجلاس بلانے کے حوالے سے فیصلہ نہیں کر سکیں حالانکہ یہ توقع کی جا رہی تھی کہ اپوزیشن جماعتیں اس دوران آپس میں بھی مشاورت مکمل کریں گی اور حکومت کی اتحادی جماعتوں سے بھی رابطے کرتے ہوئے معاملات کی نوک پلک سنوارتے ہوئے اسے منطقی انجام تک پہنچائیں گی لیکن جس طریقہ سے اپوزیشن جماعتیں معاملات کو لے کر چل رہی ہیں۔

ان سے واضح ہوتا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں ’’گیم‘‘ نہیں بناسکیں اور انھیں اندازہ ہوگیا ہے کہ اگر اسمبلی کا اجلاس بلایا جاتا ہے تو تحریک عدم اعتماد ناکامی سے دوچار ہو جائے گی جس کے بعد اسمبلی کی تحلیل کا ہتھیار ایک مرتبہ پھر وزیراعلیٰ کے ہاتھ میں آجائے گا کیونکہ ایک مرتبہ کی ناکامی کے بعد آئندہ چھ ماہ تک اپویشن جماعتیں دوبارہ وزیر اعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد بھی جمع نہیں کر پائیں گی، چونکہ اپوزیشن جماعتوں کے پاس نو من تیل نہیں اس لیے رادھا کے ناچنے کا انتظام نہیں کیا جاسکتا، لہٰذا وہ صرف تیل کی دھار دیکھ رہی ہیں تاکہ حکومت اپنی ضرورت کے تحت اسمبلی کا اجلاس بلائے اور حکومت کے حوالے سے لگ یہ رہا ہے کہ وہ اسمبلی کا اجلاس عیدالاضحیٰ کے بعد ہی بلائے گی اس سے قبل حکومت کی جانب سے اسمبلی اجلاس بلانے کا کوئی امکان نظر نہیں آرہا۔

کفر ٹوٹا خدا، خدا کرکے کے مصداق مسلم لیگ(ن) نے اسلام آباد کی صورت حال کے خلاف میدان میں نکلنے کا فیصلہ کر ہی لیا ہے جس کے حوالے سے توقع کی جا رہی ہے کہ (ن) لیگ کا یہ احتجاج صرف فوٹو سیشنز تک محدود نہیں ہوگا بلکہ اس احتجاج کے ذریعے صوبہ میں حکمران جماعتوں کو باور کرایا جائے گا کہ احتجاج کا جو طریقہ وہ اسلام آباد میں دھرنے دیئے ہوئے اپنائے ہیں وہ درست نہیں، سیاسی حلقے (ن) لیگ کے مذکورہ احتجاج کو ٹیسٹ کیس بھی قراردے رہے ہیں کیونکہ 12 اکتوبر 1999ء کے بعد بھی مسلم لیگ(ن) میدان میں نہیں نکل سکی تھی اور اب موجودہ صورت حال میں بھی اب تک وہ دم سادھے بیٹھی رہی تاہم اب جبکہ اس نے میدان میں نکلنے کا فیصلہ کر ہی لیا ہے تو اس کے حوالے سے اس توقع کا اظہار کیا جارہا ہے کہ وہ دیگر اپوزیشن جماعتوں کی قیادت کرتے ہوئے صوبائی حکومت کو اسلام آباد کا جواب پشاور میں دینے کی کوشش کرے گی۔

قوم پرست سیاست کے حوالے سے ایک دوسرے کی مخالفت میں چلنے والی جماعتوں ،عوامی نیشنل پارٹی اور قومی وطن پارٹی کے حوالے سے شنید ہے کہ دونوں پارٹیوں کے درمیان رابطے جاری ہیں جن کا مقصد اس خطے کے پختونوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے مل کر کام کرنا ہے۔

دونوں پارٹیوں میں ایسے رہنما موجود ہیں کہ جن کی سوچ ہے کہ پختونوں کے حقوق کا بہتر انداز میں تحفظ تب ہی ممکن ہوسکتا ہے کہ جب قوم پرست سیاسی جماعتیں اکھٹی ہوکر چلیں اور اسی مقصد کے لیے دونوں پارٹیوں کے درمیان رابطوں کا سلسلہ جاری ہے تاکہ مذکورہ دونوں پارٹیاں مل کر ایسا لائحہ عمل اپنائیں جس کے ذریعے وہ اس خطے میں بسنے والے پختونوں کو جان ومال کا تحفظ فراہم کرسکیں کیونکہ قومی وطن پارٹی کے پیپلزپارٹی شیر پاؤ سے قومی وطن پارٹی تک کے سفر کے دوران تبدیل ہونے والے انداز اور طرز سیاست سے یہی تاثر مل رہا ہے کہ یہ قوم پرستانہ سیاست کے نام پر سیاست کرنے والی عوامی نیشنل پارٹی کا اثرو رسوخ کم کرتے ہوئے اس کی جگہ لینے کی خواہاں ہے اوراسی تاثر کی وجہ سے دونوں پارٹیوں میں سردجنگ کا سا احساس بھی ہوتا ہے۔

تاہم اب ان دونوں پارٹیوں میں موجود معتدل رہنماؤں نے اس بات کا احساس کرلیا ہے کہ مل کر قدم بڑھانے ہی میں فائدہ ہے اور اسی ضرورت کے تحت دونوں پارٹیوں میں فاصلے کم کرنے کی کوششیں جاری ہیں جن میں کامیاب ہونے پر اسفندیارولی خان اور آفتاب احمد شیر پاؤ کے درمیان ملاقات بھی ہوگی جس میں معاملات کو حتمی شکل دی جائے گی جس میں بعد میں محمود خان اچکزئی کی پختونخوا ملی عوامی پارٹی کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے جس سے ’’پونم‘‘ کی طرز کے قوم پرست جماعتوں کے اتحاد کے وجود میں آنے کا امکان نظر آرہا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔