(خیالی پلاؤ) - نظم؛ میرے رہبر رہزن نا بن

غلام محی الدین عہبر  بدھ 17 ستمبر 2014
لوٹ کے گھر کو آجا اب تو، میرے دیس کے بھولے شہری، ایسا نا ہو اپنے ہاتھوں، اپنا پیارا دیس گنوا دے۔فوٹو اے ایف پی

لوٹ کے گھر کو آجا اب تو، میرے دیس کے بھولے شہری، ایسا نا ہو اپنے ہاتھوں، اپنا پیارا دیس گنوا دے۔فوٹو اے ایف پی

سیخ کباب اور نان چپاتی

 اب کنٹینر گھوڑے ہاتھی

اِک علامہ اِک شہزادہ 

مَر مِٹنے کا کر کے وعدہ

پیچھے معصوموں کا لشکر

کُچھ مستانے کُچھ سوداگر

چلے نیا سا دیس بنانے

یا کہ پُرانا دیس مِٹانے

اللہ ہی ہے صحیح مدبر

ایسے اپنا چرچا نا کر

میرے رہبر رہزن نا بن

مسند اونچی بات غضب کی

 بھول گئے ہیں بات ادب کی

لے کے چلے ہیں مُلک بچانے

 یا کہ خود ہی اِسے جلانے

قوم کی بیٹی کو نچوانے

 بیٹوں کو ہلا بُلوانے

بھائی آپس میں لڑوانے

اپنی سیاست کو چمکانے

اللہ ایسے دعوے نا کر

 یوں تو تماشا قوم کا نا کر

میرے رہبر رہزن نا بن

حیا سرِ بازار دفن ہے

 کیا یہ ہی تہذیبِ وطن ہے

کیا اسلام میں یہ جائز ہے

پاکستان کا یہ حاصل ہے؟

لوٹ کے گھر کو آجا اب تو

 میرے دیس کے بھولے شہری

ایسا نا ہو اپنے ہاتھوں

 اپنا پیارا دیس گنوا دے

جان سے پیارے دیری نا کر

اے دِل والے ضد تو نا کر

میرے رہبر رہزن نا بن

نوٹ: روزنامہ ایکسپریس  اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے نظم لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور اپنی  تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف  کے ساتھ  [email protected]  پر ای میل کریں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔