کیلے کے چھلکے پر تحقیق کرنے والے سائنسدان نے ’’اگنوبل نوبل پرائز‘‘ جیت لیا

ویب ڈیسک  جمعـء 19 ستمبر 2014
اس طرح کے انعام حقیقی نوبل پرائز جینتے والے سائنسدان کےہاتھوں تقسیم  کئے جاتے ہیں ،
 فوٹو فائل

اس طرح کے انعام حقیقی نوبل پرائز جینتے والے سائنسدان کےہاتھوں تقسیم کئے جاتے ہیں ، فوٹو فائل

نیو یارک: اگر آپ کا پاؤں کیلے کے چھلکے پر پڑ جائے تو آپ پھسل جاتے ہیں جس کے نتیجے میں آپ کو جسمانی تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن اس کے باوجود اس طرح کے واقعات عام طور پر دیکھنے میں آتے ہیں لیکن جاپان میں ایک سائنسدان نے اس حرکت پرتحقیق کرڈالی جس کے نتیجے میں اسے نوبل پرائز سے نوازا گیا۔

’’اگنوبل(آئی جی) نامی نوبل پرائز ‘‘ ایسے موضوع کی تحقیق پر دیا جاتا ہے جو پہلی نظر میں ایک مذاق نظر آتا ہے لیکن جب اس پر غور کیا جائے تو اسکی وجوہات خالصتاً سائنسی نظریات پر مبنی ہوتی ہیں جس کو مد نظر رکھتے ہوئے جاپانی سائنسدان کیوشی مابوشی نے کیلے کے چھلکے پر تحقیق کی ہے کہ اس میں ایسی کیا چیز پائی جاتی ہے جو پھسلن پیدا کرتی ہے اور حادثے کا سبب بن سکتی ہے، فزکس کی کیٹیگری کی اس تحقیق کو امریکی ریسرچ میگزین کی ٹیم نے سراہتے ہوئے اس کے جاپانی تحقیق دان کو ’’اگنوبل نوبل پرائز ‘‘کے انعام سے نواز دیا ہے، اس طرح کے انعام حقیقی نوبل پرائز جینتے والے سائنسدان کےہاتھوں تقسیم  کئے جاتے ہیں ۔

جاپانی سائنسدانوں نے اس بات کا جائزہ لیا کہ کیلے کا چھلکا سیب یا سنگترے کے چھلکے سے زیادہ خطرناک کیوں ہوتا ہے جس کے لیے انہوں نے کیلے کے چھلکے میں موجود ’’رگڑ ‘‘کا پیمائش کی اور اس میں موجود اس رگڑ اور پھسلنے والے مادے کا جائزہ لیا جو ہماری حرکت کو متاثر کرتا ہے۔ سائنسدان کا کہنا ہے کہ کیلے کے چھلکے میں موجود فولیکولر جیل اس میں پھسلنے والی خصوصیات پیدا کرتی ہے اور یہی جیل ہمارے جسم کے اندر موجود ان ممبرین میں پائی جاتی ہے جو ہمارے جوڑوں میں ہوتی ہے۔ سائنسدان کے مطابق اس نظریے کی مدد سے مصنوعی ہڈیوں کو تیار کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

آئی جی نوبل پرائز کا آغاز 1991میں کیا گیا جسے امریکی ہیومرسائنس میگزین اینلز آف امپروبیبل ریسرچ ترتیب دیتا ہے اس  نوبل انعام سے محققین کو ہاورڈ یونیورسٹی کے سینڈرز تھیٹر میں حقیقی نوبل انعام یافتہ سائنسدانوں کے ذریعے نوازا جاتا ہے۔ پہلا آئی جی نوبل انعام میگزین کے بانی مارک ابراہیم نے تخلیق کیا یہ نوبل پرائز سائنس کی دس کیٹگری میں دیا جاتا ہے جن میں فزکس، نیوروسائنس، نفسیات، پبلک ہیلتھ، بائیولوجی، آرٹ، معاشیات، ادویات، آرکٹک سائنس اور نیوٹریشن شامل ہیں۔ اس سال نیورو سائنس کا نوبل پرائز یونیورسٹی آف ٹورنٹو کے سائنسدان کینگ لی نے جیتا، انہوں نے اس بات پر تحقیق کی کہ لوگوں کو مختلف کھانے پینے کی اشیا مثلا ٹوسٹ پر کچھ مشہور لوگوں کے چہرے کیوں بنے نظر آتے ہیں جبکہ ایک دلچسپ تحقیق پبلک ہیلتھ میں سامنے آئی کہ کسی فرد کے لیے بلی کا پالنا یا رکھنا کیوں خطرناک ہوتا ہے۔

ایسی دلچسپ تحقیق سے انسانی زندگی کے وہ پہلو سامنے آتے ہیں جنہیں ہم مذاق میں نظر انداز کردیتے ہیں تاہم اسکے اندر ایک سنجیدہ پہلو چھپا ہوتا ہے جس پر تحقیق کےنتیجے میں کئی نقصانات سے بچا جاسکتا ہے اور انسانیت کی بھی خدمت کی جاسکتی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔