اسپن بولرز کو کھیلنا دماغ کا کام ہے، ای ین چیپل

اسپورٹس ڈیسک  پير 6 اکتوبر 2014
بھارتی ٹیسٹ اوپنر وینکٹ لکشمن سلو بولرز کیخلاف عمدگی سے کھیلتے تھے، سابق کرکٹر۔ فوٹو: فائل

بھارتی ٹیسٹ اوپنر وینکٹ لکشمن سلو بولرز کیخلاف عمدگی سے کھیلتے تھے، سابق کرکٹر۔ فوٹو: فائل

سڈنی: سابق آسٹریلوی کپتان ای ین چیپل کا کہنا ہے کہ اسپن بولنگ کو کھیلنا دراصل دماغ کا کھیل ہے، سلو بولرز کا سامنا کرنے کیلیے بہادری، بہتر فٹ ورک اور مکمل ارتکاز کی ضرورت ہوتی ہے، چھوٹی عمر سے بچوں کو اسپنرز کو کھیلنے کا گر سیکھانا ہوگا۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے اپنے ایک کالم میں کیا۔ چیپل لکھتے ہیں کہ مجھے اسپن بولنگ کے سامنے آسٹریلوی بیٹسمینوں کی دشواری کے بارے میں سابق اوپنر جسٹن لینگر کی مثال پر کافی حیرت ہوئی ہے، وہ کہتے ہیں کہ ’ بھارتی باشندے بچپن سے ہی مرچ مصالحوں کے عادی ہوتے ہیں اس لیے انھیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا مگر ہم کھائیں گے تو ہمارا منہ جل جائے گا، اسپن کو کھیلنے کا بھی یہی معاملہ ہے‘۔

چیپل کہتے ہیں کہ میں نے پہلی بار مرچ مصالحے والا کھانا 19 برس کی عمر میں کھایا مگر اسپن بولنگ کا سامنا کرنے کا گر 8 برس کی عمر میں سیکھنا شروع کیا، میں تیز مصالحوں والا کھانا اب بھی کھاتا ہوں اور اپنے کیریئر میں سلو بولرز کا سامنا بھی کرلیتا تھا۔ اسپن بولنگ کو کھیلنے کے لیے سب سے ضروری دو چیزیں ہیں، ایک تو کریز سے باہر نکل کر کھیلتے ہوئے آپ کو وکٹ کیپر کے بارے میں قطعی فکر مند نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اگر آپ ایسا کریں گے تو اس کا مطلب ہوگا کہ آپ گیند  بیٹ پر نہ آنے کا سوچ رہے ہیں، دوسری بات یہ کہ آپ کو گیند کی لینتھ کو مدنظر رکھتے ہوئے آگے پیچھے خود کو حرکت دینا چاہیے۔

چیپل لکھتے ہیں کہ 2001 کے آسٹریلوی ٹیم کے دورہ بھارت کے دوران شین وارن زیادہ کامیاب نہیں رہے، میری ان سے بات ہوئی تو انھوں نے کہا کہ میں نے اپنی طرف سے تو پوری کوشش کی جس پر میں نے کہا کہ تمہاری بولنگ میں کوئی مسئلہ نہیں بات دراصل یہ ہے کہ لکشمن اسپن بولنگ کو کھیلنے میں کافی ماہر اور قدموں کا بہترین استعمال کرتا ہے، اگر کوئی سلو بولرز کے سامنے کامیاب ہونا چاہتا ہے تو اسے دماغ سے گیند ٹرن ہونے کا خوف نکالنا ہوگا جبکہ بچوں کو کم عمری سے ہی اس کی تربیت دینا ہوگی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔