کراچی میں کچی شراب پینے سے ہلاک افراد کی تعداد 30 ہوگئی

ویب ڈیسک  جمعرات 9 اکتوبر 2014
5 تھانوں کے ایس ایچ اوز کو معطل کر کے ان کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا ہے، ڈی آئی جی ایسٹ منیر شیخ۔ فوٹو؛ فائل

5 تھانوں کے ایس ایچ اوز کو معطل کر کے ان کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا ہے، ڈی آئی جی ایسٹ منیر شیخ۔ فوٹو؛ فائل

کراچی: شہر کے مختلف علاقوں میں کچی شراب پینے سے ہلاکتوں کی تعداد 30 ہوگئی جب کہ پولیس حکام نے واقعے پرلانڈھی، کورنگی، زمان ٹاؤن، شاہ لطیف ٹاؤن اور شرافی گوٹھ کے ایس ایچ اوز کو معطل کر دیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق کچی شراب پینے والے مزید 7 افراد کی ہلاکت کے بعد تعداد 30 ہوگئی ہے جب کہ جناح اسپتال کے شعبہ ایمرجنسی کی انچارج ڈاکٹر سیمی جمالی کا کہنا ہے کہ 26 افراد کی حالت اب بھی تشویشناک ہے جنہیں طبی امداد دی جا رہی ہے اور 8 افراد کے گردے فیل ہو چکے ہیں۔ کچی شراب پینے کے باعث مرنے والوں میں سے بیشتر کا تعلق لانڈھی اور کورنگی سے ہے۔

ڈی آئی جی ایسٹ منیر شیخ کا کہنا ہے کہ کچی شراب سے ہلاکتوں کے واقعے کے بعد 5 تھانوں کے ایس ایچ اوز کو معطل جب کہ 2 ڈی ایس پیز کی معطلی کے احکامات بھی متعلقہ حکام کو ارسال کردیئے ہیں۔ ڈی آئی جی ایسٹ کا کہنا ہے کہ لانڈھی، کورنگی، زمان ٹاؤن، شاہ لطیف اور شرافی گوٹھ کے ایس ایچ اوز کو معطل کر کے ان کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔