گڈ اور بیڈ طالبان کا قضیہ

نصرت جاوید  جمعرات 9 اکتوبر 2014
nusrat.javeed@gmail.com

[email protected]

اسلام آباد میں 14 اگست سے دھرنا دیے بیٹھی دو جماعتوں نے اب شہر شہر جا کر جلسے کرنے کا بھی اعلان کر دیا ہے۔ ہدف ان دونوں کا نواز حکومت سے فوری نجات پانا ہے۔ اپوزیشن کا میدان ان کے ہاتھ جاتا دیکھ کر اب پیپلز پارٹی بھی متحرک ہو گئی ہے اور بلاول بھٹو زرداری کافی گھن گرج کے ساتھ اپنے والد کی ’’مفاہمتی‘‘ پالیسی سے ذرا ہٹ کر سیاسی اُفق پر نمایاں ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ہمارے 24/7 والوں کے لیے ان تینوں جماعتوں کی اسکرینوں پر رونق لگاتی اور ٹاک شوز کو مصالحہ دار بناتی سرگرمیاں Ratings کے حوالے سے کلیدی اہمیت کی حامل ہیں۔ اسی دوران عیدالاضحی کی تین چھٹیاں بھی آ گئیں جن کے لیے خصوصی پروگرام کر کے گلشن کا کاروبار چلانا ہوتا ہے۔ محض ایک رپورٹر ہوتے ہوئے لیکن میں نے عید کی چھٹیاں بڑی فکر مندی میں گزاریں۔ ان دنوں ہماری مغربی اور مشرقی سرحدوں سے تشویش ناک خبریں آتی رہیں۔

24/7 اپنی ہیڈ لائنوں میں ان خبروں کا تذکرہ تو ضرور کرتے رہے لیکن جسے ہمارے شعبے میں ’’فالواپ‘‘ کہا جاتا ہے کسی اسکرین پر بھی مناسب انداز میں ہوتا نظر نہ آیا۔ پاک بھارت سرحدوں پر گولہ باری کا جو سلسلہ چل نکلا ہے اس کی بنیادی وجوہات کم از کم میری سمجھ میں تو ہرگز نہیں آ رہیں۔ ان وجوہات کو سمجھنے کی میں اپنے تئیں کافی کوشش کر رہا ہوں۔ جب کبھی جو کچھ بھی سمجھ میں آیا آپ کے گوش گزار کر دوں گا۔ فی الوقت میرے ذہن میں بہت زیادہ سوالات ان ڈرون حملوں کے بارے میں بھی جمع ہو چکے ہیں جن کے تسلسل کی شدت عید کی چھٹیوں میں ہمیں نظر آئی۔

اتفاق سے ان ہی چھٹیوں کے دوران میں نے نیویارک ٹائمز کے رپورٹر Mark Mazzetti کی لکھی کتاب The  Way of the Knife بھی بڑے غور سے پڑھی۔ یہ کتاب پڑھنے کے بعد میں خوب سمجھ گیا ہوں کہ ڈرون حملے ’’اچانک‘‘ نہیں ہوا کرتے۔ یہ بات درست ہے کہ ڈرون ٹیکنالوجی کی دریافت کے بعد امریکا اب اس کے استعمال کے بارے میں کافی لاپرواہ ہو گیا ہے۔ اسے گمان ہے کہ اب اپنے دشمنوں کو تباہ کرنے کے لیے امریکا کو کسی ملک میں کثیر تعداد میں افواج بھیجنے کی ضرورت نہیں رہی۔ دنیا کے کسی بھی حصے میں اپنے بدترین مخالف کی نشاندہی کے بعد وہ ’’میدانِ جنگ‘‘ سے ہزاروں میل دور بیٹھا اسے بغیر پائلٹ کے اُڑائے اس طیارے کے ذریعے موت کے گھاٹ اتار سکتا ہے۔

ٹیکنالوجی کی بدولت میسر اس سہولت کے باوجود مگر سی آئی اے اپنے سر پر کسی دشمن کی موت لینے کو اب بھی تیار نہیں۔ صرف امریکی صدر ہی کو یہ حق و اختیار حاصل ہے کہ وہ ’’نشانہ‘‘ ٹھہرائے افراد اور مقامات کی ڈرون طیاروں کے ذریعے تباہی کا حکم جاری کرے۔ اب یہ بات تو میرے جیسے لاعلم شخص کے لیے بھی عیاں ہو گئی ہے گزشتہ چند مہینوں میں ڈرون طیاروں کے ذریعے پاکستان کے زیر نگین علاقوں میں ہلاکتوں کا جو سلسلہ تھما ہوا تھا اس کا بنیادی سبب صدر اوباما کی وہ ملاقات تھی جو گزشتہ برس اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران پاکستان کے تیسری مرتبہ وزیر اعظم منتخب ہونے والے نواز شریف سے ہوئی تھی۔ اس برس بھی ہمارے وزیر اعظم جنرل اسمبلی سے خطاب کے نام پر نیویارک گئے مگر اوباما سے ان کی سرسری ملاقات بھی نہ ہوئی۔ ان کے نیویارک پہنچنے سے چند ہی گھنٹے قبل بلکہ ڈرون طیاروں سے شمالی وزیرستان میں نامعلوم افراد کو ہلاک کر دیا گیا۔

ڈرون طیاروں کے استعمال کا احیاء فوری طور پر کم از کم مجھے تو یہ سمجھاتا ہے کہ صدر اوباما کے ساتھ نواز شریف نے اپنی گزشتہ برس ہوئی ملاقات میں ’’پاک۔افغان وار تھیٹر‘‘ کے حوالے سے جو وعدے وعید کیے ہوں گے وہ واشنگٹن کی نظر میں پورے نہ ہوئے ہوں گے۔ اگر بات یوں نہیں تو پیغام ان حملوں کے احیاء کے ذریعے یہ ملتا ہے کہ صدر اوباما بھی پاکستان کے سیاسی معاملات پر گہری نظر رکھنے والا دوست اور دشمن ملک کے سربراہوں کی طرح اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ اسلام آباد میں دیے دھرنوں کی بدولت نواز حکومت ریاستِ پاکستان پر اپنا کنٹرول کھو چکی ہے۔

اب وہ چین جیسے دوستوں بھارت جیسے دشمنوں اور امریکا جیسے کبھی دوست اور کبھی دشمن ممالک کے ساتھ پورے اعتماد سے معاملات طے نہیں کر سکتی۔ معاملہ صرف نواز حکومت کی ساکھ اور اس کا ریاستی معاملات پر کنٹرول تک محدود ہوتا تو میں شاید اتنا فکرمند نہ ہوتا۔مجھے اصل پریشانی اس حقیقت کی وجہ سے ہو رہی ہے کہ ان دنوں شمالی وزیرستان میں ’’ضرب عضب‘‘کے نام سے ایک آپریشن ہو رہا ہے۔ پاکستانی ریاست کی رٹ کو بحال کرنے کے مقصد کے ساتھ جاری اس آپریشن کی وجہ سے تقریباََ دس لاکھ پاکستانی کئی ہفتوں سے اپنا گھر بار چھوڑ کر بنوں جیسے شہروں میں بے بس پناہ گزینوں کی طرح مقید ہوئے بیٹھے ہیں۔ اخلاقی حوالوں سے خود مجھے بھی ڈرون حملوں کے ذریعے ہلاکتوں کے بارے میں شدید تحفظات ہیں۔

وجوہات کچھ بھی رہی ہوں ڈرون حملوں کے ذریعے ہوئی ہلاکتیں ’’ماورائے قانون قتل‘‘: ہیں کیونکہ ان حملوں کا نشانہ بنے افراد ایک ایسی طاقت کا شکار ہوتے ہیں جو خود ہی مدعی بھی ہے، منصف اور جلاد بھی۔ میرے جیسے لوگ شاید ان ہلاکتوں کے بارے میں اتنا جزبز نہ ہوتے اگر شمالی وزیرستان میں کسی شخص کو ہلاک کرنے کے بعد سرکاری طور پر امریکا اس کا نام بھی لے لیا کرتا اور کسی نہ کسی طرح کی چارج شیٹ ہمارے سامنے رکھتا جو یہ سمجھانے کی کوشش کرتی کہ کون کون سے بظاہر ’’مناسب‘‘دِکھنے والے الزامات کے تحت فلاں شخص کو ڈرون طیارے کے ذریعے میزائل گرا کر مارنا ضروری سمجھا گیا۔ ٹیکنالوجی کے اس دور میں یہ بات میں ہضم کرنے کو ہرگز تیار نہیں کہ نشانہ بنائے گئے شخص کے بارے میں ایسی معلومات امریکا کے پاس موجود ہی نہیں ہوتیں۔

مارک کی حالیہ کتاب بلکہ بہت تفصیل کے ساتھ ہمیں سمجھاتی ہے کہ ڈرون حملوں کے ذریعے کسی ایک شخص کو بھی ’’ٹارگٹ‘‘ ٹھہرانے سے پہلے سیکڑوں افراد ہزارہا کوششوں کے بعد امریکی صدر کی منظوری کے لیے اس کے خلاف اپنا کیس تیار کرتے ہیں۔ مارک کی کتاب کے ذریعے یہ بات بھی پوری طرح سمجھ آ جاتی ہے کہ جنرل مشرف کے زمانے سے ڈرون طیاروں کے لیے ہماری ’’خودمختار‘‘ فضاء میں راستے مخصوص کر دیے گئے ہیں۔ ابھی تک کوئی بھی ڈرون طیارے اس طے شدہ روٹ سے ہٹ کر حملہ کرتا رپورٹ نہیں ہوا ہے۔ 2 مئی 2011ء کو اسامہ بن لادن کی ہلاکت قطعی طور پر ایک مختلف معاملہ ہے۔

اس کا ’’قصہ ڈرون‘‘ سے کوئی خاص تعلق نہیں۔ ڈرون طیاروں کا نشانہ بنے افراد کی بے گناہی یا مبینہ جرائم کے بارے میں قطعی لاعلمی کے علاوہ سوال میرے ذہن میں یہ بھی اُمڈ رہا ہے کہ حالیہ حملوں کے لیے ’’ضرب عضب‘‘ میں مصروف کمانڈروں سے بھی کوئی معاملات طے ہوئے یا نہیں۔ اگر تو کسی سطح پر کوئی Coordination موجود ہے تو میں ذاتی طور پر تھوڑا بہت مطمئن ہو جاؤں گا۔ مگر ایسے حملے کسی Coordination کے بغیر ہو رہے ہیں تو ہم “Good” اور “Bad” طالبان کے قضیے میں دوبارہ اُلجھتے نظر آرہے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔