سانحہ ملتان کی غیر جانبدار جج کے ذریعے عدالتی تحقیقات کرائی جائے، عمران خان

ویب ڈیسک  اتوار 12 اکتوبر 2014
ملتان میں پیش آنے والے واقعے کی پارٹی  میں اندرونی تحقیقات بھی کررہے ہیں،عمران خان  فوٹو: آن لائن

ملتان میں پیش آنے والے واقعے کی پارٹی میں اندرونی تحقیقات بھی کررہے ہیں،عمران خان فوٹو: آن لائن

اسلام آباد: تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کہتے ہیں کہ انتظامیہ سانحہ ملتان کی غیر جانبدار انکوائری نہیں کر سکتی اس لئے اس کی عدالتی تحقیقات کرائی جائے۔

ملتان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ سانحے کی انکوائری کسی غیر جانبدار جج سے کرائی جائے جس میں دیکھا جائے کہ اسٹیڈیم کے دروازے کیوں نہیں کھولے گئے اور گیٹ کو تالا کس نے لگایا اور جب تک انکوائری مکمل نہیں ہوجاتی واقعہ جان بوجھ کر کرانے کا نہیں کہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کے بغیر گراؤنڈ نہیں سنبھالا جاسکتا تھا، شاہ محمود کے مطابق بل بھی ادا کیا گیا مگر بجلی نہیں ملی اور سانحے سے متعلق ڈی سی او ملتان کا رویہ بھی اچھا نہیں رہا تاہم سرگودھا میں جلسے کے لئے انتظامیہ کے ساتھ بیٹھیں گے اور آئندہ اسٹیج کا کنٹرول میں خود سنبھالوں گا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ عوامی قوت کے سوا تبدیلی نہیں آسکتی، اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ آنا ہوتا تو پہلے بھی حکومت میں آسکتا تھا لیکن اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اقتدار میں آئیں تو ان کی مرضی سے چلنا پڑتا ہے جو ہمیں ہرگز قبول نہیں۔ انہوں نے اس موقع پر ملالہ یوسف زئی کو امن کا نوبل انعام جیتنے پر مبارکباد بھی دی۔

اس سے قبل اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ کراچی، لاہور اور پھر میانوالی میں تحریک انصاف کے تاریخی جلسے ہوئے، ملتان میں جلسے کے دوران دروازوں کو تالے لگا دیئے جائیں اور پھر بجلی بھی منقطع کردی جائے، ایسی صورت میں حادثہ تو ہونا تھا۔ انتظامیہ سانحہ ملتان کی غیر جانبدار تحقیقات نہیں کرسکتی کیونکہ وہ خود اس میں فریق ہے، اس لئے اس واقعے کی غیر جانبدار جج کے ذریعے عدالتی تحقیقات کرائی جائے، اس بات کا پتہ لگانا ہوگا کہ جلسے کے دوران دروازوں کو کس نے بند کیا اور کس نے باہر سے تالے لگائے۔ اس کے علاوہ واقعے کی پارٹی میں اندرونی تحقیقات بھی کررہے ہیں، کل تحریک انصاف کی کورکمیٹی کا اجلاس بھی بلایا گیا ہے، سرگودھا کے جلسے میں اسٹیج  پر کسے لایا جائے گا اس کا فیصلہ وہ خود کریں گے۔

عمران خان نے کہا کہ تحریک انصاف نے اسلام آباد میں دھرنا انتخابی دھاندلیوں کے خلاف دیا کیونکہ گزشتہ انتخابات میں تاریخی دھاندلی ہوئی اور وزیراعظم نواز شریف کی موجودگی میں اس کی شفاف تحقیقات نہیں ہوسکتی کیونکہ تمام تحقیقاتی ادارے آئینی طور پر ان کے ماتحت ہیں، اسی وجہ سے ہم نے مطالبہ کیا کہ تحقیقات مکمل ہونے تک نواز شریف اپنے عہدے سے الگ ہوجائیں، اس دوران وہ پارلیمنٹ کا حصہ رہیں لیکن وہ اپنے جماعت میں سے کسی کو وزیر اعظم بنادیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔