ملیر اور لیاری میں مقابلے، گینگ وار کے 5 کارندے ہلاک

اسٹاف رپورٹر  پير 13 اکتوبر 2014
ملیر میں مقابلے کے بعد گینگ وار کارندوں سے برآمد ہونے والا اسلحہ اور وردیاں دکھائی جارہی ہیں۔  فوٹو: ایکسپریس

ملیر میں مقابلے کے بعد گینگ وار کارندوں سے برآمد ہونے والا اسلحہ اور وردیاں دکھائی جارہی ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس

کراچی: رینجرز نے مقابلے کے دوران ملیر میں لیاری گینگ وار کے 4 اور لیاری میں ملزم کو ہلاک کر کے اسلحہ برآمد کرلیا۔

ملیر میں مقابلے میں مارے جانے والوں میں بابا لاڈلا کااہم کمانڈر شعیب عرف ڈاکٹر اور انٹر نیشنل فٹ بالر شاہ زیب بھی شامل ہے، ہلاک ہونیوالا ملزم شعیب عرف ڈاکٹر کافی عرصہ روپوشی کاٹ کر ملیر آیا تھا اور صاحب داد گوٹھ اور سالار گوٹھ میں اپنی اجارہ داری قائم کرلی تھی۔

تفصیلات کے مطابق رینجرز نے اتوار کی علی الصباح فجر کے وقت ملیر سٹی کے علاقے شاہ گوٹھ میں مقابلے میں لیاری گینگ وار کے 4 کارندوں کو ہلاک کر کے ان کے قبضے سے ایک آوان گولہ ، 4 سب مشین گنز، ایک ایم پی فائیو، ایک نائن ایم ایم پستول، سب مشین گن کے 7میگزین ، نائن ایم ایم پستول کے 3 میگزین ، ایک خنجر ، 5 فرنٹیئر کانسٹیبلری کی وردیاں ، 3 پولیس کی وردیاں ، 2 پولیس کیپ ، کیمرا اور مختلف ہتھیار کی761 گولیاں ، پاک فوج کے 2 بیلٹ ، 4بند ڈوری ،6 ہولسٹر،لیزر لائٹ اور 2 بالوں کی وگ برآمد کرلیے۔

ہلاک ہونیوالے ملزمان کی لاشیں جناح اسپتال لائی گئیں، ہلاک ہونیوالوں کی شناخت شعیب بلوچ عرف ڈاکٹر ولد کریم بخش،25 سالہ احمد گل عرف راج ولد اصغر گل،25 سالہ امان اﷲ ولد علی اکبر اور27 سالہ شاہ زیب ولد رزاق کے نام سے کر لی گئی، ہلاک ہونے والے ملزمان کا تعلق لیاری گینگ وار نور محمد عرف بابا لاڈلا گروپ سے تھا، ملزم احمد گل بہار کالونی کا رہائشی تھا جس نے کچھ عرصہ قبل لیاری گلستان کالونی کے رہائشی پاک فوج کے جوان کو اغوا کرکے تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا تھا جبکہ وہ دیگر پولیس اہلکاروں سمیت متعدد افراد کے قتل، اقدام قتل ، پولیس مقابلوں سمیت دیگر سنگین مقدمات میں پولیس کو مطلوب تھا۔

ملزم امان اﷲ گل محمد لائن گلی نمبر7 کا رہائشی تھا جبکہ اس کے خلاف کلا کوٹ تھانے میں سنگین نوعیت کے متعدد مقدمات درج ہیں، ہلاک ہونے والا مبینہ ملزم شاہ زیب لیاری کلا کوٹ کا رہائشی اور انٹر نیشنل فٹبالر تھا، شاہ زیب پاکستان فٹ بال ٹیم کی نمائندگی بھی کر چکا تھا، شاہ زیب اس سے قبل بھی رینجرز کے ہاتھوں پکڑا گیا تھا، شعیب بلوچ عرف ڈاکٹر چند سال قبل لیاری کے علاقے سنگو لائن میں رہائش پذیر تھا، اس کی والدہ زوری بلوچ لیاری میں ملکہ منشیات کے نام سے مشہور تھی، شعیب کی والدہ اور بہنوں کا سنگو لائن میں منشیات کا اڈا تھا۔

چند ماہ قبل پولیس مقابلے میں مارا جانے والا جبار عرف لنگڑا اور شعیب بہت اچھے دوست تھے بعد ازاں شعیب کے ہاتھوں جبار لنگڑا کا بھائی صدیق اور جبار کے ہاتھوں شعیب کا خالہ زاد بھائی مارا گیا جس کے بعد دونوں میں دشمنی ہو گئی تھی،جبار لنگڑا کے ساتھی عاقب بلوچ نے شعیب کے گھر پر حملہ کیا جس پر شعیب اور اس کے گھر والے فرار ہو کر ایران چلے گئے تھے، عاقب بلوچ نے شعیب کا گھر مسمار کر دیا اور وہاں اپنا امن کمیٹی کا دفتر بنا لیا تھا۔

شعیب پہلے ایران اور پھر بلوچستان میں روپوشی کی زندگی گزارتا رہا، ارشد پپو اس کے بھائی عرفات سمیت 3 افراد کے قتل کے بعد شعیب نے اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ ملیر صاحب داد گوٹھ میں رہائش اختیار کی اور دیکھتے ہی دیکھتے صاحب داد گوٹھ اور سالار گوٹھ میں اپنی اجارہ داری قائم کرلی تھی، ذرائع نے بتایا کہ علاقہ پولیس نے اپنی رپورٹ میں متعدد بار اعلیٰ حکام کو بتایا تھا کہ شعیب عرف ڈاکٹر کو مبینہ طور پر رینجرز کی سرپرستی حاصل ہے جس کے وجہ سے وہ ملیر کے مختلف علاقوں سے عذیر بلوچ کے کمانڈروں کی بالا دستی ختم کر کے اپنی بالا دستی قائم کر کے جوئے منشیات کے اڈے کھول رہا ہے۔

گزشتہ روز رینجرز نے شعیب عرف ڈاکٹر اور اس کے ساتھیوں کو مقابلے میں ہلاک کر کے اپنے اوپر لگنے والے الزام کو غلط ثابت کر دیا ، واضح رہے لیاری گینگ وار کے سربراہ عبد الرحمٰن بلوچ عرف ڈکیت کو جب ایس ایس پی چوہدری اسلم نے کوئٹہ سے گرفتار کیا تھا اور تفتیش کے دوران اس پر تشدد کیا جا رہا تھا تو شعیب عرف ڈاکٹر نے موبائل فون سے اس تشدد کی فلم بنا کر پورے شہر میں پھیلا دی تھی جس کے وجہ سے شعیب پولیس انفارمر کے نام سے بھی مشہور ہو گیا تھا۔

رینجرز نے دوسری کارروائی کے دوران ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب 3 بجکر 50 منٹ پر لیاری رانگی واڑا میں مبینہ مقابلے میں ایک ملزم کو ہلاک کر دیا، ہلاک ہونے والے ملزم کے قبضے سے ایک کلاشنکوف برآمد کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے ، ملزم کی ہلاکت کے بعد چاکیواڑہ تھانے کی پولیس پارٹی موقع پر پہنچ گئی اور لاش کو تحویل میں لے کر پولیس کارروائی کیلیے سول اسپتال پہنچایا جہاں اس کی شناخت سلمان وچھانی عرف شوٹر ولد لعل محمد کے نام سے کی گئی۔

ذرائع نے بتایا کہ ہلاک ہونے والا ملزم سلمان وچھانی سنگو لائن وچھانی محلے کا رہائشی تھا، ملزم کا چھوٹا بھائی سمیع وچھانی کچھ عرصہ قبل رینجرز کے ہاتھوں مقابلے کے بعد زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا تھا جو ان دنوں سینٹرل جیل میں ہے جبکہ اس کے چچا ناصر وچھانی بھی سینٹرل جیل میں قید ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ سلمان بلوچ  عزیر بلوچ کا انتہائی قریبی ساتھی تھا، سلمان وچھانی گروپ کے دو کارندوں ناظم اور ایک نامعلوم کو کچھ عرصہ قبل ایس ایس پی ناصر آفتاب نے لیاری ایکسپریس وے پر مقابلے میں ہلاک کر دیا تھا،سلمان پولیس اہلکاروں سمیت متعدد افراد کے قتل ، اقدام قتل ، منشیات فروشی اور پولیس مقابلوں سمیت متعدد مقدمات میں پولیس کو مطلوب تھا، ذرائع نے بتایا کہ سلمان گینگ وار کے ملزمان کو واردات کے لیے اسلحہ، پولیس کی وردیاں اور دیگر سامان فراہم کرتا تھا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔