بھارت کا جنگی جنون خطے کے امن کے لئے خطرہ

ارشاد انصاری  بدھ 15 اکتوبر 2014
مودی سرکار بھارت میں پاکستان کے خلاف نفرت کے جو بیج بو رہی ہے وہ دنیا کی تباہی و بربادی کی فصل کو پروان چڑھانے کا باعث بنیں گے۔  فوٹو : فائل

مودی سرکار بھارت میں پاکستان کے خلاف نفرت کے جو بیج بو رہی ہے وہ دنیا کی تباہی و بربادی کی فصل کو پروان چڑھانے کا باعث بنیں گے۔ فوٹو : فائل

اسلام آباد: مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں گونجنے والی آواز سے بھارت میں بھونچال آیا ہوا ہے اور یہی وجہ ہے کہ بھارتی پردھان منتری مودی اور اس کے حواریوںکو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں وزیراعظم نوازشریف کی طرف سے مسئلہ کشمیر کے حل کے بارے میں اقوام متحدہ کو اپنے وعدے یاد کروانے اور اقوام متحدہ کی اپنی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے کشمریوں کو استصواب رائے کا حق دینے کی بات مودی سرکار کو ہضم نہیں ہو رہی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعظم نوازشریف کے خطاب کے بعد سے مودی سرکار پر جنگی جنون طاری ہے اوربھارت لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر بلااشتعال فائرنگ کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے جس میں درجنوں بیگناہ پاکستانیوں کو شہید کیا جا چُکا ہے۔ دوسری جانب پاکستان نے ہمیشہ اپنے تمام ہمسایوں کے ساتھ پرامن تعلقات کی پالیسی کی پیروی کی ہے اور 1990 کی دہائی میں پرامن مذاکرات کا آغاز اور حال ہی میں بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کی حلف برادری کی تقریب میں وزیراعظم کی شرکت خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لئے بھارت کے ساتھ تعمیری روابط استوار کرنے کی پاکستان کی مخلصانہ خواہش کی آئینہ دار ہے مگر تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان اور عالمی برادری کی خطے میں قیام امن کی کوششوں کے جواب میں بھارت نے نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی برادری کی کوششوں کو بھی یکسر نظر اندازکرکے ہمیشہ مذاکرات سے فرار اختیار کیا ہے۔

حال ہی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے خارجہ سیکرٹری سطح کے مذاکرات کا حشر بھی کوئی ماضی سے مختلف نہیں رہا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ بھارت کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرکے اچھے ہمسائے کی طرح تعلقات کو بڑھانے کی بات کی ہے ۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ پاکستان کو اس سے اقتصادی لحاظ سے نقصان اٹھانا پڑا ہے مگر اس کے باوجود پاکستان نے بڑے پن کا ثبوت دیتے ہوئے خطے کے امن و خوشحالی اور کروڑوں لوگوںکی بہتری کیلئے بھارت کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھایا مگر بھارت نے بغل میں چھُری اور مُنہ میں رام رام کی پالیسی اپنائی ہے۔ جس کا تازہ ترین عملی نمونہ خارجہ سیکرٹریوں کی سطح کے مذاکرات کی اچانک منسوخی اور مذاکراتی عمل کی بحالی سے انکار ہے ۔ لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باونڈری پر موجودہ صورتحال سے ان کوششوںکو مزید دھچکا لگا ہے۔

یہ سب بھارت کی مودی سرکار اپنی حکومت اور جماعت کو دوام بخشنے کیلئے کر رہی ہے جسکا اظہار اب بھارت کے اندر بھی ہونا شروع ہوگیا ہے اور غیرجانبدار بھارتی تجزیہ نگار و ماہرین بھی مودی سرکار پرانگلیاں اٹھا رہے ہیں، انکا کہنا ہے کہ بھارت میں ریاستی الیکشن ہو رہے ہیں اور مودی کی جماعت کو یو پی کے الیکشن میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے، باقی ریاستوں میں شکست سے بچنے کیلئے مودی اور اسکے حواری پاکستانی سرحدوں پر کشیدی پیدا کرکے اس صورتحال کو اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کیلئے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ بھارت میں کانگریس جماعت سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی کھُل کر بات کر رہے ہیں کہ پردھان منتری بننے کے باوجود نریندر مودی ابھی تک انتخابی ذہنیت سے باہر نہیں نکلے ہیں۔

سیاسی پنڈتوں کا کہنا ہے کہ مودی کو کارپوریٹ انڈیا اور کارپوریٹ امریکہ لے کر آیا ہے اور وہی مودی سرکار کو سپورٹ کر رہا ہے اس لئے مودی سرکار اسی کارپوریٹ انڈیا اور کارپوریٹ امریکہ کی انگلیوں پر ناچ رہے ہیں چونکہ نرینندر مودی کی شناخت مسلمان دُشمن کے طور پر ہے اور بھارتی پردھان منتری کا عہدہ بھی بھارتی گجرات میں ہزاروں مسلمانوں کے قتل عام کا انعام ہے۔ دراصل بھارتی وزیراعظم نریندر مودی بنیادی طور پر مسلمان دُشمن ذہنیت کے مالک ہیں اور وہ اس ذہنی کدورت و نفرت کو اپنے تک محدود رکھنے کی بجائے پورے ہندوستان میں اس کا پرچار کرنے پر لگے ہوئے ہیں جس کا انجام کسی طور بھی اچھا نہیں ہوگا۔

مودی سرکار بھارت میں پاکستان کے خلاف نفرت کے جو بیج بو رہی ہے وہ دنیا کی تباہی و بربادی کی فصل کو پروان چڑھانے کا باعث بنیں گے کیونکہ دونوں ممالک ایٹمی طاقت کے حامل ہیں یہ کسی طور ممکن نہیں ہے کہ کوئی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے اور پاکستان کی بہادر و غیور مسلح فوج وہ آنکھ سلامت رہنے دے۔

پاکستان نے بھارت کے اس وحشیانہ رویہ پر مہذب اور ذمہ دار ملک کے طور پر دانشمندانہ و جُراتمندانہ طرز عمل کا مظاہرہ کیا ہے ۔ وزیراعظم نے مناسب فورم قومی سلامتی کمیٹی کے ذریعے نہ صرف بھارت بلکہ اقوام عالم کو واضح اور دوٹوک الفاظ میں پیغام دیا ہے اور قومی سلامتی کمیٹی نے جہاں وزیراعظم نوازشریف کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کو سراہا ہے وہیں وزیراعظم کے دورہ میران شاہ کو بھی سراہا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ وزیراعظم کے دورہ میران شاہ سے آپریشن ضرب عضب میں حصہ لینے والے جوانوں کا حوصلہ بڑھا ہے۔ اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ داخلی و خارجی سطح پر دُشمن کے عزائم کو خاک میں ملادیا جائے گا۔

کمیٹی نے کسی بھی جارحیت کیخلاف مادر وطن کے تحفظ اور علاقائی سالمیت کے دفاع کیلئے مسلح افواج کی صلاحیت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت ایک دوسرے کی صلاحیتوں سے آگاہ ہیں جنگ کوئی آپشن نہیں ہے کشیدگی کو فوری طور پر ختم کرنا دونوں ممالک کی قیادت کی یکساں ذمہ داری ہے، دوطرفہ تعلقات کو معمول پر لانے اور لائن آف کنٹرول پر کشیدگی دورکرنے کی پاکستان کی خواہش کو کمزوری نہیں سمجھا جانا چاہئے ۔کمیٹی نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک 2003 کے سیز فائر کے معاہدے کا احترام کریں گے اور الزام تراشی اور پوائنٹ سکورننگ میں ملوث ہوئے بغیر لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باونڈری پر امن و آشتی برقرار رکھیں گے ۔

وزیرِ اعظم پاکستان کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے سکیورٹی کونسل کے مستقل رکن ممالک کے سفیروں سے کہا ہے کہ وہ بھارت پر جنگ بندی کے معاہدے کی پاسداری کرنے اور پاکستان کے ساتھ بامعنی مذاکرات کرنے کے لیے زوردیں۔ قومی سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد وزیراعظم میاں نوازشریف، قومی سلامتی کے مشیر سرتاج عزیز سمیت دیگر اہم شخصیات نے بھارتی جارحیت کا معاملہ سفارتی سطح پر اقوام عالم کے ساتھ بھرپور طریقے سے اٹھایا ہے، وزیراعظم نے ملاقات کیلئے آئے ہوئے امریکی حکام سے بھی بات کی ہے، چین اور دیگر ممالک کے سفیروں کے ساتھ بھی بات چیت کی ہے اور انہی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ معاملے کو کنٹرول کرنے کیلئے پاکستان اور بھارت کے ڈائریکٹرز ملٹری آپریشنز کا ہاٹ لائن پر رابطہ ہوا ہے۔

پاکستان کے ڈی ایم او نے بھارتی ہم منصب سے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی فورسز کی مسلسل بلا اشتعال فائرنگ پر تحفظات کا اظہار کیا، ایسے حالات میں جب حکومت کو ایک طرف اندرون ملک دھرنا سیاست سے پیدا ہونیوالے مسائل کا سامنا ہو تو خارجی سطح پر دُشمن ملکی سرحدوں پر نہ صرف مسلسل گولہ باری کررہا ہو بلکہ محدود جنگ چھیڑ دے اور پھر پاکستان اندرونی دشمنوں سے بھی جنگ لڑرہا ہو تولازم ہوجاتا ہے کہ تمام جماعتیں اندرونی اختلافات بھُلا کر ایک ہو جائیں اور دُشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن جائیں۔

طاہرالقادری کے سیاست میں آنے کے اعلان اور جلسوں کی طرف رُخ کرنے سے ڈی چوک میں اب صرف علامتی دھرنے باقی رہ گئے ہیں۔ اب حکومت کو چاہیے کہ انہیں محفوظ و باعزت راستہ دے اور مذاکرات کرکے لوگوں کوگھروں کو بھجوائے ویسے بھی اسلام آباد کے موسم میں جس تیزی سے سردی اور خُنکی میں اضافہ ہوا ہے، وہ یہی پیغام دے رہا ہے کہ راتیں سڑکوں کی بجائے گھروں میں بسر کی جائیں تو بہتر ہوگا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔