عافیہ اپیل کیس،کنفیوژن دور کیا جائے

ایڈیٹوریل  جمعرات 16 اکتوبر 2014
اصول وضوابط کے مطابق ایسے امور وکلاء کے ذریعے سرانجام دیے جاتے ہیں کہ آیا مدعی یہ کیس جاری رکھنا چاہتا ہے یا نہیں۔
فوٹو: فائل

اصول وضوابط کے مطابق ایسے امور وکلاء کے ذریعے سرانجام دیے جاتے ہیں کہ آیا مدعی یہ کیس جاری رکھنا چاہتا ہے یا نہیں۔ فوٹو: فائل

امریکا میں اسیر ڈاکٹرعافیہ صدیقی اپیل کیس کو پراسرار انداز میں بندکرنے کی خبر انتہائی تشویش ناک ہے،کیونکہ انصاف کا حصول ہرانسان کا بنیادی حق ہے،اپیل کی سماعت کے لیے مقررجج کا ازخود کیس کو پراسرار انداز میں بند کرنے کا عمل کسی بھی طور انصاف کے تقاضوں پر پورا نہیں اترتا ، اس سلسلے میں عافیہ موومنٹ کی سربراہ ڈاکٹرفوزیہ صدیقی نے ایکسپریس کو بتایا کہ ان کی بہن ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے اپیل کیس کے حوالے سے انھیں مکمل اختیار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ان کی جانب سے وکالت نامے پر دستخط کر کے اپیل کیس کو آگے بڑھائیں ، لیکن اپیل کیس کے جج نے ازخود یہ کہہ کر کہ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی اپیل کیس کی سماعت میں دلچسپی نہیں رکھتیں ،کیس کو پراسرار طور پر بند کردیا ہے حالانکہ دنیا بھر کے عدالتی نظام میں کہیں بھی ایسا نہیں ہوتا کہ جج براہ راست ایسی بات کہے ۔

اصول وضوابط کے مطابق ایسے امور وکلاء کے ذریعے سرانجام دیے جاتے ہیں کہ آیا مدعی یہ کیس جاری رکھنا چاہتا ہے یا نہیں۔براہ راست جج خود فیصلہ نہیں کرسکتا کہ اپیل کیس ختم کیا جاتا ہے ۔ یہ سراسر انصاف کا قتل ہے ۔ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کا کہنا تھا کہ اپیل کیس کے حوالے سے اہم اور ٹھوس شواہد سامنے آنے پر ایسا کیا گیا ہے ، کیونکہ جس شخص نے ڈاکٹرعافیہ صدیقی کوکراچی سے بچوں سمیت اغوا کیا تھا اور افغانستان میں اقدام قتل کے جھوٹے مقدمے کے خلاف شواہد اور ویڈیوز بھی منظرنامے پر آنے سے یہ کیس مضبوط ہوا تھا، اسی خوف کے تحت اپیل کیس کو پراسرار انداز میں ختم کرنے کی سازش کی گئی ہے ۔ یہ فیصلہ انتہائی سفاکانہ ہے، جج  نے انصاف کے تقاضوں کو نظراندازکرتے ہوئے ایک کنفیوژن پھیلانے کی کوشش کی ہے اس اہم ترین مسئلے پر حکومت کی خاموشی ایک سوالیہ نشان ہے۔دفترخارجہ کو چاہیے کہ وہ پاکستانی سفارت خانے کو ہدایت جاری کرے کہ پیدا شدہ کنفیوژن دور کیا جائے اور مسلم لیگ ن کی حکومت عافیہ صدیقی کی رہائی کے حوالے کیا ہوا اپنا وعدہ ایفا کرے ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔