قومی غیرت کی نمائش کے میدان

نصرت جاوید  جمعـء 17 اکتوبر 2014
nusrat.javeed@gmail.com

[email protected]

سچیتا دلال بھارت کی ایک بہت معروف صحافی ہے جس کا لکھا وہاں کے کاروباری حلقوں اور معاشی فیصلے کرنے والے افسروں میں بڑا معتبر مانا جاتا ہے۔ جنوبی کوریا کے ایک طویل دورے کی وجہ سے میری اس سے کافی دوستی ہو گئی اور اسی کی وجہ سے میں 2000ء کے اپریل میں بمبئی جا کر شیوسینا کے بانی بال ٹھاکرے کا انٹرویو لینے میں کامیاب ہو سکا۔ اس انٹرویو کی تلاش میں جب میں اس کے شہر بمبئی میں موجود تھا تو ایک شام اس نے مجھے وہاں کے ایک مشہور رہائشی علاقے کا پیدل دورہ کروایا۔ مختلف محلوںاور بازاروں سے گزرتے ہوئے جب ہم ایک گراؤنڈ کے پاس پہنچے تو سچیتا نے فخر بھری ممتا کے ساتھ مجھے یہ اطلاع دی کہ سچن ٹنڈولکر نے اپنی کرکٹ کا آغاز اس گراؤنڈ سے کیا تھا۔ میں اس کی فخر و انبساط سے بھری اس اطلاع کو پوری طرح سراہ ہی نہ پایا کیونکہ مجھے خبر ہی نہ تھی کہ سچن کون ہے اور کرکٹ کے حوالے سے اس کی کیا اہمیت ہے۔

ہمارے اسکول میں کھیلوں اور غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لینا لازمی ہوا کرتا تھا۔ میں نے فٹ بال کھیلنے والوں میں شامل ہو کر وقت گزارا اور کھیل کے شعبے میں اپنی ناکامی کا اپنے اسکول کی طرف سے مباحثوں میں حصہ لے کر کفایہ ادا کرتا رہا۔ کرکٹ کی سمجھ بوجھ مگر اپنے محلے کی وجہ سے ضرور بن گئی۔ ان دنوں ٹیلی وژن اتنا عام نہیں ہوا تھا۔ لوگوں کی اکثریت 5 روزہ ٹیسٹ میچوں کو ریڈیو کے ذریعے ’’دیکھا‘‘ کرتی تھی۔ کرکٹ میچوں پر رننگ کمنٹری مگر انگریزی زبان میں ہوا کرتی تھی۔ اس زبان کو سمجھنے والے بچوں کو کئی حضرات اپنے ٹرانزسسٹر ریڈیو تھما کر تازہ ترین اسکور کے بارے میں مسلسل معلومات حاصل کرتے رہتے۔

ہمارا ایک مشہور تندور والا مگر ابلاغ کے فروغ کا خواہاں تھا۔ اس نے اپنی دکان کے باہر ایک دیوار پر کافی مہنگی لکڑی سے بنا ایک تختہ سیاہ لگوا دیا۔ جب پاکستان کرکٹ ٹیم کا کوئی میچ ہو رہا ہوتا تو وہ بہت سارے رنگین چاک اور صاف ستھرے ڈسٹر لے کر میرے جیسے بچوں کو ریڈیو سے سن کر اس بورڈ پر رواں میچ کی تفصیلات لکھنے پر اُکساتا رہتا۔ میرا انگریزی کا فہم محلے کے باقی بچوں سے ذرا زیادہ بہتر تھا اور تختی لکھنے کی روزانہ عادت کی وجہ سے شاید خوش خط بھی تھا۔

ان دو وجوہات کی بناء پر میچوں کے سیزن میں وہ تندور والا میرے بہت لاڈ اُٹھاتا۔ عام دنوں میں بھی بغیر کسی پیسے کے مجھے بہت سارے تلوں سے بھرا خوب سرخ ہوا کلچہ ناشتے کے لیے دے دیتا اور اکثر عصر کے وقت کھانے کو تین چار باقر خانیاں بھی۔ اس کی اس شفقت اور رشوت کی وجہ سے کالج جانے تک کرکٹ کی کافی شدبدھ رہی۔ اس کے بعد مگر ادب، انقلاب اور بالآخر سیاست پر کل وقتی صحافت کی لت پڑ گئی۔ سچن تو دور کی بات ہے مجھے اپنے ملک کے نامور کھلاڑیوں کے بارے میں بھی کوئی زیادہ خبر نہیں رہی۔ عمران خان سے واسطہ بھی ان کے شوکت خانم اسپتال اور بعدازاں سیاست میں آنے کی وجہ سے کافی گہرا ہوا۔

کرکٹ سے اپنی لاعلمی کی وجہ سے اکثر کئی محفلوں میں بیٹھے ہوئے کافی سبکی محسوس ہوتی ہے مگر انگریزی کا ایک محاورہ متنبہ کرتا ہے کہ بوڑھے گھوڑے کو نئے کرتب نہیں سکھائے جا سکتے۔ اس لیے کافی کوشش بھی کر لوں تو اس کھیل کے معاملات کے بارے میں قطعی کورا ہی رہوں گا۔ گزشتہ چند دنوں سے البتہ مجھے یہ خدشہ لاحق ہو گیا ہے کہ اگر شعیب اختر نام کا کسی زمانے میں بہت مشہور مانے جانے والا باؤلر مسلسل ٹی وی پر آ کر اس کھیل سے جڑی سیاست اور سازشوں کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتا رہا تو میں انتہائی سنجیدگی سے اس شعبے سے متعلق بھی اپنے کچھ گرانقدر خیالات گھڑنے اور ان کے اظہار پر مجبور ہو جاؤں گا۔

ایمان داری کی بات ہے کہ مجھے ہرگز خبر نہیں کہ شعیب اختر کرکٹ کی باریکیوں کے بارے میں بات کرنے کا کتنا اہل ہے۔ اس کی ’’مہارت‘‘ سے کہیں زیادہ پریشان مجھے اس کا عقلِ کل ہونے والا رویہ کرتا ہے۔ چند دن پہلے یہ بحث چلی کہ مصباح الحق کو ہماری ٹیم کا کپتان رہنا چاہیے یا نہیں۔ پھر قضیہ کھڑا ہو گیا شاہد آفریدی کے کسی بیان کا جس کا شہر یار خان جیسے جہاں دیدہ سفارت کار جو اِن دنوں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ہوتے ہیں ٹی وی کیمروں کے سامنے آ کر نوٹس لینے پر مجبور ہو گئے۔ میڈیا پر ان تمام معاملات کے حوالے سے کافی رونق لگی رہی۔ میری بدقسمتی مگر یہ ہوئی کہ میں جب بھی اپنا ریموٹ دباتا کسی نہ کسی اسکرین پر شعیب اختر بیٹھا مصباح اور شاہد آفریدی کو شیر بن شیر جیسے مشورے دیتا نظر آتا۔

کھلاڑیوں کی ایک دوسرے کے ساتھ قربت کی وجہ سے کچھ پرانی رقابتیں بھی ہوتی ہیں۔ ان کے اظہار کا مگر کوئی طریقہ ہوتا ہے اور شعیب کو خدا نے ایسے کسی سلیقے سے محروم رکھا ہوا ہے۔ وہ اپنے خیالات کا اظہار ویسے ہی کرتا ہے جیسے زیر بحث شخصیت کو ہر صورت کلین بولڈ کرنا ہو۔ شاید اس کا یہ Blunt انداز ٹی وی اسکرین پر کرکٹ سے جڑی حماقتوں پر پریشان ناظرین کو بہت پسند آتا ہو۔ مشکل میری مگر یہ ہو گئی ہے کہ ان دنوں شعیب اختر کھیل اور کھلاڑیوں کے معاملات سے بالآتر ہو کر پاکستان کرکٹ بورڈ اور اس کے چیئرمین کو ان کی ’’اوقات‘‘ میں لانے کے مشن میں مبتلا ہو گیا ہے۔

’’قومی غیرت‘‘ ہمارے سماج سدھار پارسا اینکروں کو اکثر بے چین کیے رہتی ہے۔ اب یہی جذبہ شعیب اختر کو بھی بہت تنگ کرنا شروع ہو گیا ہے۔ موصوف اس بات پر بہت چراغ پا ہیں کہ شہر یار خان اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے بھارت کرکٹ بورڈ کے حکام سے کسی نہ کسی طرح رابطے قائم کر کے ان کی ٹیم کو پاکستان کیوں لانا چاہ رہے ہیں۔ ’’قومی غیرت‘‘ کے جذبے سے مغلوب ہو کر شعیب ا ختر اکثر تلملا کر قوم کو یہ بات بھی یاد دلانا شرع ہو گئے ہیں کہ پورے 30سال تک دنیا نے جنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیم کا بائیکاٹ کیے رکھا تھا۔ پاکستان کے ساتھ بھی اگر کوئی ملک ہمارے ہاں آ کر کرکٹ میچ نہیں کھیلنا چاہتا تو جائے جہنم میں۔ ہمیں اپنی خودی میں گم ہوکر اسے بلند کرتے رہنا چاہیے۔

خدا کے لیے کوئی شعیب اختر کو یہ سمجھا دے کہ جنوبی افریقہ میں کئی دہائیوں تک فسطائی نسل پرستوں نے راج کیا ہے۔ دنیا بھر کی کرکٹ ٹیمیں چند انسان دوست لوگوں اور ملکوں جن میں پاکستان بھی شامل تھا کی بے انتہاء کوششوں کی وجہ سے جنوبی افریقہ کی نسل پرست حکومت کو سبق سکھانے کی خاطر اس کی بنائی ٹیم کے ساتھ رابطے نہیں رکھا کرتی تھیں۔ ’’قومی غیرت‘‘ بہت ضروری ہے مگر اس کا مطلب دنیا کے لیے اچھوت بن جانا بھی ہرگز نہیں ہے۔ کرکٹ ہمارے ہاں سب سے زیادہ مقبول کھیل ہے۔ عام پاکستانی کا یہ حق ہے کہ اس کے کھلاڑی اور حکومت ہر وہ کوشش کریں جس کے نتیجے میں ہمارے اسٹیڈیم آباد ہوں اور انھیں تفریح اور انبساط کے کچھ مواقع میسرآ سکیں۔ سری لنکا میں دہشت گردی کی پھیلائی وحشت اور پژمردگی میں نے بارہا اپنی آنکھوں سے دیکھی تھی۔

مگر وہاں کی حکومت نے بالآخر یکسو ہو کر پوری لگن سے اس پر قابو پا لیا۔ ہم بطور ریاست و قوم اس ملک سے تو کم تر نہیں ہیں۔ خدا را اس بنیادی پہلو کی طرف توجہ دیجیے۔ اپنے ہاں وہ ماحول بنائیے جو غیر ملکی ٹیموں کو یہاں میچ کھیلنے سے اجتناب کا کوئی جواز اور بہانہ ہی فراہم نہ کر پائے۔ عقل کل بن کر ’’قومی غیرت‘‘ کی نمائش کو اور بہت سارے میدان موجود ہیں۔ شعیب  اختر کو اپنی قسمت وہاں آزمانی چاہیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔