خورشید شاہ ’’مہاجر‘‘ لفظ کو گالی دینے پر معافی مانگیں، ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کا مطالبہ

ویب ڈیسک  جمعـء 17 اکتوبر 2014
خورشید شاہ یہ اجازت اور بیان دینے والے کون ہوتے ہیں ہم مہاجروں کو بھی سندھ میں رہنے دیں گے، رکن رابطہ کمیٹی حیدر عباس رضوی  فوٹو: ایکسپریس نیوز

خورشید شاہ یہ اجازت اور بیان دینے والے کون ہوتے ہیں ہم مہاجروں کو بھی سندھ میں رہنے دیں گے، رکن رابطہ کمیٹی حیدر عباس رضوی فوٹو: ایکسپریس نیوز

کراچی: ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے رکن حیدر عباس رضوی نے قائد حزب اختلاف اور پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سید خورشید شاہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ’’مہاجر‘‘ لفظ کو گالی دینے پر مہاجر قوم سے معافی مانگیں اور اپنا بیان فوری واپس لیں۔

کراچی میں رابطہ کمیٹی کے دیگر اراکین کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے حیدر عباس رضوی نے کہا کہ ایسے بیانات دے کر سندھ میں آگ بھڑکانے کی کوشش کی جارہی ہے، خورشید شاہ نے لفظ ’’مہاجر‘‘ کو گالی دی لیکن درحقیقت نفرت اور تعصب کی بات کرنا گالی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم متروکہ سندھ کی 80 فیصد زمین کے مالک ہیں لیکن سندھ تو جاگیرداروں اور وڈیروں کے قبضے میں ہے، ہم نے تو کسی کی ایک انچ زمین بھی غصب نہیں کی۔

حیدر عباس رضوی کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان میں پناہ گزین نہیں بلکہ ہجرت کرکے آئے ہیں، پناہ گزین کا لفظ کیمپوں میں رہنے والوں کے لئے استعمال ہوتا ہے اور خورشید شاہ یہ اجازت اور بیان دینے والے کون ہوتے ہیں ہم مہاجروں کو بھی سندھ میں رہنے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کل کراچی میں پیپلز پارٹی کا جلسہ ہے جس کے لئے قائد ایم کیو ایم الطاف حسین پہلے ہی خیر سگالی اور نیک خواہشات کا پیغام دے چکے ہیں کیونکہ ہم سندھ میں بسنے والے ہر شہری کو سندھی سمجھتے ہیں لیکن اس موقع پر ایسا بیان دینا لمحہ فکریہ ہے، ایسے بیان سے سندھ کو مستحکم کرنے میں مدد نہیں ملے گی لہٰذا خورشید اپنا بیان فوری واپس لیں اور مہاجر لفظ کو گالی دینے پر معافی مانگیں۔

واضح رہے کہ کراچی میں جناح باغ میں پیپلزپارٹی کے جلسے کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے دوران میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے خورشید شاہ کا کہنا تھا  کہ لفظ ’’مہاجر‘‘ گالی ہے اس لئے اسے استعمال نہ کیا جائے کیوں کہ مہاجر وہ ہوتے ہیں جو کیمپوں میں رہیں لیکن ہم سب کو ساتھ رکھیں گے کسی کی ہندوستان واپسی نہیں چاہتے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔