پاک ایران سرحدی کشیدگی دور کرنے کا کام

ایڈیٹوریل  منگل 21 اکتوبر 2014
بلوچستان میں بھی شر پسندعناصر حالات کو خراب کررہے ہیں۔ فوٹو: فائل

بلوچستان میں بھی شر پسندعناصر حالات کو خراب کررہے ہیں۔ فوٹو: فائل

امور خارجہ اور قومی سلامتی پر وزیراعظم کے خصوصی مشیر سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ پاک ایران سرحد پر پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات کے نتیجے میں پاکستان اور ایران کے تعلقات خراب نہیں ہوں گے کیونکہ اس قسم کی کارروائیاں بعض نان اسٹیٹ ایکٹرز اپنے طور پر کرتے ہیں جنھیں سختی سے کچلنے کی کوشش کی ہے۔ سرتاج عزیز اسلام آباد میں پاک چین اور افغانستان کے سہ فریقی اجلاس کے موقعے پر میڈیا سے بات چیت کر رہے تھے۔

اس اجلاس کا اہتمام پاک چائنہ انسٹی ٹیوٹ نے کیا تھا۔ اس قسم کا پہلا اجلاس چین میں منعقد ہوا جب کہ اگلے اجلاس کا انعقاد افغانستان میں ہو گا۔ سرتاج عزیز نے بتایا کہ پاک ایران سرحد پر ہونے والے ناخوشگوار واقعے کے بعد دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے سفیر کو طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کروایا ہے۔ واضح رہے اس سرحدی جھڑپ میں پاکستان کا ایک اہلکار شہید ہو گیا تھا۔ ادھرایرانی فوج کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف بریگیڈیئر جنرل مسعود جزائری کے حوالے سے ایک اخبارات نے خبر دی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ  پاکستان نے سرحد پار سے حملہ کرنے والے دہشت گردوں کو نہ روکا تو ایرانی فوج ان دہشت گردوں کو کچلنے کے لیے خود کارروائی کرے گی۔ ایران مزید اس قسم کی کارروائیاں برداشت نہیں کرے گا۔ ایرانی فوجی افسر کا  یہ دھمکی نما بیان سنگین ہے۔ دو برادر اسلامی پڑوسی ملکوں کے تعلقات اس نہج پر ہر گز نہیں پہنچنے چاہیئں اور ان کا جلد از جلد مداوا ہونا چاہیے۔

ادھر پاسداران اسلامی انقلاب کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل محمد پاکپور کا بیان بھی سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ دہشت گرد پاکستانی سرزمین کو ایران کے خلاف پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ ایرانی حکام کے سخت لب و لہجے سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاک ایران سرحد پر حالات ٹھیک نہیں ہیں تاہم حالات کا تقاضا یہ ہے کہ ایرانی حکومت خطے کی صورت حال کو سامنے رکھے اور اس کے بعد کوئی ردعمل ظاہر کرے۔ ایرانی فوجی حکام کی طرف سے سخت بیانات معاملات کو بگاڑنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ اس وقت سارے خطے میں دہشت گردی کی صورت حال بہت سنگین ہے‘ دہشت گرد گروپ بڑی ہوشیاری سے ایسی وارداتیں کر رہے ہیں جن کی وجہ سے ہمسایہ ممالک کے درمیان اختلافات پیدا ہو رہے ہیں‘ بلوچستان بھی خاصا حساس خطہ ہے۔یہاں بیرونی قوتیں بھی بعض عناصر کی پشت پناہی کررہی ہیں۔پاکستان پہلے ہی دہشت گردوں کے خلاف لڑ رہا ہے۔

اصولی طور پر حکومت پاکستان اور ایرانی حکام کو باہمی بات چیت کے ذریعے ایسا میکنزم تیار کرنا چاہیے جس کے نتیجے میں نان اسٹیٹ ایکٹر کا خاتمہ کیا جا سکے۔ باہمی تلخی یا ایک دوسرے پر الزامات عائد کر کے معاملہ سدھرنے کے بجائے خراب ہو سکتے ہیں۔پاکستان اور ایران دونوں کو اعلیٰ سطح پر رابطے کرکے صورتحال کو ڈی فیوز کرنا چاہیے۔پاکستان اس وقت ایک جانب شمالی مغرب میں دہشت گردوں سے نمٹ رہا ہے تودوسری جانب اسے مشرقی سرحد پر بھی مسائل کا سامناہے۔بلوچستان میں بھی شر پسندعناصر حالات کو خراب کررہے ہیں۔ ان حالات میں پاکستان کو چاہیے کہ وہ ایران کے تحفظات کو دور کرے اور ایران کو چاہیے کہ وہ بلاجواز اشتعال انگیز بیانات سے پرہیز کرے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔