انتہا پسند ہندوؤں کی نئی درفنطنی، اچھوت طبقہ مسلم حکمرانوں نے تخلیق کیا

سید عاصم محمود  ہفتہ 25 اکتوبر 2014
بھارت کی سبھی اقوام کو ہندو بنانے کے لیے آر ایس ایس کا نیا داؤ۔ فوٹو: فائل

بھارت کی سبھی اقوام کو ہندو بنانے کے لیے آر ایس ایس کا نیا داؤ۔ فوٹو: فائل

ہزاروں سال قبل بدھا نے کہا تھا ’’جس طرح موم بتی کے بغیر آگ نہیں جل سکتی، اسی طرح انسان بھی خدا کے بغیر زندگی نہیں گزار سکتا۔‘‘ یہ حقیقت ہے کہ مذہب ہی انسان کو جینے کے ڈھنگ سکھاتا اور اسے باشعور و بااخلاق بناتا ہے۔ نپولین بونا پارٹ کا قول ہے: ’’اگر مذہب نہ ہوتا، تو غریب سبھی امیروں کو قتل کر دیتے۔‘‘

خرابی اس وقت جنم لیتی ہے جب راہ سے بھٹکے کچھ انسان خدا تعالیٰ کی ذمہ داریاں اپنے ہاتھوں میں لے لیں اور دوسروں کو گناہ گار، مجرم یا واجب القتل ٹھہرانے لگیں۔ انہی انسانوں کو شدت پسند یا انتہا پسند کہا گیا جو دنیا کے ہر مذہب اور معاشرے میں پائے جاتے ہیں۔

ستم ظریفی کہیے کہ ہمارے پڑوس، بھارت میں یہی شدت پسند حکومت سنبھال چکے۔ فی الحال وہ علی الاعلان اپنی انتہا پسندی دکھانے سے گریز کررہے ہیں، لیکن خاموشی سے غیر ہندو بھارتیوں کے خلاف سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

مثال کے طور پر پچھلے دنوں حکمران پارٹی، بی جے پی کی سرپرست انتہا پسند ہندو تنظیم، آر ایس ایس (راشٹریہ سویم سیوک سنگھ) سے تعلق رکھنے والے دانش وروں نے ایک نئی درفنطنی چھوڑ دی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب مسلمان ہندوستان آئے، تو انہوں نے ہندوؤں کے ایک طبقے کو غلام بنا لیا۔ مسلم حکمران ان ہندوؤں سے گھٹیا کام مثلاً پاخانے کی صفائی، بال کاٹنا، جوتے مرمت کرانا وغیرہ کرانے لگے۔ یوں ہندو قوم میں ایک نئے گروہ نے جنم لیا جسے آج ’’اچھوت‘‘ یا ’’دلت‘‘ کہا جاتا ہے۔

اس انوکھے نظریے کا سرخیل بی جے پی کا ترجمان، وجے سونکار شاستری ہے۔ موصوف نے دلتوں پہ تین کتابیں تحریر کی ہیں جن میں یہ عجیب نظریہ پیش کیا گیا۔ ان کتب کا افتتاح آر ایس ایس کے چیف، موہن بھگوت نے کیا۔ اس تقریب میں دیگر انتہا پسند ہندو رہنما بھی شریک تھے۔

گویا آر ایس ایس نے مسلمانوں پر یہ الزام لگادیا کہ انہوں نے ہندو قوم میں ذات پات کی تقسیم کا نظام رائج کیا۔ مسلم مورخ اس برہنہ جھوٹ کا جواب دے ہی رہے ہیں، خود دلت رہنما بھی اسے جھٹلا چکے۔

ڈاکٹر دلیپ دیواکر (Dilip G Diwakar) نئی دہلی میں قائم انڈین انسٹی ٹیوٹ آف دلت اسٹڈیز سے منسلک ممتاز دلت دانشور ہیں۔ ان کا کہنا ہے:’’ یہ دعویٰ کرکے دراصل آر ایس ایس مسلمانوں اور دلتوں میں اختلافات پیدا کرنا چاہتی ہے۔ یہ دعویٰ بڑا خطرناک فرقہ وارانہ پہلو رکھتا ہے۔‘‘

اشا کوتال (Asha Kowtal) مشہور دلت سماجی و سیاسی رہنما ہیں۔ انہوں نے بھی آر ایس ایس کے نئے دعویٰ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ وہ کہتی ہیں ’’آر ایس ایس کے سبھی لیڈر برہمن ہیں۔ ان کی واحد تمنا یہی ہے کہ بھارت میں برہمن راج قائم ہوجائے، گو وہ اسے ہندو راج کا نام دیتے ہیں۔‘‘

مسلمانوں کو دلت طبقے کے قیام کا ذمے دار ٹھہرانا دراصل آر ایس ایس کی سوچی سمجھی سازش ہے۔ یوں وہ ثابت کرنا چاہتی ہے کہ دلت ہندو ہیں… حالانکہ دلتوں کی بڑی تعداد بدھی، عیسائی یا سکھ ہے۔ اس سازش کے پس پشت آر ایس ایس کا یہ فلسفہ کارفرما ہے کہ ہندوستان میں ہر شخص ہندو بن کر رہے، ورنہ وہ یہ ملک چھوڑ دے۔ اسی فلسفے کے تحت آر ایس ایس تمام بھارتی مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں وغیرہ کو ہندو بنانا چاہتی ہے۔ یہ ہے ہندو انتہا پسندی یا شدت پسندی کا ایک گھناؤنا روپ!

تاریخ سے پتا چلتا ہے کہ تقریباً چار ہزار سال قبل وسطی ایشیا سے طاقتور اور جنگجو قبائل ہندوستان پر حملہ آور ہوئے جنہیں بعض مورخین نے ’’آریا‘‘ کا نام دیا۔ انہی قبائل نے امن پسند اور صلح جو ہندوستانیوں کو اپنا غلام بنالیا اور ذات پات کے نظام کی بنیاد رکھی۔

غیر ملکی قبائل سے تعلق رکھنے والے حکمران اور ان کے اہل خانہ ’’برہمن طبقے‘‘ میں شامل ہوئے۔ان کی افواج کے سپاہیوں کو ’’کھشتری‘‘ کہا گیا۔آریائی معاشرے کے تاجر و کاروباری ’’ویش‘‘ کہلائے۔ جبکہ معمولی ہنر رکھنے والے ہندوستانیوں مثلاً موچی، جولاہے، درزی وغیرہ سے’’شودر‘‘ طبقہ وجود میں آیا۔ جو ہندوستانی پاخانے صاف کرتے اور اسی قسم کے دیگر معمولی کام نمٹاتے، انہیں ’’اچھوت‘‘ کا نام ملا۔ یہ قدیم ہندوستانی معاشرے کا سب سے پسا ہوا (پانچواں) طبقہ تھا۔

رفتہ رفتہ ہندوستانی معاشرے میں ذات پات کا نظام مستحکم ہوگیا اور اس سے ’’تین ہزار‘‘ ذیلی ذاتوں نے جنم لیا۔ ان میں سب سے برتر و اعلیٰ مقام برہمن ذاتوں ہی کو حاصل رہا جو حکومت کرنا اور دوسرے ہندوستانیوں کو غلام سمجھنا اپنا ازلی حق سمجھتے ہیں۔ آج بھی بھارت میں حکمران طبقے (سیاست دانوں، جرنیلوں، سرکاری افسروں، مذہبی رہنماؤں) میں بیشتر لوگ برہمن یا کھشتری ہیں۔ نیز معاشرے میں ذات پات کو اہمیت دی جاتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان میں بدھا کے بعد اسلام ہی نے ذات پات کے اس نظام پر کاری وار کیا۔انسان دوست و رحم دل صوفیا ان اچھوتوں میں گھل مل گئے جنہیں برہمن ہاتھ تک لگانا پاپ (گناہ) سمجھتے تھے۔ کوئی اچھوت یا شودر برہمن کی کسی شے کو ہاتھ لگا دیتا، تو اسے کئی بار پانی سے دھویا جاتا۔ مگر صوفیا انہی اچھوتوں کے ساتھ کھانا کھاتے اور انھیں اپنے پہلو میں بٹھاتے۔ بھائی چارے کی یہ تعلیم نبی کریم ﷺ ہی نے صوفیا کو دی تھی۔ آپؐ نے خطبہ حجۃ الوداع میں فرمایا ہے: ’’سب انسان برابر ہیں۔ اور سوائے تقویٰ کے، کسی کو دوسرے پر فضیلت حاصل نہیں۔‘‘

آر ایس ایس کے برہمن رہنما اسی اسلامی فلسفے سے خار کھاتے اور ڈرتے ہیں۔ انہیں علم ہے کہ بھارت میں اسلامی تعلیمات پھلنے پھولنے سے ان کا راج ختم ہوجائے گا۔ اسی لیے وہ مختلف ہتھکنڈوں اور سازشوں سے اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کی سعی کرتے ہیں۔ یہ نیا الزام اسی منصوبے کی ایک کڑی ہے۔

’’منوسمرتی‘‘ ہندوستان کی قدیم ترین مذہبی کتاب ہے جس میں پہلی بار ہندوستانیوں کے سامنے ایک نظام زندگی بھی رکھا گیا۔ ذات پات کی تقسیم اس کتاب میں بدرجہ اتم موجود ہے۔ کتاب کی رو سے:

٭ شودر (اور اچھوت) برہمن کے پاؤں سے پیدا ہوئے لہٰذا وہ ذلیل ترین ذات ہے۔

٭ شودر کتنا ہی ذہین اور باصلاحیت ہو، وہ دولت و جائیداد جمع نہیں کرسکتا۔

٭ شودر پر تعلیم حاصل کرنے کی ممانعت ہے۔

٭ برہمن چاہے، تو وہ شودر سے رقم چھین سکتا ہے۔

یاد رہے، منوسمرتی عام مذہبی کتاب نہیں بلکہ برہمنوں نے اسی کی بنیاد پر اپنے فائدے میں قوانین تخلیق کیے جو آج تک چلے آرہے ہیں۔ چناں چہ آر ایس ایس کے برہمن دانشوروں او جنگجو رہنماؤں نے مسلمانوں پر کیا سوچ کر الزام لگایا کہ انہوں نے ہندوستان میں اچھوت (یا شودر، دلت، ہریجن) طبقے کو جنم دیا؟یہ تو الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے والا معاملہ ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔