غیر ذمے داری کا منہ بولتا ثبوت

نسیم انجم  اتوار 26 اکتوبر 2014
nasim.anjum27@gmail.com

[email protected]

عیدالاضحیٰ، ایثار و قربانی کا سبق دے کر گزر گئی، رونقیں اور چہل پہل ختم ہوگئی، لیکن ایک چیز ختم نہ ہوسکی وہ تھی بدبو۔ ہمارے شہر کراچی کا ہی نہیں دوسرے شہروں خصوصاً حیدرآباد، سکھر اور اندرون پنجاب کے علاقوں کا بھی حال مختلف نہ تھا، گویا شہر شہر، قریہ قریہ بدبو، آلائشوں، غلاظت اور کوڑے کچرے سے آباد تھا۔ جس سڑک سے گزر جائیں بدبو آگے بڑھ کر استقبال کرتی رہی اور گندگی کے ڈھیر خوش آمدید کہتے۔

آخر انتظامیہ ان دنوں کہاں چلی گئی تھی؟ نہ کنٹونمنٹ بورڈ کے علاقے اور نہ دوسرے گلی کوچے اس بدبودار ہوا سے محفوظ تھے، اس بار تو حد ہی ہوگئی اور غیر ذمے داری کی انتہا یہ کہ ایئرپورٹ کے اطراف کے علاقے بھی محفوظ نہ رہ سکے۔ اس رویے نے پروازوں کے لیے خطرات پیدا کردیے، جانوروں کی آنتیں اور اوجھڑی پھینکے جانے کی وجہ سے پرندوں کی دعوت ہوگئی، بلکہ یہ حرکت کرکے باقاعدہ انھیں مدعو کیا گیا تاکہ اللہ نہ کرے کوئی حادثہ ہوجائے، زیادہ تر حادثات بھی ہم سب کی لاپرواہی کا نتیجہ ہیں، کبھی نصاب کی کتابوں میں اس قسم کے مضامین شامل کیے جاتے تھے کہ سر راہ کیلے کے چھلکے نہ پھینکیں، اس طرح راہ گیروں کے پیر پھسلنے کا خطرہ لاحق ہوگا۔ فضائی آلودگی سے بچنے کے لیے بھی کوڑے کرکٹ کو ڈسٹ بن میں پھینکنے کے طریقے بتائے گئے تھے اور سرسبز درختوں کو کاٹنے کے نقصانات سے بھی آگاہ کیا جاتا تھا، لیکن نصاب بدلنے کے بعد اس طرح کے نصیحت آموز مضامین کم ہی کتابوں میں نظر آتے ہیں۔

والدین بھی اپنے بچوں کو تربیت نہیں دیتے ہیں کہ ان کی چھوٹی سی غلطی کی بھی شخص کو ساری عمر معذور کرنے کے لیے کافی ہوگی اور والدین سے شکایت کرنا بھی بے کار کہ زیادہ تر گھر کے بڑے خود ان باتوں کا خیال نہیں رکھتے ہیں اور اپنے بچوں کے ہاتھوں کوڑا کرکٹ دروازوں پر پھنکواتے ہیں اور بالکونیوں سے کچرا ڈالنے کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے یہ فریضہ خود انجام دیتے ہیں۔ ایئرپورٹ کے اردگرد آلائشیں پھینکنے والے بھی بچے نہیں، بلکہ بڑے ہیں، اب یہ اور بات ہے کہ جمعدار بھی اپنی ڈیوٹی سے غفلت برتتے ہوئے رہائشی علاقوں کے نزدیک ہی کچرا پھینک جاتے ہیں، انھیں کوئی پوچھنے والا نہیں؟ پوچھنے والا اپنا ہی مفاد چاہتا ہے، لہٰذا وہ اپنی ملازمت کے تقاضوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے دوسرے کاموں میں مال بنانے میں مصروف عمل رہتا ہے۔

یہ شہر اب لاوارث ہوچکا ہے، اس کا کوئی پرسان حال نہیں۔ ہر ادارہ کرپشن کا شکار ہے، لوڈ شیڈنگ، پانی کے مسائل، یوٹیلٹی بلوں میں خرچ سے تین حصے زیادہ رقم کا اضافہ، ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، عدم تحفظ کا احساس، یہ برائیاں ایک شہر میں نہیں بلکہ پورا ملک اس کی لپیٹ میں ہے، انتظامی ڈھانچہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، لیکن پرواہ کسی کو نہیں؟ عوام اور اہم سرکاری عہدوں پر فائز حضرات بھی قرب و جوار میں ہونے والی برائیوں سے لاتعلق رکھتے ہیں۔ جس کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ ایئرپورٹ پر ماہر نشانہ باز تو تعینات کر دیے گئے لیکن غلاظت و آلائش کو اٹھوانے کا انتظام نہیں کیا گیا اور نہ ہی ایئرپورٹ جیسے اہم ترین اور حساس ادارے کے چاروں طرف سیکیورٹی لگائی گئی، اگر سیکیورٹی گارڈ متعین کیے جاتے تب کس کی ہمت تھی کہ وہ گوشت خود کھاتا اور جانور کی آنتوں اور اوجھڑی کو ایئرپورٹ کے باہر کے حصے کو کوڑے دان سمجھ کر پھینک جاتا، یہ بات بھی قابل توجہ ہے۔

تخریب کار اگر دھماکا خیز مواد چھپا جاتے تو کسی کو کیا پتا چلتا اس لیے کہ وہاں پر کوئی ہے ہی نہیں۔ تھوڑا ہی عرصہ گزرا ہے جب دہشت گرد ایئرپورٹ کی حدود میں گھس آئے تھے اور انھوں نے بھاری نقصان پہنچایا تھا۔ ترجمان سول ایوی ایشن کا یہ حکم کہ ایئرپورٹ کے اطراف میں کھانے پینے کی اشیا اور جانوروں کی آلائشیں ہرگز نہ پھینکی جائیں کیونکہ اس سے پروازیں حادثے کا شکار ہوتی ہیں، بہتر یہ تھا اور ہے کہ پروازوں اور مسافروں کی حفاظت کے لیے دور دور تک آہنی تاروں کا جال بچھایا جائے تاکہ ہر طرح کے خطرات سے حفاظت ہوجائے۔

عید والے دن اور عید کے دوسرے یا تیسرے روز لوگ اپنے عزیز و اقارب سے ملنے کے لیے جاتے ہیں، بعض اوقات راستہ مختصر یا پھر طویل سفر ہوتا ہے، اس پورے راستے سفر کرتے ہوئے ہر شخص کو ناک پر رومال یا ٹشو پیپر رکھنا پڑا۔ نرسری، گلشن اقبال، نارتھ ناظم آباد، گلستان جوہر اور دوسری بے شمار جگہوں پر اس قدر بدبو تھی کہ مسافروں کا سانس لینا دوبھر تھا، اس قدر ناقص انتظامات آخر ملازمین اور ان کے افسران کس دنیا کی سیر کر رہے تھے؟ اول تو بہت سے علاقوں میں گاڑیاں آئیں ہی نہیں اور اگر آئیں بھی تو دور سے ہی نکل گئیں، ایک آدھ جگہ سے آلائشیں اٹھائیں اور آگے جاکر پھینک دیں، جس کا نتیجہ بدبو کی صورت میں سب کے سامنے آگیا۔ اس بار تو چونا ڈالنے کی بھی زحمت گوارہ نہیں کی۔

گزرے برسوں میں حالات پھر بھی بہتر تھے، باقاعدگی کے ساتھ تمام کام ہوتے تھے، غلاظت کو ٹھکانے لگانا اور خشک چونا چھڑکنا، اسپرے وغیرہ کا کام کرنا اہم سمجھا جاتا تھا۔ لیکن موجودہ دور میں اہم اور غیر اہم سب برابر ہے، وہی ساہوکار ہے اور وہی چور، محافظ بھی اور ڈاکو کے فرائض بھی ایک ہی شخص انجام دینے پر اپنا یدطولیٰ رکھتا ہے۔

ایک طرف عوام کو حکومت سے بے شمار شکایتیں ہیں، مہنگائی، چور بازاری، جعلی ادویات اور علاج کی سہولت کا فقدان، کم تنخواہیں اور ٹیکس ہر چیز پر، تو دوسری طرف عوام کے اپنے بھی کچھ فرائض ہیں جنھیں پورا کرنا ان کا اولین فرض ہے خصوصاً دیانت داری، ہمدردی و ایثار۔ اعلیٰ اقدار وصفات پر عمل کرنا ضروری ہے۔ لیکن یہ غربا و امرا ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی میں کافی پیچھے رہ گئے ہیں اور بے ایمانی کرنے میں پی ایچ ڈی کی ڈگری اپنے استادوں سے وصول کرچکے ہیں۔

جہاں کوئی مذہبی یا قانونی تہوار آیا تاجر حضرات نے ہر چیز کی قیمتوں کو دگنا بڑھا دیا، عید، بقرعید، شب برأت اور محرم میں بے ایمانی عروج پر ہوتی ہے۔ دوسرے ملکوں میں اپنے عوام کو سہولتیں مہیا کی جاتی ہیں، سستی چیزوں کے اسٹال لگائے جاتے ہیں، تحفے، تحائف دیے جاتے ہیں، ویسے بھی کئی ممالک میں تو بے روزگاروں کو ماہانہ خرچ بھی دیا جاتا ہے لیکن ہمارے ملک میں غربا و نادار لوگوں کو خودکشی کرنے کا پروانہ دیا جاتا ہے، انھیں موت کے منہ میں دھکیلا جاتا ہے۔ حکومت اتنا عرصہ گزر جانے کے باوجود کچھ نہ کرسکی، نہ دیار غیر کے اصولوں کو اپنایا اور نہ اسلامی طریقوں پر عمل کیا۔ اسلامی تعلیمات کو سوائے چند باتوں کے مغرب نے اپنا لیا ہے ہمارے ملک میں جس قدر سود لیا جاتا ہے کیا مقابلہ؟

امریکی صدر اوباما کو گولف کھیلنے کے لیے منع کردیا جاتا ہے (کلب میں گولف کھیلنے کی اجازت انتظامیہ کی طرف سے نہیں ملی)۔ ہمارے یہاں کی ایسی جمہوریت ہے کہ صدر تو دور کی بات ان کے بچے عوام کو ہر طرح سے تکلیف میں مبتلا کرتے ہیں۔ بڑے سیاستدانوں کے بچوں کے کئی اسکینڈلز بھی سامنے آچکے ہیں، ولی عہد، شہزادے شہزادیوں کا ٹولہ عیاشی کررہا ہے اور بس عوام ہی ہیں جو ہر طرح سے ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔