اردو زبان کے فروغ کے تناظر میں…

 جمعـء 13 جولائ 2012

ذوق و شوق اور لگن کی بدولت انسان مشکل سے مشکل حالات میں اپنی منزل کو پاسکتا ہے، بشرط یہ کہ جستجو ہر دم ساتھ ہو، انتہائی انہماک بھی آپ کو نشانِ راہ کی طرف رہنمائی کرتا رہے، مگر عظیم مقصد کے حصول کے لیے منکسر المزاج ہونا بھی اشد ضروری ہے اور جب علم کی طلب اور تڑپ ہو تو کیسا شرمانا اور کہاں کی جھجک، کیونکہ عزم و حوصلے کی بدولت علم کا حصول ممکن ہے۔ اس راہ میں نہ تو عمر کی قید ہے اور نہ ہی موقع اور حالات کے موافق ہونے کا انتظار۔ عام کہاوت ہے ’’علم حاصل کرو مہد یعنی ماں کی گود سے لحد یعنی گور تک۔‘‘ اور یہی مقولہ اپنا کر تشنگی اور پیاس کو بُجھانے کے لیے دستِ طلب اُٹھا کر ’’ربی زدنی علما‘‘ یعنی اے میرے رب! میرے علم میں اضافہ کردیجیے۔ کی خواہش رہے تو منزل آسان اور سفر کامیاب ہو جاتا ہے۔

قرآنِ کریم کی پہلی وحی ’’پڑھیے! اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا‘‘ عربی زبان میں سہی مگر اس مسحور کر دینے والی عبارت کو سمجھنے کے لیے جس تڑپ، لگن اور جستجو کی ضرورت ہے، اس کا اظہار اسی کتاب فرقان حمید میں بار ہا کیا گیا۔ کبھی فکر کرنے، شعور کرنے، جاننے، عمل کرنے وغیرہ کے ذریعے توجہ دلائی گئی اور ہاں! ذرا سے انہماک کی بدولت عربی بھی اُردو لگنے لگے، ذرا غور تو کریں اور ارشادِ ربّانی کی تعمیل میں ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے کی عادت ڈالیں۔ میری ماں جو ایک دیہاتی خاتون تھیں، فرسودہ نظریات اور معاشرے کی جہالت پسندی کی بدولت زیورِ علم کے اُس حصّے سے آراستہ نہ ہوسکیں جو دنیاوی ضرورتوں کے پیشِ نظر اسکولوں میں دیا جاتا ہے۔

مگر تہذیبی روایات نے تمام تر تکلفات کے باوجود قرآنِ کریم ناظرہ کی روایت کو برقرار رکھا ہوا تھا، یوں وہ قرآن کریم ناظرہ مکمل کر پائیں۔ پھر ازدواجی زندگی کے آغاز نے انھیں ایک دیہات سے شہر کی بارونق فضاؤں میں لابسایا، جہاں ایک مذہبی جماعت سے وابستہ شریکِ سفر کی بدولت گھر میں قرآنِ کریم معہ ترجمہ اور پھر تفاسیرِ قرآن کی جلدوں کی آمد نے ذہن کے اُن سوئے ہوئے گوشوں کو جھنجھوڑنا شروع کیا جو دورِ طفلی میں حصولِ علم کی اُمید یا پایۂ تکمیل ہونے کی تمنّا لیے سوچکے تھے، کیونکہ میری ماں دو بہن بھائیوں پر مشتمل ایک چھوٹے سے خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ ان کی اور بھائی کی عمروں کے درمیان دس سال کا فرق تھا کیونکہ دیگر بہن بھائی عہدِ طفلی ہی میں جدائی کا داغ دے کر ابدی نیند سوچکے تھے۔

قرآنِ کریم کی تعلیم محلے میں میسر تھی اور جب اسکول جانے کی خواہش کی تو صنفِ نازک کے لیے یہاں کے دروازے مقفل پائے۔ ننھے بھائی کی آمد اور پھر چھ برس کی عمر کے بعد اسکول سے واپسی پر اس کے قاعدے کو بڑی حسرت سے دیکھنا، پڑھنا اور پھر تختی پر کچھ لکھنے کی کوشش کرنا، ابھی ایک سال بھی نہ گزرا تھا کب زندگی کی سولہ بہاریں پوری ہوتے ہی شادی کے بندھن میں اُلجھ کر رہ گئیں۔
قرآنِ کریم پڑھنے کا یہ معمول کہ صبح کا آغاز اسی سے ہو، ہمیشگی کا عمل رہا۔ یوں جب تراجم اور تفاسیر سے واسطہ پڑا تو بڑی الجھن سی آن پڑی۔ وہ منزل جسے بہت پیچھے چھوڑ آئی تھیں ایک بار پھر نگاہوں میں جگمگانے لگی، روشنی اور نور کا وہ سفر جو قلب کی گہرائیوں میں سو چکا تھا، ایک بار پھر انگڑائیاں لے کر جاگ اُٹھا۔ انھوں نے عربی سطور کے نیچے اُردو تراجم کو اٹک اٹک کر پڑھنا شروع کیا۔ کچھ دشواری تو تھی مگر آسانیاں دامن وا کیے منتظر تھیں۔ والد صاحب نے اس کوشش میں ابتداً مدد کی اور پھر بڑے بھائی جو ابتدائی جماعت میں زیرِ تعلیم تھے معاون اور مددگار ثابت ہوئے۔ یوں شوقِ علم کی خواہش پوری ہونے لگی۔ ترجمے کے بعد تفسیر کی باری آئی۔ پھر کیا تھا لڑکھڑاہٹ اور اٹک اٹک کر پڑھنے کا مرحلہ روانی میں بدلتا چلا گیا۔ تفہیم القرآن کی چھ جلدوں کے بعد محسنِ انسانیت، آدابِ زندگی، راہِ عمل، زادِ راہ، دُرّ یتیم، تذکارِ صحابیات، دینیات الغرض یہ سلسلہ تھمنے میں نہ آیا۔ دینی کتب کے بعد تاریخی و اصلاحی ناولوں کی باری آئی، پھر گھر میں آنے والے اخبارات، رسائل مثلاً چٹان، ایشیا، زندگی، اردو ڈائجسٹ، سیارہ ڈائجسٹ، ترجمان القرآن، افکارِ معلم وغیرہ بھی معمول کے مطالعے کا حصّہ بنے۔ ان کا یہ سفر اتنا بڑھا کہ روزانہ اور مطالعۂ قرآن و حدیث کے بعد اخبارات و رسائل کے مطالعے میں اکثر اپنا وقت صرف کرتیں۔ یہ سہولت امورِ خانہ داری کو بہوئوں کے سنبھالنے کے باعث ممکن ہو چکی تھی۔
سادہ اور دیہاتی خاتون جو ابتدائی طور پر تشنگی علم کی بدولت خاموش رہ کر اطاعت و فرماں برداری کے تحت لگے بندھے انداز میں زندگی کی ڈگر پر گامزن رہیں، معتدل اور موزوں حالات کے میسر آتے ہی خوابیدہ تصورات کو تعبیر دینے میں کامیاب ہوئیں۔ یہ ایک ایسا سبق ہے جو معاشروں کی تعمیر میں معاون اور کار آمد ثابت ہو سکتا ہے مگر قومی زبان کو ذریعۂ تعلیم اور دفتری زبان بنانے کا خواب تا حال دہرے معیار کا شکار ہے۔ اردو کو اپنانے کی خواہش کے باوجود غلامانہ ذہنیت اور انگریزی کی برتری کا وہ تصور جو ہمیں مرعوب کیے دیتا ہے، اس راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ دفتری اور بینکاری مسائل حل کرنے کے لیے لغات ترتیب دی جا رہی ہیں، کئی ادارے قومی زبان اُردو کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دُور کرنے میں ہمہ تن مصروف ہیں۔

1973ء کے دستور میں قومی زبان اردو مقرر ہونے کے باوجود اس کے نفاذ میں حیلے بہانے تراشے جاتے رہے ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ سائنس اور دیگر علوم کی کتب کی اُردو زبان میں عدم دستیابی کا بہانہ ہے مگر کچھ کر گزرنے کے لیے کسی چھوٹی سی مثال کو بھی غیر اہم سمجھ کر نہیں چھوڑنا چاہیے۔ میری ماں جب عربی سے اُردو پڑھنا سیکھ سکتی ہیں تو موجودہ حالات میں اُردو کو قومی زبان کے ساتھ ساتھ دفتری اور درسی زبان قرار دینے میں کیا رکاوٹ ہے؟ جو اصطلاحات تاحال ترجمہ طلب ہیں ہوتی رہیں گی، آپ تو جرأت کا ثبوت دیتے ہوئے ملک بھر کے سرکاری دفاتر اور درس گاہوں میں اُردو کے نفاذ کا اعلان کیجیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔