کشمیریوں کا لندن میں ملین مارچ

ایڈیٹوریل  پير 27 اکتوبر 2014
آئین کی دفعہ 370 کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو ہندوستان نے خصوصی حیثیت کا درجہ دیا تھا۔  فوٹو: فائل

آئین کی دفعہ 370 کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو ہندوستان نے خصوصی حیثیت کا درجہ دیا تھا۔ فوٹو: فائل

کشمیریوں پر ظلم و بربریت کے خلاف اور ان سے اظہار یکجہتی کے لیے لندن کے ٹریفلگر اسکوائر سے برطانوی وزیراعظم کی رہائشگاہ 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ تک ملین مارچ ہوا جس میں حریت کانفرنس کے رہنماؤں‘ آزاد کشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین‘ انسانی حقوق کی تنظیموں کے نمایندوں‘ برطانوی و یورپی پارلیمنٹ کے ارکان کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتوں کے نمایندوں نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر پورا علاقہ کشمیریوں کو ’’حق خود ارادیت دو‘‘ اور ’’بھارتی انتہا پسندی مردہ باد‘‘ جیسے نعروں سے گونج اٹھا۔ ملین مارچ میں بلاول بھٹو زرداری اور آصفہ بھٹو زرداری بھی شریک ہوئے۔

اس موقع پر اجتماع سے خطاب میں شرکا نے کہا کہ کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جائے، اسکاٹ لینڈ کی آزادی کے لیے ریفرنڈم ہوسکتا ہے تو کشمیر پر کیوں نہیں۔ گزشتہ روز دنیا بھر میں کشمیریوں نے بھرپور انداز میں یوم سیاہ منایا۔ نریندر مودی کی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا حصہ بنانے کی سازش کے منظر عام پر آنے کے بعد 67 سال سے بھارتی ظلم و جبر کا شکار کشمیری اس سازش کو ناکام بنانے کے لیے متحرک ہو گئے ہیں۔ مودی کی سیاست کا محور مسلم اور پاکستان سے نفرت ہے اور اسی نفرت کی بنیاد پر انھوں نے انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ مودی سرکار جموں و کشمیر کی اسمبلی کے انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے اور آئین کی دفعہ 370 ختم کرانے کے لیے سازش کر رہی ہے۔

آئین کی دفعہ 370 کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو ہندوستان نے خصوصی حیثیت کا درجہ دیا تھا۔ اب مودی حکومت آئینی طریقے سے دفعہ 370 کو ختم کر کے جموں و کشمیر کو بھارت کا مستقل حصہ بنانے کے لیے منصوبے بنا رہی ہے، اس طرح اس کے خیال میں کشمیر کا مسئلہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دم توڑ جائے گا۔ اس بات کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مودی کے ان مکروہ عزائم کے باعث مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں میں بھارتی حکومت کے خلاف نفرت میں اضافہ ہونے سے عسکریت پسندی کو مزید ہوا ملے گی۔ مودی سرکار کی اس سازش کو ناکام بنانے کے لیے پاکستان اور کشمیریوں کو پہلے سے زیادہ متحرک ہونا پڑے گا۔ اقوام متحدہ اور عالمی برادری پر بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرے ورنہ یہاں سے اٹھنے والی چنگاری پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔