امام بارگاہ پر حملہ، سیکیورٹی سخت کی جائے

ایڈیٹوریل  جمعرات 30 اکتوبر 2014
بھری پری شاہراہ پر دیدہ دلیری سے حملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گردوں کو پکڑے جانے کا بالکل خوف نہیں تھا۔ فوٹو: ایکسپریس/محمد نعمان

بھری پری شاہراہ پر دیدہ دلیری سے حملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گردوں کو پکڑے جانے کا بالکل خوف نہیں تھا۔ فوٹو: ایکسپریس/محمد نعمان

محرم الحرام میں دہشت گردی کے خدشات کے باعث ملک گیر سیکیورٹی انتظامات سخت کرنے کی ازحد ضرورت ہے۔ گزشتہ روز کراچی میں عائشہ منزل کے قریب واقع اسلامک ریسرچ سینٹر امام بارگاہ پر موٹر سائیکل سوار دہشت گرد فلائی اوور سے دستی بم پھینک کر فرار ہوگئے جو سڑک پر گرکر زوردار دھماکے سے پھٹ گیا، بم حملے میں شیر خوار بچی جاں بحق جب کہ خواتین سمیت 10 افراد زخمی ہوگئے۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ کا حصہ بننے کے بعد سے دشمنان امن کی جانب سے پاک وطن میں خودکش دھماکوں اور مذہبی عمارات پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کی شدت ربیع الاول اور محرم الحرام میں بڑھ جاتی ہے۔ گزشتہ برسوں میں بھی ان مذمومانہ کارروائیوں میں درجنوں جاں بحق اور شدید زخمی ہوچکے ہیں۔

آئی این پی کے مطابق وفاقی پولیس نے وزارت داخلہ کو رپورٹ کے ذریعے محرم الحرام کے دوران 21 اہم شخصیات کی ٹارگٹ کلنگ کا خدشہ ظاہر کیا ہے ۔ پولیس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ محرم کے دوران ملک دشمن عناصر کشیدگی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ منگل کی رات کراچی میں امام بارگاہ پر ہونے والا دستی بم حملہ بھی فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا دینے کی سازش ہے جب کہ عوام یہ اچھی طرح سمجھ چکے ہیں کہ ان وارداتوں میں بیرونی ہاتھ ملوث ہیں جو پاکستان میں مذہبی رواداری کو پھلتا پھولتا دیکھنا نہیں چاہتے اور سازشوں کے ذریعے اتحاد بین المسلمین کا شیرازہ بکھیرنے کے درپے ہیں ۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ کے مطابق مذکورہ حملے میں پھینکے جانے والا دستی بم روسی ساختہ RGD-1 تھا، جس میں 65 گرام ہائی ایکسپلوزیو دھماکا خیزمواد تھا۔

جائے وقوعہ کے قریب فلائی اوور بنایا گیا ہے جہاں سے موٹر سائیکل پر سوار دہشت گردوں نے یہ بم امام بارگاہ پر پھینکا تھا۔ بھری پری شاہراہ پر دیدہ دلیری سے حملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گردوں کو پکڑے جانے کا بالکل خوف نہیں تھا، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو حرکت میں آتے ہوئے شرپسندوں کو یہ باور کروانا ہوگا کہ وہ عوام کی حفاظت سے غافل نہیں ہیں اور دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لانا ہوگی۔ دہشت گردانہ خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے امام بارگاہوں اور دیگر مذہبی مقامات کی سیکیورٹی سخت کرنے کے ساتھ سیکیورٹی ایجنسیوں کو ہائی الرٹ ہونے کی اشد ضرورت ہے تاکہ امن دشمن عناصر اپنے مذمومانہ مقاصد میں کامیاب نہ ہوسکیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔