ایسے چیف الیکشن کمشنر کا چناؤ کریں گے جس پر سب کو اعتماد ہوگا، نواز شریف

نمائندہ ایکسپریس / آئی این پی  جمعرات 30 اکتوبر 2014
اسلام آباد:وزیراعظم نوازشریف سے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل راشد محمود ملاقات کررہے ہیں .  فوٹو : پی پی آئی

اسلام آباد:وزیراعظم نوازشریف سے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل راشد محمود ملاقات کررہے ہیں . فوٹو : پی پی آئی

اسلام آباد: چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل راشد محمود نے گزشتہ روز وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کی جس میں قومی سلامتی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال ہوا۔

آئی این پی کے مطابق اس موقع پر نواز شریف نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن اور تمام ہمسایہ ممالک سے دوستانہ تعلقات کا خواہاں ہے، ہم کسی کے معاملے میں مداخلت کریں گے نہ کسی کو کرنے دیں گے۔ امن کی خواہش کو پاکستان کی کمزوری نہ سمجھا جائے۔ مسلح افواج اور قوم مادر وطن کے دفاع کیلیے ہر وقت تیار ہیں۔ بھارت سے کشمیر سمیت تمام تنازعات بات چیت سے حل کرنا چاہتے ہیں۔ جماعت اسلامی کے جنرل سیکریٹری لیاقت بلوچ کی قیادت میں6رکنی وفد نے بھی نواز شریف سے ملاقات کی اور ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ آئی این پی کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ حکومت ملکی ترقی اور مسائل کے حل کیلیے تمام سیاسی قوتوں کو ساتھ لیکر چلنا چاہتی ہے۔ ہم تمام ایشوز کو مل بیٹھ کر حل کرنا چاہتے ہیں۔

تحریک انصاف کے انتخابی دھاندلیوں کے الزامات پر جوڈیشل کمیشن بنانے کی پیش کش کی۔ نئے چیف الیکشن کمشنر کیلیے ایسی شخصیت کا چناؤ کریں گے جس پر سب کا اعتماد ہوگا۔ کراچی آپریشن کو اس کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق وفد نے وزیراعظم سے تحریک انصاف ارکان کے استعفوں کو منظور نہ کرنے کی درخواست کی۔ وزیراعظم نے سوال کیا کہ اسپیکر کس آپشن کے تحت استعفے روک کر رکھیں؟ جس پر لیاقت بلوچ نے جواب دیا کہ جس آپشن کے تحت اب تک منظور نہیں کیے گئے۔

وزیراعظم نے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ حکومت کی طرف سے مذاکرات کے دروازے کھلے ہوئے ہیں۔ وفد نے درخواست کی کہ موجودہ سیاسی بحران مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیا جائے۔ تحریک انصاف بھی اپنے استعفے واپس لے۔ وفد نے مطالبہ کیا کہ جن علاقوں کو فوج نے آپریشن کرکے مکمل کلیئرکردیا ہے ان علاقوں میں متاثرین واپس بھجوایا جائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کو مکمل احساس ہے ہم متاثرین کی واپسی اور ان کی مکمل بحالی تک ان کا خیال رکھیں گے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔