بھارت سے مقابلہ: پاکستانی ٹیم نئی تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار

سلیم خالق  ہفتہ 29 ستمبر 2012
ماضی میں بڑے ناموں پر مشتمل پاکستانی ٹیمیں جو کارنامہ انجام نہ دے سکیں وہ یہ نوجوان پلیئرز کرسکتے ہیں.  فوٹو : ایکسپریس

ماضی میں بڑے ناموں پر مشتمل پاکستانی ٹیمیں جو کارنامہ انجام نہ دے سکیں وہ یہ نوجوان پلیئرز کرسکتے ہیں. فوٹو : ایکسپریس

ٹوئنٹی 20 ورلڈکپ کا سب سے کانٹے دار مقابلہ اتوار کو ہونے جا رہا ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان سنسنی خیز مقابلے کے لیے اسٹیج تیار ہوگیا ، روایتی حریف ٹیمیں جب مدمقابل ہوں گی تو دنیا بھر کے کروڑوں شائقین میچ دیکھنے کے سوا کسی اور کام کا سوچ بھی نہیں سکتے، میگا ایونٹ میں دونوں ٹیموں نے اب تک ملی جلی کارکردگی کا مظاہرہ کیا البتہ قسمت گرین شرٹس پر زیادہ مہربان نظر آتی ہے، ون ڈے اور مختصر طرز کے ورلڈکپ کے 7 باہمی میچز میں پاکستان نے کبھی بھارت کو نہیں ہرایا، البتہ اس بار محمد حفیظ نئی تاریخ رقم کرنے کیلیے پُرعزم ہیں۔

گرین شرٹس کو دنیا کی سب سے زیادہ ناقابل بھروسہ سائیڈ قرار دیا جاتا ہے، آسٹریلیا کیخلاف یو اے ای سیریز کے ابتدائی دو میچز جیتنے کے بعد تیسرے میں صرف 74 پر ڈھیر ہونا اسی کا خاصا ہے، ورلڈکپ میں بھی پلیئرز نے عدم تسلسل کا بھرپور ثبوت دیا، جنوبی افریقہ کیخلاف بولرز نے شاندار کھیل پیش کر کے فتح کا امکان یقینی بنایا تو بیٹسمینوں نے محنت پر پانی پھیر دیا، ایسے میں کسی کے وہم و گمان میں جو نہ تھا وہ ہوا، عمر گل نے غیرمعمولی اننگز کھیل کر ٹیم کو کامیابی دلا دی، عمراکمل نے بھی ان کا بھرپور ساتھ دیا، اس جیت میں زیادہ عمل و دخل قسمت کا ہی رہا۔

یہ بات کپتان محمد حفیظ بھی بخوبی جانتے ہیں کہ ہر بار ایسا نہیں ہو سکتا، بھارتی ٹیم لاکھ آئوٹ آف فارم سہی لیکن پاکستان سے کھیلتے ہی تمام پلیئرز کی فارم واپس آ جاتی ہے، لہذا اب غلطیاں دہرائیں تو مشکل پیش آ سکتی ہے۔

ٹورنامنٹ میں اب تک پاکستان کو محمد حفیظ اور عمران نذیر نے تینوں میچز میں بہتر آغاز فراہم کیا ہے، بنگلہ دیش کیخلاف عمران کا ایک رن پر کیچ ڈراپ ہوا تو وہ72 رنز کی شاندار اننگز کھیلنے میں کامیاب رہے، البتہ نیوزی لینڈ اور پروٹیز سے میچز میں وہ زیادہ رنز نہیں بنا سکے،2007 کے ون ڈے ورلڈکپ میں عمران نے ابتدائی 2 میچز میں صرف 30 رنز ہی اسکور کیے تھے،البتہ جب ٹیم سپر ایٹ سے باہر ہوئی تو کمزور زمبابوے کیخلاف 160 کی اننگز کھیل دی، انھیں خود کو بڑے میچز کا پلیئر ثابت کرتے ہوئے بڑی ٹیموں کیخلاف بھی اسکور کرنا ہو گا۔

اس کیلیے احساس ذمہ داری ضروری ہے،کپتان حفیظ گوکہ 2 بار ففٹی کے قریب پہنچے مگر مکمل نہیں کر سکے، بیٹنگ لائن کی غیریقینی کو دیکھتے ہوئے انھیں بوجھ خود اٹھانا چاہیے، ناصر جمشید نے ابتدائی دونوں میچز میں اچھی اننگز کھیلیں مگر جس طرح تیسرے میچ میں وہ اسٹمپڈ ہوئے وہ لمحہ فکریہ ہے، حد سے زیادہ خود اعتمادی انھیں مسائل کا شکار کر سکتی ہے،جاتے ہی چھکے لگانے کی کوشش درست نہیں، ان کے پاس اسٹروکس کا خزانہ موجود ہے جس کا سیٹ ہونے کے بعد استعمال کرنا چاہیے۔ وکٹ کیپر کامران اکمل پرانی ڈگر پر لوٹتے دکھائی دے رہے ہیں۔

جس طرح انھوں نے ہاشم آملا کا کیچ اور پھر اسٹمپڈ ضائع کیا اس نے شائقین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، گذشتہ برس ون ڈے ورلڈکپ میں روایتی حریف سے پاکستان کی شکست میں بڑا کردار ڈراپ کیچز کا ہی تھا، اب اس خامی سے پیچھا چھڑانا ہو گا، وکٹ کیپریا فیلڈرز کی ایک بھی غلطی بھاری پڑ سکتی ہے، کامران نے بھارت کیخلاف وارم اپ میچ میں جو اننگز کھیلی میگا ایونٹ میں تاحال اسے دہرا نہیں سکے ہیں،ٹیم مینجمنٹ اب ان سے دوبارہ ویسی ہی بیٹنگ کی توقع وابستہ کیے بیٹھی ہے،پاکستان کیلیے سب سے تشویش کی بات شاہدآفریدی کی خراب فارم ہے۔

وہ بیٹنگ میں نہ صرف ٹیم بلکہ اپنے لاکھوں پرستاروں کو بھی بیحد مایوس کر رہے ہیں، بھارت کیخلاف اچھی اننگز اس کا ازالہ کر سکتی ہے، آفریدی خود بھی اس حقیقت سے واقف اور یقیناً پریکٹس کے دوران خاصی محنت بھی کر رہے ہوں گے، بطور بولر شعیب ملک کو کپتان نہیں آزما رہے ایسے میں بیٹنگ ہی واحد ذریعہ ہے جس سے وہ اسکواڈ میں جگہ محفوظ رکھ سکتے ہیں،جنوبی افریقہ کیخلاف وہ بھی آفریدی کی طرح غیرذمہ دارانہ شاٹ کھیل کر آئوٹ ہوئے، اب ایسے ایڈونچرز سے پرہیز کرنا ہو گا۔

پاکستانی ٹیم کی اصل قوت اسپن بولنگ ہے مگر سب ہی اس بات سے واقف ہیں کہ بھارتی مضبوط بیٹنگ لائن کیلیے اسپنرز سے نمٹنا مشکل نہیں، اس کے باوجود سعید اجمل، شاہدآفریدی اورمحمد حفیظ کا ٹرائیکا ان کی ناک میں دم کرسکتا ہے، اہم میچ نوجوان رضا حسن کی صلاحیتوں کا بھی امتحان ہو گا، پاکستانی پیسرز عمرگل، سہیل تنویر اور یاسر عرفات نے اب تک مایوس کن کھیل پیش کیا ہے، بھارت کیخلاف ان کے کندھوں پر زیادہ ذمہ داری عائد ہو گی،جس طرح گذشتہ برس وہاب ریاض 5 وکٹیں لے کر ہیرو بنے تھے اب ان میں سے کسی کو بھی یہ موقع مل سکتا ہے، عمرگل کو بیٹنگ کی بدولت ملنے والے مین آف دی میچ ایوارڈ سے خاصا اعتماد حاصل ہوا ہو گا، وہ اب بولنگ سے بھی حریف بیٹسمینوں پر قہر ڈھا سکتے ہیں۔

ماضی میں بڑے ناموں پر مشتمل پاکستانی ٹیمیں جو کارنامہ انجام نہ دے سکیں وہ یہ نوجوان پلیئرز کرسکتے ہیں، بھارت کو ہرا کر حفیظ الیون نہ صرف سیمی فائنل میں جگہ بنا لے گی بلکہ روایتی حریف ٹیم کو گھر واپسی کا پروانہ بھی تھما سکتی ہے، پاکستانی قوم ان دنوں خوشی کو ترسی ہوئی ہے، بنگلہ دیش کو ہرانے پر ہی ایسا جشن منایا جاتا ہے جیسے ورلڈکپ ہی جیت لیا ہو،اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بھارت پر فتح کے بعد ملک میں خوشی کا کیا عالم ہو گا، 11 پاکستانی کرکٹرز کروڑوں عوام کو خوشیاں فراہم کر سکتے ہیں اور انھیں یہ موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔