آن لائن سیاست کا ظہور، پاکستان میں نئی سیاسی تبدیلی

سید عاصم محمود  اتوار 2 نومبر 2014
آن لائن سیاست دراصل ’’انٹرنیٹ فعالیت‘‘ (Internet activism)کی ذیلی قسم ہے۔ انٹر نیٹ فعالیت نے باقاعدہ طور پر 1999ء میں جنم لیا۔ فوٹو : فائل

آن لائن سیاست دراصل ’’انٹرنیٹ فعالیت‘‘ (Internet activism)کی ذیلی قسم ہے۔ انٹر نیٹ فعالیت نے باقاعدہ طور پر 1999ء میں جنم لیا۔ فوٹو : فائل

ملتان شہر میں قومیا سمبلی کے حلقہ این اے 149 میں 16 اکتوبر کو ہونے والا انتخابی معرکہ یہ حقیقت بھی عیاں کر گیا کہ کم از کم پاکستانی شہروں میں روایتی سیاست ایک نئے انقلاب سے گزر رہی ہے۔ وجہ یہ کہ اب انٹرنیٹ یا آن لائن سیاست بھی بڑی عوامی قوت بن چکی۔

درحقیقت حلقہ 149 میں جاوید ہاشمی جیسے تجربے کار اور منجھے ہوئے سیاسی رہنما کو نسبتاً ایک غیر معروف لیڈر‘ عامر ڈوگر نے آن لائن سیاست کی مدد سے بھی شکست دی اور سبھی کو حیران کر دیا۔حلقہ 149ایک شہری حلقہ ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وہاں تین لاکھ اکتالیس ہزار پانچ سو ستائیس ووٹر بستے ہیں۔ ان میں 48فیصد یعنی ڈیڑھ لاکھ سے زائد ووٹر اٹھارہ تا پینتیس سال کے نوجوان ہیں۔

الیکشن سے قبل پی ٹی آئی (پاکستان تحریک انصاف) نے اپنی دیرینہ حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے انہی شہری نوجوانوں کو متحرک کرنے کا سوچا۔ چنانچہ جماعت کی آئی ٹی ٹیم فوراً سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس…فیس بک‘ ٹویٹر، گوگل پلس،لنکڈان وغیرہ پہ سرگرم ہو گئی۔ ان سائٹس پر حلقہ 149کے الیکشن سے متعلق خصوصی صفحات بنا ئے گئے اور وہاں بہ سرعت نت نئی پوسٹیں پوسٹ کی جانے لگیں۔

پاکستانی شہروں کی طرح ملتان میں بھی کثیر نوجوان سمارٹ فون یا ٹیبلٹ رکھتے ہیں۔ چنانچہ جیسے چراغ سے چراغ جلتا ہے‘ اسی طرح حلقہ149کے نوجوان پی ٹی آئی کی آن لائن انتخابی مہم میں یکجا ہونے لگے۔ اپنی پوسٹوں میں جماعت نے اپنے وہ نظریات و خیالات کھل کر بیان کیے جو نوجوانوں کو متاثر کرتے اور انہیں ایک نئے پاکستان کا روشن و سنہرا مستقبل دکھاتے ہیں۔ یوں پی ٹی آئی نے حلقہ 149کے ہزار ہا نوجوان کو اپنا حامی بنا لیا۔

متحرک آن لائن انتخابی مہم نے حلقے میں پی ٹی آئی کے نوجوانوں کو بھی بہت پُرجوش بنا دیا۔ وہ پھر گلی محلوں میں بھی اپنی تنظیم کی انتخابی مہم چلانے لگے۔ حلقے میں بکھرے ان نوجوانوں کو سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس نے نہ صرف باہم رابطے میں رکھا بلکہ یکجا و متحد کر دیا۔ نت نئی پوسٹیں سبھی کو لمحہ بہ لمحہ بدلتی تبدیلیوں سے آگاہ رکھتیں اور ان کا جذبہ بھی جوان رہتا۔

ایک طرف پی ٹی آئی نے بھرپور آن لائن سیاست کی‘ تو دوسری سمت جاوید ہاشمی اور ان کے رفقا دنیائے انٹرنیٹ میں ایسی مستعدی کا مظاہرہ نہ کر سکے۔ چناں چہ وہ حلقے کے 48 فیصد ووٹروں تک پہنچنے میں خاصی حد تک ناکام رہے۔ خصوصاً ان کی انتخابی مہم تعلیم یافتہ طبقے کو متاثر نہ کر سکی۔ اس سستی و آلکسی کا خمیازہ انہیں پھر ہار کی صورت برداشت کرنا پڑا۔

عجوبے کی تاریخ
آن لائن سیاست دراصل ’’انٹرنیٹ فعالیت‘‘ (Internet activism)کی ذیلی قسم ہے۔ انٹر نیٹ فعالیت نے باقاعدہ طور پر 1999ء میں جنم لیا۔ تب امریکی شہر سیتل میں وی ٹی او( ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن) کے خلاف زبردست مظاہروں کے دوران انٹرنیٹ میں متحرک سماجی رہنماؤں نے ایک خصوصی ویب سائٹ’’ انڈی میڈیا‘‘ ( Indymedia) تخلیق کی۔ مدعا یہ تھا کہ دنیا بھر میں عوام و خواص تک مظاہروں سے متعلق تازہ خبریں پہنچائی جا سکیں۔

آن لائن سیاست نے ابتداً 2004ء کے امریکی صدارتی انتخابات میں جنم لیا۔ تب بعض امیدواروں نے ووٹروں تک پہنچنے کی خاطر انٹرنیٹ کا بھی سہارا لیا۔ لیکن آن لائن سیاست نے باقاعدہ طور پر چار برس بعد جڑیں پکڑ یں۔

تبدیلی کے نمائندے‘ بارک اوباما نے صدارتی الیکشن 2008ء میں اپنے خیالات و نظریات عام لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس سے بھرپور مدد لی۔ ان کی آئی ٹی ٹیم نے انتخابی مہم کے حوالے سے خصوصی پیج تخلیق کئے۔ یوں دنیا والے پہلی بار آگاہ ہوئے کہ انٹرنیٹ بھی سیاست کرنے اور انتخابی مہمات چلانے کا اہم پلیٹ فارم بن سکتا ہے۔

سیاست بنیادی طور پر ایک معاشرتی سرگرمی ہے۔ اسی لیے جوں جوں دنیائے انٹرنیٹ میں انسانوں کی آمدورفت بڑھی‘ آن لائن سیاست بھی پھلتی پھولتی چلی گئی۔ حتیٰ کہ اسی کے بطن سے ’’عرب بہار‘‘ جیسے تاریخ ساز عمل نے جنم لیا۔ تب تیونس سے اردن اور شام تک عوام سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس کے ذریعے متحد ہوئے اور آمرانہ حکومتوں کے خلاف زبردست احتجاج کرنے لگے۔ حتیٰ کہ اس عوامی طاقت نے تیونس‘ مصر اور لیبیا میں آمروں کو پسپا کر دیا۔

امریکی صدارتی الیکشن 2012ء میں آن لائن سیاست کی نئی جہت سامنے آئی۔ تب امریکی سیاسی پارٹیوں نے نہ صرف انتخابی مہم چلانے بلکہ پولنگ بوتھ ڈھونڈنے اور ووٹ ڈالنے میں آسانی پیدا کرنے کی خاطر نت نئی کمپیوٹر ایپلی کیشنیں بنوائیں۔ درحقیقت امریکی امیدواروں نے جتنی متحرک اور سرگرم آن لائن انتخابی مہم چلائی‘ روایتی مہم ویسی پُر جوش نہیں رہی۔
امریکا میں آن لائن سیاست کی بڑھتی مقبولیت دیکھ کے لگتا ہے‘ وہاں کمپیوٹر ماہرین مستقبل میں ایسا میکنزم تخلیق کر لیں گے کہ ہر شہری گھر بیٹھے ہی بذریعہ نیٹ اپنا ووٹ ڈال سکے۔ اگر ایسا ہوا‘ تو یہ عمل خصوصاً ترقی پذیر ممالک کی سیاست کا رخ بدل سکتا ہے۔ کیونکہ پھر ہر شہری کسی دھونس کے بغیر اپنا حق رائے دہی آزادی سے استعمال کر سکے گا۔ نیز دھاندلی و فراڈ کا عنصر بہت کم ہو جائے گا۔یہ آن لائن سیاست کا مثبت روپ ہے۔

پاکستان میں آمد
وطن عزیز میں پی ٹی آئی سب سے پہلے آن لائن سیاست میں متحرک ہوئی۔ جماعت نے نوجوان آئی ٹی ماہرین بھرتی کیے تاکہ وہ دنیائے نیٹ میں جماعت اور اس کے قائدین کو مقبول بنا سکیں۔ماہرین نے اس ضمن میں دیدہ زیب اور پُرکشش ویب سائٹیں تخلیق کیں ۔ ان پہ نہ صرف موئژ مواد دیا بلکہ مختلف پلیٹ فارم بھی بنائے جہاں پاکستانی بحث ومباحثہ کر سکیں اور بے خوف و خطر اپنے جذبات کا اظہار کریں۔یہ حکمت عملی کامیاب رہی اور آج پاکستانی آن لائن سیاست کی دنیا میں پی ٹی آئی ہی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔

اعداد و شمار کی رو سے پاکستان میں تین کروڑ سے زائد شہری نیٹ استعمال کرتے ہیں۔ ایک کروڑ سے زائد فیس بک پر اکاؤنٹ رکھتے ہیں۔ ٹوئٹر پاکستانیوں میں مقبول دوسری سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ ہے۔ اس پر بھی لاکھوں پاکستانی وزٹ کرتے ہیں ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان سائٹس سے وابستہ پاکستانیوں کی ’’90 فیصد‘‘ تعداد نوجوان ہے یعنی وہ تیرہ تا پینتیس سال عمر رکھتی ہے۔

تازہ رپورٹوں کے مطابق فیس بک کی دنیا میں عمران خان مقبول ترین سیاست داں ہیں۔ ان کے 28 لاکھ 91ہزار فین ہیں۔ ان میں سے 21 لاکھ 76ہزار پاکستانی ہیں۔ اسی طرح ان کی جماعت‘ پی ٹی آئی فیس بک میں سب سے مشہور سیاسی جماعت ہے۔ وہ 21 لاکھ 17 ہزار پرستار رکھتی ہے۔ ان میں سے 16 لاکھ 86 ہزار پرستار پاکستان میں مقیم ہیں۔

دوسرے نمبر پر شیخ السلام‘ ڈاکٹر محمد طاہر القادری فائز ہیں۔ آپ دنیا بھر میں فیس بک کے 26 لاکھ 79ہزار پرستار رکھتے ہیں۔ ان میں سے 8 لاکھ 73ہزار پاکستانی ہیں۔ ان کے جلسوں میں لاکھوں پرستاروں کی وجہ سے بھی خاصی رونق ہوتی ہے۔ڈاکٹر صاحب کے پاکستان عوامی تحریک کے فیس بک پر 2 لاکھ 43 ہزار فین ہیں ۔

سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف تیسرے مقبول سیاسی رہنما ہیں۔ وہ 20 لاکھ 76 ہزار فین رکھتے ہیں۔ تاہم ان کی بدقسمتی کہ وہ عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کے برعکس اپنے فیس بک پرستاروں کو متحرک نہیں کر سکے۔ اس ناکامی کی کئی وجوہ ہیں۔ مثلاً سابق صدر اپنی سیاسی جماعت کو فعال نہیں کر سکے، ماضی کے بعض غلط فیصلوں نے انہیں نامقبول بنا دیا وغیرہ وغیرہ۔

دنیائے فیس بک میں دوسری مقبول ترین سیاسی پارٹی جماعت اسلامی ہے۔ وہ 9 لاکھ 48 ہزار پرستار رکھتی ہے۔ دنیائے ویب میں جماعت اسلامی سے وابستہ آئی ٹی ماہرین بھی بڑے سرگرم ہیں۔ وہ اپنی پارٹی کے نظریات و منشور بخوبی پیش کرتے ہیں۔ جماعت اسلامی کے قائد جناب سراج الحق بھی فیس بک پر کثیر پرستار رکھتے ہیں۔ ان کی تعداد 3 لاکھ 17 ہزار سے تجاوز کرچکی۔

شخصیات کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو فیس بک میں چوتھے مقبول سیاسی رہنما وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف ہیں۔ آپ کے 6 لاکھ 14 ہزار پرستار ہیں۔ جبکہ مسلم لیگ (ن) کا پیج 5 لاکھ 29 ہزار لائکس حاصل کرچکا۔

فیس بک پر مسلم لیگ (ن) کے دو اور رہنما بھی ایک لاکھ سے زائد پرستار رکھتے ہیں۔ ان میں حمزہ شہباز شریف (5 لاکھ 79 ہزار) اور مریم نواز شریف (1 لاکھ 91 ہزار) شامل ہیں۔ دلچسپ بات یہ کہ بڑے میاں صاحب یعنی وزیراعظم نواز شریف کے صرف 63 ہزار فین ہیں۔ گویا وزیراعظم پاکستان دنیائے نیٹ میں زیادہ سرگرم نہیں۔

پاکستان پیپلزپارٹی بھی فیس بک پر زیادہ متحرک نہیں۔ اس کا پیج صرف 1 لاکھ 7 ہزار لائکس ہی رکھتا ہے جبکہ اس کے قائد، آصف علی زرداری کے ساڑھے اڑتیس ہزار پرستار ہیں۔ بلاول بھٹو 20 ہزار فین رکھتے ہیں۔

ٹوئٹر کی دنیا میں بھی عمران خان اور ان کی پارٹی کا راج ہے۔ 16 لاکھ 25 ہزار سے زائد مرد و زن ٹوئٹر پر خان صاحب کے فاؤلر یا پرستار ہیں۔ جبکہ پی ٹی آئی کا صفحہ 7 لاکھ 22 ہزار پرستار رکھتا ہے۔

پاکستانی سیاست دانوں میں مریم نواز شریف دنیائے ٹوئٹر میں دوسری مقبول سیاسی رہنما ہیں۔ وہ 7 لاکھ 8 ہزار پرستار رکھتی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما، میاں شہباز شریف بھی دنیائے ٹوئٹر میں بڑے سرگرم ہیں۔ آپ 6 لاکھ 7 ہزار سے زائد پرستار رکھتے ہیں۔پاکستان عوامی لیگ کے سربراہ شیخ رشید ٹوئٹر پر تیسرے مشہور ترین سیاست داں ہیں۔ آپ کے 6 لاکھ 36 ہزار فاؤلر ہیں۔ اس کے بعد پی ٹی آئی کے رہنما، اسد عمر 5 لاکھ 85 ہزار پرستار رکھتے ہیں۔

فیس بک کی نسبت ٹوئٹر میں پی پی پی کے شریک چیئرمین بلاول بھٹو خاصے متحرک ہیں۔ چناں چہ ان کے پرستاروں کی تعداد بھی زیادہ ہے جو 5 لاکھ 36 ہزار سے بڑھ چکی۔ پاکستان عوامی لیگ کے سربراہ، ڈاکٹر طاہر القادری ٹوئٹر پر 2 لاکھ 36 ہزار فاؤلر رکھتے ہیں۔

عام آدمی بھی طاقتور ہوا
سمارٹ فون اور انٹرنیٹ کی عام دستیابی نے اب خصوصاً پاکستانی شہروں میں نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والے تعلیم یافتہ مرد و زن کو بھی اس قابل بنا دیا ہے کہ وہ سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس کی وسیع و عریض اور عظیم الشان دنیا کا حصہ بن سکیں۔

آج ایک پاکستانی مزدور، دکان دار یا چوکیدار کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ فیس بک یا ٹوئٹر پر کھل کر اپنے خیالات و جذبات کا اظہار کرسکے۔ وہ چاہے تو کسی سیاسی رہنما کو تنقید کا نشانہ بنائے یا اس پر تعریف کے پھول برسائے۔

سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس کا کردار اس اسلامی اصول کا جیتا جاگتا نمونہ ہے کہ تمام انسان برابر ہیں (اور صرف باتقویٰ لوگوں ہی کو دوسروں پر برتری حاصل ہے) ۔یہ وہ منفرد پلیٹ فارم ہے جہاں سبھی لوگ مل کر کسی مقامی یا عالمی بحران سے نمٹنے کے لیے جدوجہد کرسکتے ہیں، چاہے وہ ایک دوسرے سے ہزارہا میل دور بیٹھے ہوں۔

پاکستان میں خاص طور پر سوشل میڈیا نے عام انسان کو یہ شعور بخشا کہ وہ اپنے حقوق و فرائض جان سکے اور سیاسی طور پر یہ قیمتی آگہی دی کہ اس کا ووٹ ایک امانت ہے جسے دیانت دار، محبت وطن اور بااخلاص سیاست داں کے سپرد ہی ہونا چاہیے۔

یہ بات بہت خوش آئند ہے کہ سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر پاکستانی نوجوان نسل بہت متحرک ہے ۔وہ ذاتی دلچسپی کے علاوہ سماجی، سیاسی اور علمی موضوعات میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہے۔ انہی نوجوانوں نے پاکستان میں آن لائن سیاست کو بڑھاوا دیا اور اب وہ ترقی کی نئی منازل طے کررہی ہے۔

پاکستانی آن لائن سیاست عوام و خواص کی مشترکہ جدوجہد سے پروان چڑھ رہی ہے۔ چناں چہ یہ صلاحیت رکھتی ہے کہ پاکستانی سیاست جن برائیوں کا شکار ہے، مثلاً وی آئی پی کلچر، وراثتی گدی نشینی، کرپشن وغیرہ انہیں ختم کرسکے۔ آن لائن سیاست پاکستانیوں کو باور کراسکتی ہے کہ سیاسی شعبہ کمائی کا دھندا نہیں، بلکہ اس سے مراد ہے: عوام کی خدمت کرنا اور ملک و قوم کو ترقی دینا۔یاد رکھیے، یونانی فلسفی افلاطون نے ہزاروں سال قبل کہا تھا :

’’اگر ذہین اور قابل لوگ سیاست میں نہ آئیں، تو ایک قوم پہ پست ذہنیت کے افراد حکومت کرنے لگتے ہیں۔‘‘

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔