(بات کچھ اِدھر اُدھر کی) - ادھار قطعی بند ہے!

عارف عزیز  منگل 4 نومبر 2014
منہگائی کے باعث خاص طور پر یومیہ اجرت پر کام کرنے والے اور ماہانہ تنخواہ دار طبقے کی قوتِ خرید ختم ہوتی جارہی ہے۔

منہگائی کے باعث خاص طور پر یومیہ اجرت پر کام کرنے والے اور ماہانہ تنخواہ دار طبقے کی قوتِ خرید ختم ہوتی جارہی ہے۔

’’کیسے ہو ربّن بھائی۔ لاؤ یار دے دو ایک پیکٹ۔‘‘ پان چھالیا کے کیبن پر پہنچ کر منظور صاحب نے بڑی اپنائیت سے اپنے برانڈ کا سگریٹ طلب کیا۔ اُن کے لہجے کی یہ اپنائیت چُغلی کھا رہی تھی کہ اس بار بھی وہ ’’ادھار کی پینے‘‘ کے موڈ میں ہیں، لیکن ربّن پر اس اپنائیت کا کوئی اثر نہیں ہوا۔

’’منظور بھائی تمہارا سگریٹ تو بہت ٹیم سے نہیں آرہا۔ قسم لے لو۔‘‘ ربّن کے دماغ کے کمپیوٹر پر لمحوں میں منظور صاحب کا کھاتا کھلا اور اس نے انہیں صاف جواب دے دیا۔ منظور صاحب کو اس بات پر یقین تو نہ آیا، مگر مجبور تھے۔ دل ہی دل میں اُسے کوستے ہوئے جانے کے لئے مڑے تو ربّن دل کی بات زبان پر لے آیا۔

’’بھیّا! پچھلا حساب چکا رہے ہو؟‘‘

’’شام کو آتا ہوں، آج تمام حساب کر دوں گا۔‘‘ منظور صاحب نے ربّن سے آنکھیں ملائے بغیر جواب دیا اور آگے بڑھ گئے۔ شام تو ہوئی، لیکن منظور صاحب کا ادھار چُکتا نہ ہوا۔( قارئین! ذہن میں رہے کہ اگلی سطور میں ادھار لینے والوں کو ’’اُدھاریے‘‘ لکھا جائے گا۔ )

تو جناب! منظور صاحب کی طرح کسی بھی ’’ادھاریے‘‘ کا دکان دار سے اس کا حساب چُکانے کا وعدہ آسانی سے پورا نہیں ہوتا اور دکان داروں کو بھی اس کا خوب تجربہ ہے، لیکن مستقل گاہکوں کو اُدھار دینا شاید ان کی بھی مجبوری ہے۔

پاکستان میں منہگائی کے باعث خاص طور پر یومیہ اجرت پر کام کرنے والے اور ماہانہ تنخواہ دار طبقے کی بھی قوتِ خرید ختم ہوتی جارہی ہے۔ اکثریت مہینے بھر کا راشن نہیں بلکہ ضرورت کے مطابق روزانہ سودا لانے پر مجبور ہے۔ کبھی قسمت نے ساتھ دیا تو چند دن کا راشن ایک ہی بار لے آئے، لیکن ایسا کم ہوتا ہے۔ اسی طرح پان سگریٹ کے عادی افراد بھی گلی محلے کی دکانوں سے اُدھار پر اپنا ’’نشہ پانی‘‘ پورا کرتے ہیں اور ان میں سے کم ہی دکان دار کے ٹوکنے سے پہلے اُس کا حساب چُکاتے ہیں۔ اکثر وعدے اور یقین دہانیوں پر ٹرخاتے ٹرخاتے کھاتا بڑھتا چلا جاتا ہے اور پھر ’’ادھاریا‘‘ کہیں غائب ہو جاتا ہے۔

ادھار، اکثر جھگڑے کا باعث بھی بنتا ہے۔ مار پیٹ نہ بھی ہو تو تلخ کلامی تو ہوتی ہی ہے۔ بعض لوگ عادتاً بھی ادھار لیتے ہیں، لیکن زیادہ تر مجبور ہیں۔ اکثر کاروباری ایسے گاہکوں کو دکان کی طرف آتا دیکھ کر چُھپنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ ادھار دینے سے بچ سکیں اور محلے داری بھی خراب نہ ہو، لیکن بے مروت اور کاروبار کے معاملے میں رعایت نہ کرنے کا قائل دکان دار اس کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ یہ گاہک کو کوئی وجہ بتائے بغیر بھی ادھار تو کیا نقد سودا دینے سے بھی انکار کرسکتا ہے۔

ہم یہاں ادھار کے متعلق دلچسپ فقروں پر مشتمل اسٹیکرز کا ذکر کررہے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ’’ادھاریے‘‘ پر ان اسٹیکرز کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ اِسے آپ دکان داروں کی ایک بے سُود کوشش ہی سمجھیئے۔ نثر اور نظم کی شکل میں یہ تنبیہی فقرے ہمیں مسکرانے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ بحر اور وزن کی پابندی سے آزاد ’’اشعار‘‘ کا تو مزہ ہی اور ہے۔ بعض دکانوں پر ’’اُدھار ’قطعی‘ بند ہے‘‘ کا اسٹیکر آپ نے بھی دیکھا ہو گا، لیکن دل چسپ بات یہ ہے کہ اسی دکان سے ادھار پر روزانہ ہی سودا جاتا ہے۔ اس کی وجہ وہ منافع ہے، جسے دکان دار اصل رقم کے ساتھ اگلے ایک دو ماہ میں اپنی جیب میں آتا دیکھتا ہے۔ تاہم بعض اوقات صورتِ حال مختلف بھی ہو جاتی ہے۔ اصل رقم اور منافع دونوں ہی ہاتھ نہیں آتے۔ کاروباری افراد کو خاص طور پر کرائے داروں سے محتاط رہنا پڑتا ہے۔

عام دکانوں اور پان سگریٹ کے کیبنز پر کچھ اس قسم کی باتیں پڑھنے میں آتی ہیں: ’’اُدھار ایک ’گند‘ ہے، اس لیے ’بند‘ ہے۔‘‘

مہذب انداز میں کسی کو اُدھار سے باز رکھنے کی ایک کوشش یہ ہے؛ ’’اُدھار مانگ کر شرمندہ نہ کریں‘‘ یا ’’آپ بہت اچھے ہیں، اُدھار اچھا نہیں!‘‘

تھوڑا سخت انداز یوں اپنایا جاتا ہے؛ ’’ادھار مانگ کر شرمندہ نہ ہوں۔‘‘

شاید اِسے دکان دار کی بدتہذیبی کہیں گے؛ ’’نقد بڑے شوق سے، اُدھار اگلے چوک سے۔‘‘

دکان دار ’’ادھاریے‘‘ کو جھانسا بھی دیتے ہیں؛ ’’آج نقد، کل اُدھار۔‘‘

یہ اسٹیکرز سیاست کا احاطہ بھی خوب کرتے ہیں ’’کشمیر کی آزادی تک، امریکا کی بربادی تک اُدھار بند ہے!‘‘

یہ تو ہمیں معلوم نہیں کہ ملکی معیشت پر عمران خان اور طاہرالقادری کے دھرنوں کا کیا اثر پڑا ہے، لیکن ایک جنرل اسٹور میں پڑھا؛ ’’نواز شریف کے استعفیٰ تک ادھار بند ہے‘‘ اور ’’ اس دکان میں وہی نوٹ چلے گا جس پر Go Nawaz Go لکھا ہو گا۔‘‘

ایک دکان دار نے عوامی لیگ کے سربراہ کو بھی کاروبار میں کھینچ لیا؛ ’’شیخ رشید کی شادی تک ادھار بند ہے۔‘‘

اِسی اُدھار کو محبت کی قینچی بھی کہا گیا، لیکن کام نہ بنا تو ’’ادھاریوں‘‘ کو اس طرح ڈرایا گیا؛ ’’اُدھار ایک جادو ہے، اگر دیا تو آپ غائب ہوجائیں گے۔‘‘ لیکن جناب، اس دور میں ایسی باتوں پر کون یقین رکھتا ہے۔ سو یہ وار بھی خالی گیا۔

سچ تو یہ ہے کہ ادھار کا سلسلہ جاری ہی رہے گا۔ آج فقط سبزی، گوشت، آٹا، چاول ہی ادھار پر نہیں لیا جاتا بلکہ موبائل فون کے صارف بھی ہر لمحہ اپنوں سے رابطے میں ہیں، کیوں کہ اب بیلنس لوڈ کرنے والے مخصوص صارف کو ادھار پر ’’لوڈ‘‘ کر دیتے ہیں۔

مجھے یاد آیا، چند دنوں پہلے بھی ادھار پر ایک دل چسپ فقرہ نظر سے گزرا تھا۔ ایک دکان پر لکھا تھا؛’’ادھار صرف 90 سال سے زائد عمر کے لوگوں کو دیا جائے گا، وہ بھی اُن کے والدین کے کہنے پر!‘‘

نوٹ: روزنامہ ایکسپریس  اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر،   مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف  کے ساتھ  [email protected]  پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس بھی بھیجے جا سکتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔