بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے ایک اور رہنما میر قاسم علی کو سزائے موت

ویب ڈیسک  اتوار 2 نومبر 2014
گزشتہ ہفتے عدالت نے پارٹی کے رہنما مطیع الرحمان نظامی کو بھی 1971 کے جنگی جرائم کے جرم میں سزائے موت دینے کا فیصلہ سنایا تھا فوٹو: اے ایف پی

گزشتہ ہفتے عدالت نے پارٹی کے رہنما مطیع الرحمان نظامی کو بھی 1971 کے جنگی جرائم کے جرم میں سزائے موت دینے کا فیصلہ سنایا تھا فوٹو: اے ایف پی

ڈھاکا: بنگلہ دیش میں جنگی جرائم سے متعلق خصوصی ٹریبونل نے جماعت اسلامی کے ایک اور رہنما میر قاسم علی کو سزائے موت سنادی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ڈھاکا میں قائم جنگی جرائم کے خصوصی ٹریبونل میں میر قاسم کے خلاف لوگوں کو اغوا کے بعد قتل کرنے، انہیں تشدد کا نشانہ بنانے کے لئے عقوبت خانہ چلانے اور دیگر الزامات کی سماعت ہوئی، ٹریبونل نے میر قاسم علی کو قتل اور اغوا کے 10 مقدمات میں قصور وار قرار دیتے ہوئے انہیں سزائے موت کے علاوہ 72 سال قید کی سزا بھی سنائی ہے۔ میر قاسم علی کے وکیل کا کہنا ہے کہ ان کے موکل کے خلاف مقدمات کی سماعت کے دوران انصاف کے تقاضوں کو پورا نہیں کیا گیا اس لئے وہ اس فیصلے سے مطمئن نہیں اور وہ عدالتی فیصلے کو چیلنج کریں گے۔

دوسری جانب جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رہنما مطیع الرحمان نظامی کو سزائے موت دینے کے خلاف ملک بھر میں ہڑتال بھی کی گئی ۔

واضح رہے کہ اب تک موجودہ بنگلہ دیشی حکومت کی جانب سے قائم ٹریبونل جماعت اسلامی کے کئی رہنماؤں کو سزائے موت سنا چکا ہے جن میں سے ایک عبدالقادر مُلا کو پھانسی بھی دی جاچکی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔