اقامتِ دین‘ جمہوریت اور مذہبی جماعتوں کا المیہ (1)

اوریا مقبول جان  اتوار 2 نومبر 2014
theharferaz@yahoo.com

[email protected]

نظام کے تسلسل‘ جمہوریت کی بقاء اور انسانی آزادی کے تحفظ کی جتنی آوازیں آج پاکستان کی مذہبی جماعتوں کی جانب سے اٹھ رہی ہیں اس کا شاید ہی اندازہ آج سے بیس پچیس سال پہلے کسی نے کیا ہو۔ یہاں تک کہ سید ابو الاعلیٰ مودودی کی قائم کردہ جماعت اسلامی بھی اس ہر اول دستے کی سرخیل ہے۔

مولانا مودودی موجودہ دور میں مسلم امہ کی وہ آواز تھے جنہوں نے اپنے ارد گرد موجود جدید تہذیبی نظام کو ایک جہل مرکب جانتے ہوئے اسلام کے انقلابی پیغام کی جانب لوگوں کو بلایا تھا۔ سیکولر اخلاقیات اور جدید مغربی اصطلاحات پر قائم شدہ ریاست کے مقابلے میں ایک اسلامی ریاست کا خاکہ دیا تھا۔ اپنے اس سارے کام اور جماعت اسلامی کی جدوجہد کو اقامت دین کا نام دیا تھا۔ اس آواز نے دنیا بھر میں لوگوں کو متاثر کیا اور ہر جگہ اسلامی تحریکوں نے ایک نئی شکل میں ترتیب پانا شروع کیا۔

جماعت اسلامی سے قبل برصغیر میں سیاسی منظرنامے پر جمعیت العلمائے ہند‘ مجلس احرار اور خاکسار جیسی سیاسی مذہبی پارٹیاں اپنے مخصوص مسلکی تصور کے ساتھ سیاسی جدوجہد میں شریک تھیں۔ انگریز کے بنائے گئے جمہوری نظام حکومت‘ بقول اقبال ’’الیکشن، ممبری‘ کونسل‘ وزارت‘‘ میں حصہ لیتی تھیں اور اکثر ناکام ہو کر زمانے کے تنزل کا گلہ کرتی تھیں۔

حیرت اس بات پر تھی کہ دین کے معاملے میں اپنے مدرسے یا دارالعلوم کا مہتمم مقرر کرنے کے لیے تو کبھی مدرسے میں موجود طلبہ اساتذہ سے رائے نہیں لی جاتی تھی‘ کوئی سیکرٹ بیلٹ باکس رکھ کر یہ نہیں پوچھا جاتا تھا کہ کون اس ادارے کو بہتر طور پر چلا سکتا ہے جب کہ انتخاب کے ایسے میدان میں ایک نیک پارسا اور متقی شخص کو اتار دیا جاتا تھا جہاں ایک شریف‘ ایماندار اور نیک شخص کا ووٹ اور ایک اسمگلر‘ ڈاکو‘ شراب خانہ‘ جواء خانہ اور ناچ گھر چلانے والے کا ووٹ برابر ہوتا ہے۔ دونوں صاحب الرائے ہیں۔ دونوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ریاست چلانے کے اہم ترین کام میں برابر کی رائے دے۔

مذہبی جماعتوں نے اس ’’شاندار‘‘ اور ’’مساوات انسانی‘‘ پر مبنی نظام کو وقتی مصلحتوں کے تحت اپنے اوپر جائز قرار دیا اور آج تک اس بات کا ماتم کرتی ہیں کہ چونکہ لوگوں کی اکثریت نہیں چاہتی اس لیے یہاں اللہ کا قانون نافذ نہیں ہو سکتا۔ جماعت اسلامی نے بھی اسی راستے کو وقتی مصلحت کے تحت اختیار کیا اور 1970ء کے پہلے عام انتخابات میں بدترین شکست کا سامنا کیا۔

ایسا ہی کچھ حال دیگر مذہبی جماعتوں کا تھا جن کے مسلکی پیروکار انھیں مسجد میں نماز‘ نکاح پر خطبہ اور موت پر دعائے مغفرت تک تو اپنا قائد تسلیم کرتے تھے لیکن انھوں نے جب خود کو ’’اہل الرائے‘‘ کی منصب پر سرفراز دیکھا تو فیصلہ دے دیا کہ ہمیں نظام کار حکومت چلانے کے لیے کسی متقی‘ پرہیز گار یا ایماندار شخص کی ضرورت نہیں۔

یہ ایک ایسا عوامی فیصلہ تھا جس کی گونج آج بھی سنائی دیتی ہے۔ یہاں تک کہ کوئی بھی غیر ملکی فرد‘ حکمران یا وفد آئے ہمارے تخت حکومت پر بیٹھے لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ پاکستان تو ایک روشن خیال ملک ہے جس کے عوام کی اکثریت نے ہر بار مذہبی جماعتوں کو مسترد کیا ہے۔ یہ ہے وہ انجام جو اب تک کی جمہوری جدوجہد کے پھل کے طور پر ملا ہے اور اس نظام کے تسلسل میں اگلے سو سال بھی اسی بدترین انجم کی پیش گوئی کی جا سکتی ہے۔

اقامت دین یعنی دین کو قائم کرنے کا دعویٰ لے کر اٹھنے والی جماعت اسلامی کے بانی سید ابوالاعلیٰ کو اس بات کا ادراک ہو گیا تھا اور ان کی بصیرت افروز نگاہوں نے یہ تسلیم کر لیا تھا کہ اس جمہوری نظام اور انتخابی تسلسل سے دین کے غلبے کی راہ ہموار نہیں ہو سکتی۔ 1976ء کی ایک شام‘ عصر کی محفل میں کہا ’’اسلامی انقلاب برپا کرنے کے لیے انتخابات ہی واحد راستہ نہیں ہیں بلکہ اور بھی بہت سے ذرایع ہیں جن سے کام لیاجا سکتا ہے‘‘ تھوڑی دیر خاموش رہے اور پھر کہا ’’آبادی کی کثیر تعداد آپ کی ہم خیال ہو تو اسلامی نظام کا راستہ روکنا ممکن نہیں رہے گا۔

حکمران رکاوٹ بنیں تو ان پر موثر دبائو ڈال کر جھکنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ ماضی قریب میں انگریز کو عوامی رابطے Mass Contact کے ذریعے ہندوستان چھوڑنے پر مجبور کیا گیا صرف انتخابات پر انحصار نہیں کیا گیا‘‘ یہ انھوں نے ایک دفعہ نہیں بار بار کہا ‘‘(ہفت روزہ زندگی 5 اپریل 1976ء)۔ یہ تھا ایک ایسا لمحہ جو ہر صاحب علم پر کسی ایسے موقع پر آتا ہے جب اسے اس بات کا ادراک ہو جاتا ہے کہ بس میں موجود تمام مسافروں کے دلوں میں منزل بھی ایک ہے لیکن بس غلط راستے پر ڈال دی گئی ہے۔ ایسے میں وہ فوراً غلطی کا احساس کرتے ہوئے بس کا رخ موڑنے کی کوشش کرتا ہے‘ اور اگر بس کا سٹئرینگ اس کے ہاتھ میں نہ ہو تو آواز ضرور بلند کرتا ہے۔

سید مودودی نے آواز بلند کی لیکن جماعت اسلامی کی بس اسی راستے پر گامزن فراٹے بھرتی رہی۔ یہی حال باقی مذہبی جماعتوں کا بھی رہا۔ اسمبلی میں چند سیٹیں اور کبھی کبھار چند وزارتیں لیکن اس مختصر سی کامیابی کی جو قیمت ان سب نے چکائی وہ کسی المیے سے کم نہیں۔آج اس ملک میں مذہبی‘ سیاسی جمہوری پارٹی تو آپ کو مل جائے گی لیکن اقامت دین کی جدوجہد والا گروہ ملنا نا ممکن ہوتا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ لوگ جن کے دلوں میں صرف اور صرف اللہ کا خوف ہونا چاہیے تھا۔

تعجب ہے کہ وہ اس بات کے ڈر سے اس نظام کی مخالفت نہیں کرتے کہ کوئی طالع آزما نہ آ جائے۔ جو عمر بھر اسٹیٹس کو (Status quo) کی مخالفت کرتے رہے آج اسی کے سب سے بڑے وکیل بن بیٹھے۔ وہ دل جہاں اللہ کا خوف ہونا چاہیے تھا وہاں ’’طالع آزما‘‘ کا خوف بیٹھا ہے۔ جمہوریت اور جمہوری نظام کی بنیاد انسانی آزادی کے خمیر سے اٹھی ہے۔ لفظ انسانی آزادی اسلامی تعلیمات کے بالکل برعکس لفظ العبد‘ یعنی بندے کے مقابل تخلیق کیا گیا۔

انسانی آزادی کے تصور کے تحت ہر شخص اپنے تمام فیصلے کرنے میں مکمل طور پر آزاد اور خود مختار ہے جب کہ لفظاً العبد‘‘ یعنی بندہ اسے اللہ کی غلامی میں قید ایک فرد کو ظاہر کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام مذہبی جماعتیں اگر اپنی سب سے بڑی کامیابی 1973ء کے متفقہ آئین کو ہی تصور کر لیں تو اللہ کا کوئی بھی قانون اس وقت تک قابل نفاذ نہیں ہو سکتا جب تک پارلیمنٹ کی اکثریت اسے منظور نہیں کرتی۔

یہی وہ اکثریت ہے جو انسان کو اللہ کے برابر بلکہ اس سے برتر مقام پر لا کر کھڑا کر دیتی ہے۔ جب آپ یہ تصور کر لیتے ہیں کہ اصل طاقت عوام کے پاس ہے تو پھر آپ کی تمام سرگرمیوں کا مرکز رضائے الٰہی کا حصول نہیں بلکہ ووٹ کا حصول بن جاتا ہے۔ ایسے میں آپ وہ نیکیاں جو لوگ اللہ کو خوش کرنے کے لیے خاموشی سے کرتے ہیں تا کہ آخرت میں اس کا اجر پائیں‘ آپ اسے ووٹ حاصل کرنے کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔ آپ خدمت خلق کے کاموں میں بھی اس لیے بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں کہ آیندہ آنے والے الیکشنوں میں آپ کی پوزیشن مستحکم ہوگی۔

ووٹ حاصل کرنے کی اس دوڑ میں آپ ووٹنگ کو شورائیت کے ہم پلہ کھڑا کر دیتے ہیں۔ کیا اسلامی تاریخ‘ خلفائے راشدین کے سنہری دور یا کسی بھی اسلامی مفکر کے خیالات کے مطابق ایک عابد و زاہد‘ یا عالم و باقر کی رائے ایک اسمگلر‘ چور‘ ڈاکو‘ زانی اور قاتل کے برابر ہو سکتی ہے۔ کس قدر مضحکہ خیز ہے یہ ووٹنگ کا نظام جس میں ووٹ دینے کے لیے کم از کم ایک پابندی ضرور ہے کہ کم سے کم عمر 18 سال ہونی چاہیے۔ جب سب کی رائے برابر ہے تو پھر 15 سال کے ذہین بچے کے ووٹ پر کیوں پابندی ہے اور کیا 90 سال کا ایک فاتر العقل شخص اس قابل ہوتا ہے کہ مستند رائے دے سکے۔

کیا کسی نے یہ آواز بلند کی کہ یہ اسلام کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ اگر 18 سال کی عمر کی پابندی ہو سکتی ہے ووٹ یا رائے دینے کے لیے تو پھر تعلیم‘ کردار اور اخلاق کی اسلام پابندیاں عائد کرتا ہے۔ کسی نے آواز اٹھائی کہ ووٹ بنائے‘ یا رائے دینے کے حق کے لیے صرف بلوغت شرط نہیں ہونا چاہیے اور بھی شرطیں رکھی جا سکتی ہیں۔

(جاری ہے)

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔