(پاکستان ایک نظر میں) - کیا ہم خود توہین کے مرتکب نہیں رہے؟

نئیر آفاق  بدھ 5 نومبر 2014
ہماری جنونیت کا تو یہ عالم ہے کہ محض الزام کی بنیاد پر لوگوں کو قتل کردیتے ہیں۔ ایسی صورت میں کیا ہم آخرت میں اپنےعظیم رسول کا سامنا کر پائیں گے جس نے اپنے بڑے سے بڑے دشمن تک کو درگزر کر دیا۔ فوٹو فائل

ہماری جنونیت کا تو یہ عالم ہے کہ محض الزام کی بنیاد پر لوگوں کو قتل کردیتے ہیں۔ ایسی صورت میں کیا ہم آخرت میں اپنےعظیم رسول کا سامنا کر پائیں گے جس نے اپنے بڑے سے بڑے دشمن تک کو درگزر کر دیا۔ فوٹو فائل

یہ کہانی ایک شادی شدہ مسلمان جوڑے کی ہے، جن کے نام شہزاد اور شمع اور عمریں بمشکل ۳۰ برس تھیں۔ یہ دونوں بھارت کے شہر گجرات کے نواحی گاؤں رادھا کشن میں اینٹوں کے ایک بھٹے میں محنت مزدوری کر کے پیٹ کا جہنم بھرتے تھے۔ غربت اور تعلیم کی کمی کے ساتھ ساتھ انہیں ایک ایسے ماحول میں رہنا پڑ رہا تھا، جہاں وہ مذہبی اقلیت یعنی عملی طورپر تیسرے درجے کے شہری تھے۔معاشرے میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کے سبب انہیں احساس تھا کہ اگر کسی بھی مرحلے پر کوئی مذہبی نوعیت کا الزام لگ گیا تو پولیس، انتظامیہ اور قانون انہیں تحفظ فراہم کرنے میں مکمل ناکام رہیں گے۔

ہم سب جانتے ہیں کہ بھٹہ مزدوروں کی زندگیاں کس قدر دشوار ہیں۔ ان کا معاشی استحصال ہوتا رہتا ہے اور غریب مزدور اسے اپنی تقدیر کا لکھا سمجھنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ شہزاد اور شمع بھٹہ مالک کے ساتھ اپنی یومیہ اجرت کے معاملے میں محض صبر سے ہی کام لیتے چاہے ان کی حق تلفی ہی کیوں نہ ہورہی ہوتی۔جیسے تیسے زندگی کی گاڑی رواں تھی کہ خدا نے ان پر فضل کیا اور شمع امید سے ہوگئی۔ دونوں اپنے آنگن میں ایک پھول کے کھلنے کے منتظر اور اپنے گھرانے کے بہتر مستقبل کے لئے سپنے بن رہے تھے کہ ایک روزوہی ہوا جس کا انہیں ڈر تھا۔

کسی نے کوئی افواہ اڑادی اور ان پر یہ الزام لگادیا گیا کہ انہوں نے ہندؤں کی مقدس کتاب ویداس کی بے حرمتی کی ہے ۔ یہ الزام لگنے کے بعد ان کے پیروں تلے زمین نکل گئی کیونکہ وہ جانتے تھے کہ پولیس اور قانون ان کی مدد کرنے سے قاصر ہوں گے اور یہ بھی کہ چاہے وہ لاکھ اس الزام کی تردید کریں اور اپنی بے گناہی پر خدا کی قسمیں اٹھائیں، ہندو انتہا پسند اپنے غصے کی آگ بجھائے بغیر انہیں نہیں بخشیں گے۔ عین ممکن ہے کہ ان پر توہین مذہب کا مقدمہ بن جائے اور وہ کال کوٹھری ہی میں کسی انتہا پسند گارڈ کی گولی کا نشانہ بن جائیں۔

اگر ایسا نہ بھی ہوا تو بھی وہ مقدمے میں سزا سے نہیں بچ سکیں گے کیونکہ اول تو وہ وکیل کے اخراجات برداشت نہیں کر سکیں گے، دوم ڈر کے مارے کوئی وکیل ان کے مقدمے کی پیروی ہی نہیں کرے گا، سوئم اگر کوئی وکیل راضی بھی ہوجائے تو اس کی اپنی جان خطرے میں پڑ جائے گی، چہارم یہ کہ انتہا پسندوں کی دھمکیوں کی بنا پر جج بھی ان کے خلاف فیصلہ سنا دے گا۔

شہزاد اور شمع کے یہ خدشات تو غلط نکلے مگرجو ہوا، وہ ان سب سے زیادہ سفاک اور دردناک تھا۔ ایک روز سینکڑوں مشتعل ہندؤں نے ان کے بھٹے پر حملہ کردیا ۔ وہ فریاد کرتے رہ گئے کہ یہ سب الزامات غلط ہیں اور وہ بے قصور ہیں مگر جب ایسا ہجوم آتا ہے تو اپنے ساتھ سب کچھ بہا کر لے جاتا ہے، چاہے وہ انصاف ہو، رحم ہو یا انسانیت۔ ان پر بے رحمی سے تشدد کیا گیا اور اس کے بعد انہیں اینٹوں کے جلتے ہوئے بھٹے میں پھینک کر زندہ جلا کر سفاکی سے قتل کردیاگیا۔ شہزاد اور شمع انصاف اور رحم کی بھیک مانگتے مانگتے اس معصوم بچے سمیت تڑپ تڑپ کر مر گئے جس نے ابھی اس دنیا میں ایک سانس بھی نہیں لیا تھا۔

میں اپنے قارئین سے درخواست کروں گا کہ وہ بھارت کی جگہ پاکستان، گجرات کی جگہ لاہور، انتہا پسند ہندؤں کی جگہ انتہا پسند مسلمان ، ویداس کی جگہ قرآن پاک اور شہزاد اور شمع کو مسلمان کی بجائے مسیحی جوڑا تصور کرتے ہوئے اس کہانی کو ایک بار پھر سے پڑھیں اور سوچیں کہ اگر ایسی درندگی کسی غیر مسلم ملک میں مسلمانوں کے ساتھ ہورہی ہوتی تو وہ کیسا محسوس کرتے؟جی ہاں، یہ دردناک اور انسانیت سوز واقعہ بھارت میں نہیں بلکہ پاکستان کے شہر لاہور کے نواحی گاؤں رادھا کشن میں ایک مسیحی جوڑے کے ساتھ پیش آیا ۔ ان پرقرآن پاک کی بے حرمتی کا الزام لگایا گیا اور پھر خود ہی مدعی اور خود ہی منصف بنتے ہوئے سینکڑوں مشتعل افرادنے انہیں زندہ جلا کر مار ڈالا۔

الزام لگانا تو دنیا کا سہل ترین کام ہے۔ کیا ویسا ہی الزام رمشا مسیح نامی کم سن لڑکی پر نہیں لگایا گیا تھا جو اپنے ذہنی عارضے (Down Syndrome)کے سبب اس الزام کی حیثیت سمجھنے سے بھی قاصر تھی اور بعد میں یہ بھی ثابت ہوگیا۔

ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ کیا ہم بے حس اور انصاف سے عاری فراد پر مشتمل معاشرہ ہیں یا ہم میں انسانیت کوئی رمق باقی رہ گئی ہے۔ کیا وجہ ہے کہ دنیا میں ہمیں ایک جنونی، متشدد اور انتہا پسند ملک کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ایک طرف تو ہم یہ شکوہ کرتے ہیں کہ دنیا میں مسلمانوں کے ساتھ اچھا برتاؤ نہیں کیا جا رہا مگر ساتھ ہی ساتھ ہمیں اپنی آنکھ کا شہتیر بھی دکھائی نہیں دیتا کہ ہم خود مذہبی اقلیتوں کے ساتھ کیا ظلم روا رکھے ہوئے ہیں۔یہ منافقت ہمارے لئے ایک ناسور بن کر رہ گئی ہے۔

ہم میں سے بیشتر شاید اس بات سے بے خبر ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مسیحی خانقاہ St. Catherine کے راہبوں کے نام اپنے خط میں مسیحی قوم کو ان کی جان، مال، عزت، آبرو کی مکمل ضمانت دیتے ہوئے لکھا تھا کہ مسلمان ، مسیحوں کے حقوق ، وقار اور عبادت گاہوں کا تحفظ کریں گے اور ان پر کسی قسم کا کوئی جبر نہیں ہوگا۔ آپ ﷺ نے اس خط میں یہ بھی لکھا کہ مسیحی ان کے اپنے شہری ہیں اور یہ کہ آپ ایسے ہر اقدام کی مذمت کرتے ہیں جو مسیحوں کو تکلیف پہنچائے۔

کیا یہ مناسب نہیں کہ ہم اپنی جنونیت کو ترک کرتے ہوئے مہذب معاشرے کی طرح جینا سیکھیں، انسانیت کا احترام کریں اوراپنے اعمال سے دنیا کو اسلام کا پر امن چہرہ دکھائیں ۔ آئیے، خود سے سوال کیجئے کہ کیا ہم لوگوں نے گوجرہ اور بادامی باغ میں مسیحوں کی بستیاں نہیں جلائیں، کیا خود کش حملہ آوروں نے ان کے گرجا گھروں میں قیامت نہیں ڈھائی۔

دل پر ہاتھ رکھئیے اور خود سے سوال کیجئے کہ کیا ہم آخرت میں اپنے اس عظیم رسول کا سامنا کر پائیں گے جس نے اپنے بڑے سے بڑے دشمن تک کو درگزر کر دیا،  وہ ہستی جس نے کوڑا پھینکنے والی عورت کی بھی تیمارداری کی، وہ ہستی جسے خود خالق کائنات نے رحمتہ اللعالمین کا لقب دیا۔ کیا ہمارے دین یا ہمارے پیغمبر کی حرمت کی پاسداری دوسروں پر توہین قرآن یا توہین رسالت کے جھوٹے الزام لگا کر، مشتعل ہو کر غریبوں کی بستیاں اجاڑ کر اور شمع اور شہزاد کے ساتھ ساتھ ان کے اس بچے کو زندہ جلا کر ہوگی، جو اپنی پیدائش سے پہلے ہی ہماری دردنگی کا شکار ہوگیا؟یہ سب کر کے ہم نے مسیحوں کے ساتھ کئے گئے اس معاہدے کو توڑ دیا ہے جس کی ضمانت خود رسول اللہ ﷺ نے مسیحی راہبوں کے نام اپنے خط میں دی تھی۔کیا ایسا کر کے ہم خود توہین رسالت کے مجرم نہیں بن گئے؟

نوٹ: روزنامہ ایکسپریس  اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر،   مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف  کے ساتھ  [email protected]  پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس بھی بھیجے جا سکتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔