(پاکستان ایک نظر میں) - دشمن ہمارے حوصلے پست نہیں کرسکتے

آصف محمود  بدھ 5 نومبر 2014
فضا ’’اللہ اکبر‘‘کے نعروں سے گونج رہی تھی۔ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ یہاں ایک روزقبل اتنا بڑا حادثہ ہوا تھا۔  فوٹو رائٹرز

فضا ’’اللہ اکبر‘‘کے نعروں سے گونج رہی تھی۔ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ یہاں ایک روزقبل اتنا بڑا حادثہ ہوا تھا۔ فوٹو رائٹرز

انسانی جسم کے لوتھڑے، خون، بکھرے جوتے، ٹوٹی چوڑیاں اوربال بیرنگ سے چھلنی درودیوار۔ یہ منظرتھا واہگہ بارڈر کے مرکزی گیٹ کے قریب اس جگہ گا جہاں 2 نومبرکی شام خودکش دھماکہ ہوا اور60 ہنستی مسکراتی زندگیوں نے موت کے کفن اوڑھ لئے۔ میں یہاں درجنوں بارآچکا تھا۔ میری آنکھوں میں پریڈ کے بعد یہاں ہونے والے رش، انڈین جیولری کی خریداری اورمشروبات پینے کے مناظرگھوم رہے تھے۔ پریڈ ختم ہونے کے بعد یہاں تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی لیکن آج یہاں ویرانی سے ویرانی تھی۔ برگرکے اسٹال پر 10 روپے کا نوٹ پڑ اتھا، اس کے سامنے کسی خاتون کے سرکے بال۔ ایک دکان کے سامنے کسی خاتون کے پاؤں کا ایک جوتا اوراس کےقریب انگوروں کا ایک لفافہ۔

یہ مناظردیکھ کرہی انسان کی آنکھوں میں آنسوآجاتے ہیں۔ دہشت گرد کافی عرصے سے اس جگہ کو ہدف بنانے کے درپے تھے اوربالاآخر وہ اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہوگئے۔ لیکن یہ بھی خداکا شکرہے کہ رینجرزسیکیورٹی کی وجہ سے وہ پریڈ والی جگہ نہیں پہنچ سکے۔  اگرخدانخواستہ خودکش حملہ وہاں ہوتا توپھرناجانے کس قدرتباہی آتی۔

ہم لوگوں کو جائے حادثہ کے معائنے کی اجازت 20 گھنٹے بعد ملی تھی۔ واہگہ کی فضاؤں میں سوگ کا سماں تھا ، ہرچہرہ افسردہ اورآنکھوں میں دکھ تھا۔ اسی وجہ سے پنجاب رینجرزکی طرف سے واہگہ بارڈرپرہونے والی پرچم اتارے جانے کی روایتی تقریب سادگی سے منانے کا اعلان کیا گیا لیکن اگلے روز یہ فیصلہ تبدیل ہوگیا۔ رینجرز نے اعلان کیا کہ تقریب معمول کے مطابق ہوگی اورشہری اس تقریب میں شریک ہوسکیں گے۔ پریڈ سے چند گھنٹے پہلے اعلان کی وجہ سے دوسرے شہروں سے تولوگ واہگہ بارڈرنہیں پہنچ سکے لیکن زندہ دلان لاہورکی بڑی تعداد یہاں پہنچ گئی۔

پریڈ شروع ہونے سے پہلے ہی اسٹیڈیم بھرچکا تھا۔ فضا ’’اللہ اکبر‘‘ اور’’ پاکستان کا مطلب کیا لاالہ اللہ محمد رسول اللہ‘‘ کے نعروں سے گونج رہی تھی۔  کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ یہاں ایک روزقبل اتنا بڑا حادثہ ہوا تھا۔ عام شہریوں کے ساتھ ساتھ کورکمانڈرلاہور لیفٹینٹ جنرل نویدزمان اور ڈی جی رینجرزپنجاب میجرجنرل خان طاہرجاوید خان بھی اس روایتی پریڈ میں شریک ہوئے جس سے رینجرزکے جوانوں کا حوصلہ مزید بڑھ گیا۔

پریڈ ختم ہونے کے بعد جب ہماری مختلف لوگوں بالخصوص خواتین سے بات ہوئی تو ان کے جذبات سن کرسرفخرسے بلند ہوگیا۔ خواتین کا کہنا تھا اگران دھماکوں کی وجہ سے ڈرکرگھروں میں بیٹھ گئے تو دہشت گرد کامیاب ہوجائیں گے، بحیثیت مسلمان ہم سب جانتے ہیں کہ موت کا ایک دن مقرر ہے پھر ڈر کس بات کا؟ اس لئے آج اپنی فیملیزکے ساتھ یہاں آئے ہیں۔

مجھے حیرت تو اس بات پر تھی کہ جن لوگوں نے 60 شہدا کی لاشیں اٹھائیں اور 100 سے زیادہ زخمیوں کو سنبھالا تھا ان کے جذبے کم ہوئے اورنہ ہی خودکش حملہ انہیں خوفزدہ کرسکا۔ آج مجھے اس قوم پر فخر ہے، ہمارے حوصلے بلند ہیں اور سانحہ واہگہ بارڈر کے بعد بھی ہم دشمنوں کے سامنے لوہے کی دیوار کی مانند کھڑے ہیں۔

تم خون کی ہولی کھیلو گے، ہم امن کے پھول اگائیں گے
یہ وطن ہماری جنت ہے، ہم اس کو سنوارے جائیں گے
اے دشمنِ انساں، قوم و وطن، بارود کے تاجر، سوداگر
تمہیں ہم نے کل بھی ہرایا تھا، تمہیں کل بھی ہمی ہرائیں گے

نوٹ: روزنامہ ایکسپریس  اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر،   مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف  کے ساتھ  [email protected]  پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس بھی بھیجے جا سکتے ہیں۔

آصف محمود

آصف محمود

بلاگر کا تعلق لاہور سے ہے اور وہ 2000 سے شعبہ صحافت جبکہ 2009 سے ایکسپریس میڈیا گروپ کے ساتھ وابستہ ہیں۔ پاک بھارت تعلقات، بین المذاہب ہم آہنگی اورسماجی موضوعات پرلکھتے ہیں۔ بلاگر سے اِس ای میل [email protected] پر رابطہ کیا جاسکتا ہے

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔