جمہوریت کیوں ناکام ہوتی ہے؟

مقتدا منصور  جمعرات 6 نومبر 2014
muqtidakhan@hotmail.com

[email protected]

کسی معاشرے میں نظم حکمرانی میں پیش آنے والے مسائل کو سمجھنے کے لیے اس معاشرے کی سیاسی تاریخ، سماجی بنت، ثقافتی روایات اور پیداواری رشتوں کی جانکاری ضروری ہوتی ہے۔پاکستان کا معاملہ دنیا کے دیگر معاشروں سے خاصی حد تک مختلف ہے۔

پاکستان میں سیاست چونکہ پر پیچ بنادی گئی ہے،اس لیے نظم حکمرانی میں بھی پیچیدگیوں کا شکار ہے۔ڈاکٹر مبارک علی برصغیر کے وہ اہم تاریخ دان ہیں،جنہوں نے تاریخ نویسی کو شاہی درباروں سے نکال کر عوام کی چوپالوں اور اوطاقوں تک پہنچایا اورتاریخ فہمی کو ایک نئی جہت عطا کی ہے۔انھوں نے دورِحاضر کے سیاسی وسماجی مسائل ومعاملات کو تاریخ کے تناظر میں جانچنے اور پرکھنے کی روایت کو عام کیا ہے۔ اس کے علاوہ تاریخ کے مختلف ادوارمیں رونماء ہونے والے مختلف واقعات ، حادثات اور سانحات کے آج کی دنیا پر مرتب ہونے والے اثرات کاجائزہ لینے کا تصوربھی دیا ہے۔گذشتہ دنوں ان کا ایک مضمون”When democracy fails” شایع ہوا ۔یہ ایک انتہائی فکر انگیز مضمون ہے،جس میں انھوں نے تاریخ کے تناظرمیں تیسری دنیا کے ممالک میں جمہوری نظم حکمرانی کو درپیش مسائل کا احاطہ کرنے کی کوشش کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے خاتمہ کے بعد جب نوآبادیات آزاد ہونا شروع ہوئیں،تو ایشیاء اور افریقہ کے بیشترممالک کی سیاسی قیادتیں اول تو جمہوری ادارے قائم کرنے میں ناکام رہیں۔ جہاں یہ ادارے کسی نہ کسی طور قائم ہوگئے، وہ انھیں استحکام نہیں دے سکیں۔بلکہ ان کی نااہلی،کوتابینی اورموقع پرستی کے باعث ریاستی ڈھانچہ تباہی کے دہانے تک جاپہنچا۔ مزید ابتری اسوقت آئی ، جب ان ممالک کی فوج نے اقتدار پر قبضہ کرلیا۔

فوج کے اقتدار سنبھالنے کی صورت میں نوآبادیاتی دور سے ورثے میں ملنے والے ادارے بھی شکست وریخت کا شکار ہوگئے۔نتیجتاًان ممالک میں سیاسی انتشار(Chaos) کی جڑیں گہری ہوتی چلی گئیں اور معاشرہ ہر میدان میں انحطاط پذیری میں گھرتا چلاگیا۔اس کے برعکس جن معاشروں میںسیاسی قیادت نے دور اندیشی ، سیاسی عزم وبصیرت اور نیک نیتی کے ساتھ منصوبہ بندی کی، وہاں سست روی کے ساتھ ہی سہی، جمہوریت اور جمہوری اداروں کو استحکام حاصل ہوا اور نظم حکمرانی کی سمت واضح ہوئی۔

اس تناظرمیں پاکستان میں جمہوریت کی ناکامیوں کا جائزہ لیں توبہت سے عوامل سامنے آتے ہیں۔ ملک میں نظم حکمرانی کو درپیش مشکلات کے کئی اسباب ہیں۔ جس میں ریاست کے منطقی جواز کا بحران سرفہرست ہے، جس نے طرز حکمرانی کے بارے میں ان گنت ابہام کھڑے کردیے ہیں۔ ایک طرف دائیں اور بائیں بازو کے وہ قدامت پرست عناصر ہیں، جو جمہوریت کو سرمایہ دار دنیا کا نظام قراردیتے ہوئے رد کرتے ہیں۔جب کہ دوسری طرف بعض ایسے لبرل عناصر ہیں،جو پارلیمانی کے بجائے صدارتی نظام کے حق میں دلائل دے کر نظم حکمرانی کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔

دوسرا مسئلہ صدیوں سے قائم مضبوط قبائلی ڈھانچہ اور فیوڈل کلچر ہے، جس کے سیاسی عمل پر گہر ے نقوش ہیں اور جو جمہوری کلچر کے پروان چڑھنے میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔تیسرا مسئلہ بھارت کے ساتھ تقسیم کے وقت پیداہونے والے تنازعات ہیں، جو قومی سلامتی کے لیے خطرہ تصورکیے جاتے ہیں۔نتیجتاً یہ ملک فلاحی کے بجائے سیکیورٹی اسٹیٹ میں تبدیل ہوگیا ۔ خارجہ پالیسی سمیت اہم قومی امورکی پالیسی سازی پر شروع ہی سے غیر جمہوری قوتوں کا غلبہ قائم ہوگیا ہے لہٰذا قیام پاکستان کے وقت سے جو پالیسیاں مرتب کی گئیں، ان کا مرتکز کبھی بھی عوام نہیں رہے، بلکہ ان پالیسیوں کی تشکیل میں بعض مخصوص مراعات یافتہ طبقات کے مفادات کو مدنظر رکھا گیا، جس کی وجہ سے یہ پالیسیاں عوامی قبولیت حاصل کرنے میں ناکام رہیں۔

اس کے علاوہ پاکستان میں جمہوری حقوق کے لیے گذشتہ 68 برسوں کے دوران چلنے والی عوامی تحاریک کا طائرانہ جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ بااثر طبقات نے اپنے مخصوص مفادات کی خاطر نہایت چابکدستی کے ساتھ ان کا رخ موڑ دیا جس کی وجہ سے جمہوریت جمہوری نظم حکمرانی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔

سب سے پہلا شب خون قرارداد مقاصد کو دستور ساز اسمبلی سے منظور کروا کر مارا گیا جس کے نتیجے میں ملک میں مذہبی عدم رواداری کی بنیاد رکھی گئی۔ آج عقیدے اور فرقہ کے نام پر جتنی بھی نفرتیں پروان چڑھ رہی ہیں، ان میں کہیں نہ کہیں قرارداد مقاصد کا کردارضرور ہے جب کہ بیوروکریسی نے اس قرارداد کے ذریعہ جمہوری اداروں کو غیر مستحکم کیا اور سول وملٹری بیوروکریسی کے اقتدار پر قبضے کی راہ ہموارکی۔

8 جنوری 1953ء کو ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس فیڈریشن(DSF) کی جانب سے کراچی کے طلبہ نے اپنے مطالبات کے حق میں پرامن مظاہرہ کیا  ،جس پر سرکار نے اندھا دھند فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں چند راہ گیروں سمیت27 افراد لقمہ اجل ہوئے۔اس عمل سے حکمرانوں کے جمہوریت کے بارے میں عزائم مزید کھل کر سامنے آگئے۔

دسمبر 1953ء میں سابقہ مشرقی پاکستان میں کئی سیاسی جماعتوں کا اتحاد جگتوفرنٹ کا قائم ہوا،جس نے 1954ء میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں بہت بڑے پیمانے پر کامیابی حاصل کی۔مگر مغربی پاکستان میں بیٹھے بابوؤں نے اس کی حکومت کو چلنے نہیں دیا گیا،جو جمہوریت اور جمہوری اقدار پرتیسرا بڑا حملہ تھا۔ اس کے ساتھ ہی 1954ء میں جنرل ایوب خان کو وفاقی کابینہ میں وزیر دفاع بنایا گیا،جنھوں  نے رہی سہی جمہوری کا جنازہ نکال دیا۔

پھر1955ء میں اقتدار اعلیٰ پر حاوی قوتوں نے ون یونٹ قائم کرکے جمہوریت اور عوامی حقوق کی کمر میں ایک اور چھرا گھونپ دیا۔جس کی وجہ سے ایک طرف بنگالیوں کی عددی تعداد کم کی گئی،تو دوسری طرف مغربی پاکستان میں موجود قومیتوں کا قومی تشخص ختم کرنے کی سازش کی گئی۔ جو جمہوریت اور جمہوری طرز حکمرانی کے منھ پر زوردار طمانچہ تھا۔پھر مارشل لاؤں کا نا ختم ہونے والاسلسلہ جمہوریت کے نحیف وناتواں جسم پر کوڑوں کی طرح برستا رہا۔

1968ء میں ایوب خانی آمریت کے خلاف جب عوامی تحریک منظم ہوئی، تو اس تحریک کے نتیجے میں عوام کو حقوق ملنے کے بجائے ایک نیا مارشل لاء مسلط ہوگیا۔خود ایوب خان نے جو آئین بنایا تھا، اس کی رو سے صدر کے مستعفی ہونے کی صورت میں اسپیکر قومی اسمبلی کو اختیارات منتقل ہوجانے تھے۔مگر ایوب خان نے بنگالی اسپیکر عبدالجبار خان کے بجائے جنرل یحییٰ کو اقتدار سونپ دیا۔جن کا اقتدار سقوط ڈھاکا پراختتام پذیر ہوا۔باقی ماندہ ملک میں نوسیاسی جماعتوں نے قومی اتحاد کے بینر تلے بھٹو حکومت کے خلاف عوامی تحریک چلائی۔

اس تحریک کے نتیجے میں عوام کو مزید جمہوریت ملنے کے بجائے جنرل ضیاء الحق کا مارشل لاء 11 برس تک بھگتنا پڑا۔ 2007ء میں عدلیہ بحالی کی تحریک چلی،جس میں عوام نے اس امید پر دل کھول کر حصہ لیا کہ اس کے نتیجے میں عدالتی نظام میں اصلاحات آسکیں گی اور انصاف کی فراہمی آسان ہوسکے گی۔مگر اس وقت انھیں شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑا، جب ایسا نہ ہو سکا۔ان دنوں لوگ عمران خان کی باتوں پر یقین کرتے ہوئے اس کے جلسوں میں جوق درجوق شریک ہو رہے ہیں،مگر عمران خان نے اپنی انا اور ہٹ دھرمی  کے سبب نظم حکمرانی میں اصلاحات کی تحریک کو بند گلی میں پھنسا دیا ہے۔

یہ طے ہے کہ اس ملک میں ان گنت اصلاحات کی ضرورت ہے۔ نظام حکمرانی سے نظام عدل تک، معاشی نمو کے طریقہ کار سے سماجی تشکیلات تک ہر شعبہ حیات میں اصلاحات اور تبدیلیاں وقت کی ضرورت ہیں۔مگر یہ اصلاحات کسی مردآہن کے احکام جلیلہ کے بجائے کسی نہ کسی متفقہ فورم کے ذریعہ ہی ممکن ہیں۔یہ متفقہ فورم پارلیمان کے سوا کچھ اور نہیں ہوسکتا۔اگر پارلیمان میں پہلے مرحلہ میں انتخابی اصلاحات لائی جائیں اور اس کا دورانیہ پانچ سے کم کرکے چار برس کردیا جائے تو پھر انتخابی شفافیت حکومتی شفافیت کے لیے سیڑھی بن سکتی ہے۔

ایک شفاف اور صاحب بصیرت حکومت دیگر شعبہ حیات میں تبدیلی کا موجب ہوسکتی ہے۔اس لیے تبدیلی کا نشان کوئی شخصیت یا جماعت نہیں بلکہ پارلیمان ہے، جسے مضبوط اور مستحکم بنانے کی صورت ہی میں جمہوریت مستحکم ہوسکتی ہے اور حکمرانی میں بہتری کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔جو سفر برطانیہ نے 1215ء میں میگنا کارٹا کی منظوری کے بعد شروع کیا۔

ریاست ہائے متحدہ امریکا نے 1776ء میں وفاقی آئین کی منظوری کے بعد اور بھارت نے 26 جنوری 1950ء کو سیکیولرآئین کے نفاذ کے بعد شروع کیا،ہم میں اتنی صلاحیت ہے کہ فوری طور پر شروع کرسکیں، بشرطیکہ ہم نظام حکمرانی کے کنفیوژن سے باہر نکل کرجمہوریت اور جمہوری طرز حکمرانی کو اپنی منزل بنالیں ۔آج کے زمانہ میں کسی اور نظام کی ضرورت نہیں ۔اسی طرح صدارتی نظام کے لیے پورا ریاستی و انتظامی ڈھانچہ تبدیل کرنا پڑے گا۔لہٰذا صرف ایک ہی راہ بچتی ہے کہ ہم پارلیمانی جمہوریت کو اپناتے ہوئے قومی ترقی کے اہداف حاصل کرنے پر توجہ مرکوز کریں۔ یاد رہے کہ جب جمہوریت کمزوریا ناکام ہوتی ہے،تو طالع آزماء قوتوں کو اپنا رنگ جمانے کا موقع ملتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔