ایبولا، پولیو اور ڈینگی جیسے امراض کا خاتمہ عوام کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں

احسن کامرے  جمعـء 7 نومبر 2014
موذی امراض سے بچاؤ کے حوالے سے منعقدہ ’’ایکسپریس فورم‘‘ کی رپورٹ۔ فوٹو: شہباز ملک/ایکسپریس

موذی امراض سے بچاؤ کے حوالے سے منعقدہ ’’ایکسپریس فورم‘‘ کی رپورٹ۔ فوٹو: شہباز ملک/ایکسپریس

ایبولا وائرس انتہائی موذی مرض ہے جس نے پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے اور عالمی ادارہ صحت نے بھی تمام ممالک کو حفاظتی انتظامات کرنے کے لیے خبردار کیا ہے۔

ایبولا وائرس 1976ء میں براعظم افریقہ کے ملک کانگو کے دریا ’’ایبولا‘‘ کے قریب آبادی میں پایا گیا اور اسی نسبت سے اسے ’’ایبولا وائرس‘‘ کہا جاتا ہے۔یہ وائرس انتہائی جان لیواہے۔امریکی ایجنسی کی حالیہ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں اس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 4447 ہے اور اگر حفاظتی انتظامات بہتر نہ کیے گئے تواگلے سال تک اس کے متاثرین کی تعداد 14 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔

ایبولا کے ساتھ ساتھ پولیو وائرس نے بھی دنیا کوپریشان کر رکھا ہے۔پولیو پہلے صرف برطانیہ اور یورپ تک محدود تھا مگر1950ء میں اس نے وباء کی صورت اختیار کر لی اور پوری دنیا میں پھیل گیا۔دنیا کے بیشتر ممالک نے تو اس پر قابو پالیا تاہم پاکستان، افغانستان اور نائجیریا ابھی بھی اس سے نبرد آزما ہیں۔رواں سال پاکستان میں اس کے 231 کیس سامنے آئے اور عالمی ادارہ صحت کی طرف سے حکومت کو سخت اقدامات کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔

خواجہ سلمان رفیق (مشیر برائے صحت وزیراعلیٰ پنجاب)

ایبولا وائرس افریقہ کے ممالک سے پھیلنے والی بیماری ہے جس سے بچائو کیلئے عالمی ادارہ صحت نے دنیا کے تمام ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ اس سے بچائو کے لیے پیشگی حفاظتی انتظامات کریں۔۔ایبولا انتہائی مہلک مرض ہے اور اس سے بچائو کا واحد طریقہ احتیاط ہے۔ہمارے سامنے نائجیریا اور امریکہ کی مثال موجود ہے جنہوںنے احتیاطی تدابیر سے اس بیماری کواپنے ملک کے ایک خاص حصے سے آگے پھیلنے نہیں دیا۔اس وقت پاکستانی حکومت بھی ایبولا وائرس سے بچاؤ کے لیے حفاظتی اقدامات کر رہی ہے۔

چند روز قبل وزیراعلیٰ پنجاب نے ایبولا وائرس کے حوالے سے ایک جلاس بلایا جس میں انہوں نے چیف سیکرٹری پنجاب اور ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے لوگوں کوحفاظتی اقدامات کرنے کی ہدایت کی ۔اس کے علاوہ ہمارے شعبہ صحت کے ماہرین نے عالمی ادارہ صحت پاکستان کے اجلاس میں بھی شرکت کی اوران کے تعاون سے حفاظتی اقدامات بھی کررہے ہیں ۔ ایبولا کے مریضوں کے لیے سروسز ہسپتال لاہور میں علیحدہ وارڈ قائم کیا جارہا ہے جس پر ڈی جی ہیلتھ کام کر رہے ہیں اور اس کے علاوہ ایبولاوائرس کے مریضوں کیلئے ایک خاص ایمبولینس تیار کی جا رہی ہے تاکہ مریض کو بغیر کسی خطرے کے ہسپتال منتقل کیا جاسکے۔

راولپنڈی، ملتان اور لاہور کے سروسز ہسپتال کے ڈاکٹرز کو ایبولا وائرس سے نمٹنے اوراس کے حفاظتی اقدامات کے حوالے سے تربیت بھی دی جارہی ہے۔پاکستان میں اس وائرس کی منتقلی روکنے کے لیے حکومت نے تمام ائیرپورٹس پر ریڈ الرٹ کر دیا ہے اور اس کے علاوہ ابتداء میں لاہور ایئرپورٹ پرسکریننگ گیٹ نصب کردیا گیا ہے جبکہ آئندہ چند روز میں ملتان اور سیالکوٹ ائیرپورٹ کو بھی وفاق کی جانب سے سکریننگ گیٹس مہیا کر دیے جائیں گے۔لہٰذا اگر کسی مسافر میں ایبولا وائرس کی تشخیص ہوگی تو اسے ائیرپورٹ پرقائم کردہ علیحدہ وارڈ میں زیر نگرانی رکھا جائے گا۔

ہماری کوشش ہے کہ سکریننگ کے عمل کومزید موثر بنائیں تاکہ یہ وائرس پاکستان میں داخل نہ ہو۔اس وقت پاکستان کو پولیو کے چیلنج کا سامنا ہے اور اس کے خاتمے کے لیے ہماری مہم موثر طریقے سے جاری ہے۔ رواں سال پاکستان میں پولیو کے 220 کیس سامنے آئے اور بدقسمتی سے ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے جس سے پاکستان کی عالمی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔میرے نزدیک شکیل آفریدی کیس کی وجہ سے یہاں حالات خراب ہوئے ہیں۔

اس کیس کے بعد چند مخصوص سوچ کے لوگوں نے پولیو ویکسین پرپابندی لگا دی اور لاکھوں بچے ای پی آئی اور پولیو ویکسین سے محروم ہوگئے جس سے پولیو کی تعداد میں بدترین اضافہ ہواورنہ آج تمام صوبوں سے پولیو کا خاتمہ ہو چکا ہوتا۔اب  اگر تمام صوبوں کی کارکردگی کا پچھلے سال سے موازنہ کیا جائے توپنجاب کے علاوہ ہر صوبے میںپولیو کیسز کی تعداد میں خطرناک اضافہ ہوا ہے۔رواں سال خیبرپختونونخوامیں 44، فاٹا میں 143، بلوچستان میں 7، سندھ میں 21 اور پنجاب میں 3کیس سامنے آئے ہیں۔

رواں سال پنجاب میں پولیو کے جو تین کیس سامنے آئے ان میں اہم بات یہ ہے کہ ان تینوںبچوں کی پولیو کی ابتدائی پولیو ویکسین ہو چکی ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ بچے معذور نہیں ہیں بلکہ چل سکتے ہیں ۔ اس وقت لاہورکی آوٹ فال روڈ کے سیوریج میں پولیو کا وائرس پایا گیا ہے جس کے خاتمے کے لیے ہمارا محکمہ صحت، سٹی دسٹرکٹ گورنمنٹ، ڈی سی او اور ای ڈی اوبہت محنت کر رہے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ ہم پنجاب کو بہت جلد پولیو سے پاک کر دیں گے۔

اس وقت ہمیں 2015ء کے پولیو کے خاتمے کے ٹارگٹ کو ہر صورت میں حاصل کرنا ہے اور یہ ہمارے پاس آخری موقع ہے ۔ اگر ہم اگلے چند مہینوں میں پولیو پر قابو پانے میں کامیاب نہ ہوئے تو عالمی برادری کی جانب سے پاکستان پر مزید معاشی و معاشرتی پابندیاں عائد کی جاسکتی ہیں جس سے پاکستان کو بہت نقصان ہوگا۔

ڈاکٹر نذیر احمد (ایڈیشنل ڈائریکٹر ای پی آئی)

سائنسی ترقی نے دنیا کو گلوبل ویلج میں تبدیل کردیا ہے جس سے علاقائی بیماریاں بین الاقوامی سطح پر پھیل گئی ہیں۔ اسی طرح ایبولا، پولیو اور ڈینگی علاقائی بیماریاں ہیں جو اب پوری دنیا کے لیے خطرہ بن چکی ہیں ۔گذشتہ چند سالوں سے ہمیں پولیو اور ڈینگی کے چیلنج کا سامنا ہے اور اب ہمیں عالمی برادری نے ایبولا  وائرس سے نمٹنے کے لیے پیشگی حفاظتی انتظامات کرنے کی ہدایات جاری کردی ہیں۔ایبولا وائرس سب سے پہلے افریقہ میں پایا گیا جو اب پوری دنیا کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔

پاکستان میں اس وائرس سے نمٹنے کے لیے سی ڈی سی ڈیپارٹمنٹ متحرک ہے اور اس پر ابتدائی میٹنگز کر رہا ہے جس کے بعد اس وائرس سے حفاظتی انتظامات کے حوالے سے پالیسی ترتیب دی جائے گی اور آئندہ کے لیے لائحہ عمل بھی تیار کیا جائے گا۔اس وقت حکومت کی جانب سے تمام ائیرپورٹس پر ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور ائیرپورٹس کو سکریننگ گیٹس بھی فراہم کیے جارہے ہیں جن سے مسافروں کی ائیرپورٹ پر سکریننگ کی جائے گی تاکہ ایبولا وائرس کی بروقت تشخیص ہوسکے۔ ایبولا انتہائی مہلک اور موذی وائرس ہے۔

یہ آنسو، پسینہ اور پیشاب وغیرہ سے کسی صحتمند انسان میں منتقل ہوتا ہے اور اس سے بچنے کا واحد حل یہ ہے کہ عالمی ادارہ صحت کے وضع کردہ اصولوں کے مطابق اقدامات کیے جائیں۔اس وقت پولیو کے حوالے سے پاکستان میں بہت خطرناک صورتحال ہے۔2014 ء کے دوران 220 پولیو کیسزسامنے آئے ہیں جوہمارے لیے تشویش کا باعث ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ پولیو کیسز کی تعداد میں یہ اضافہ متوقع تھا کیونکہ گذشتہ اڑھائی سال سے چند مخصوص علاقوں میں پولیو مہم نہیں ہوئی۔ فاٹا ، خیبرپختونخوا، سندھ اور بلوچستان میں پولیو وائرس بڑی تعداد میں موجود ہے اور وہاں کچھ علاقوں میں عالمی ادارہ صحت کے معیار کے مطابق مہم بھی نہیں ہو رہی جس کی وجہ سے اس بیماری کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔

شمالی وزیرستان میں آرمی آپریشن کے بعد وہاں کے لوگ مختلف علاقوں میں نقل مکانی کر گئے اوراب یہ جہاں بھی جائیں گے وہاں پولیو وائرس  پھیلنے کا خطرہ ہے۔ پولیو کے حوالے سے اس وقت تمام صوبوں کے مقابلے میں پنجاب کی کارکردگی بہتر ہے اور اس پورے سال میں یہاں پولیو کے صرف تین کیس سامنے آئے جبکہ مجموعی طور پر باقی تمام صوبوں میں 217 پولیو کیس رپورٹ ہوئے  ہیں۔ میرے نزدیک تمام صوبوں کو پولیو کے خاتمے کے لیے محنت کرنی چاہیے تاکہ مزید بچوں کو معذور ہونے سے بچایا جاسکے ۔

ڈاکٹر غیاث النبی طیب (ماہر فزیشن)

خوش قسمتی سے ہمارا یہ خطہ ایبولا وائرس سے محفوظ ہے اور ابھی تک پاکستان میں اس کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔ ایبولا وائرس انتہائی خطرناک ہے جوبہت تیزی کے ساتھ ایک مریض سے صحتمند انسان میں منتقل ہوتا ہے اور باقی وائرس کی نسبت اس سے موت کا خطرہ بھی ایک لاکھ گنا زیادہ ہے ۔ خدانخواستہ اگر یہ وائرس پاکستان میں آگیا تو ہمارے لیے اس پر قابو پاناانتہائی مشکل ہوگا اوراس سے ناقابل یقین حد تک اموات ہونگی۔ اس وقت افریقی ممالک میں اس وائرس کی وباء پھیلی ہوئی ہے اور اب وہاں سے اس وائرس کا پوری دنیا میں پھیلنے کا خطرہ ہے جس پر عالمی ادارہ صحت نے پوری دنیا کو خبردار کیا ہے۔

پاکستان میں افریقہ سے کوئی بھی فلائٹ براہ راست نہیں آتی لہٰذا اس وائرس کے پاکستان میں منتقلی کے امکانات انتہائی کم ہیں۔ اس مرض کے حوالے سے ایک بات باعث تشویش ہے کہ اس کی علامات چھ سے سولہ دن کے اندر واضح ہوتی ہیں تاہم اگر اس وائرس سے متاثرہ کوئی بھی شخص مرض کے ابتدائی دنوں میں افریقہ سے سفر کرکے یہاں پہنچ گیاتو بہت خطرناک صورتحال پیدا ہوجائے گی کیونکہ جب تک اس مرض کی علامات واضح ہوں گی تب تک یہ وائرس دوسرے انسانوں میں منتقل ہوچکا ہوگا۔اس مرض کی علامات ڈینگی ، ملیریا اور عام فلو کی طرح ہیں جن میں گلا کا خراب ہونا، فلو اور جسم میں درد  وغیرہ شامل ہیں۔

اس کے علاوہ اس مرض میں پانچ سے سات دن کے بعد آنکھ، کان، منہ ، پیٹ اور پھیپھڑوں سے خون بہنا شروع ہوجاتا ہے اور مریض کا بلڈ پریشر خطرناک حد تک کم ہوجاتا ہے جس کے باعث اس کی موت واقع ہوجاتی ہے۔یہ وائرس مریض کے تھوک، پسینے ، آنسو اور پیشاب وغیرہ سے کسی صحتمند انسان میں منتقل ہوتا ہے۔اس کے علاوہ یہ چمگادڑ، بندر اور سور جیسے جانوروں سے بھی انسانوں میں منتقل ہوجاتا ہے۔ یہ وائرس اتنا موذی ہے کہ یہ مریض کے مرنے کے بعد بھی کسی دوسرے انسان میں منتقل ہوسکتا ہے لہٰذا میت کی تدفین و تکفین کے عمل میں بھی خاص احتیات برتنی ہوگی۔

بدقسمتی سے ایبولا وائرس کی کوئی بھی ویکسین ابھی تک تیار نہیں کی جاسکی ۔اس  کا واحد علاج احتیاط ہے اور اس کے علاوہ مریض صرف اپنی قوت مدافعت سے صحت یاب ہو سکتا ہے۔ایبولا وائرس مریض کے جسم سے خارج ہونے والے کسی بھی مادے میں سات دن تک زندہ رہتا ہے اور اگر اس دوران یہ مادہ کسی انسان کے جسم کو لگ جائے تو ایبولا وائرس اس میں منتقل ہوجاتا ہے۔لہٰذااس وقت ہمارے پاس اس کا واحدحل یہی ہے کہ اس مرض کو کسی بھی صورت میں پاکستان میں داخل نہ ہونے دیا جائے اور افریقہ سے آنے والے ہر مسافر کو کم از کم سات دن کے لیے زیر نگرانی رکھا جائے تاکہ اس مرض کی علامات واضح ہوسکیں۔

عالمی ادارہ صحت کی وارننگ پر اس وقت حکومت ایبولاوائرس سے نمٹنے کیلئے حفاظتی اقدامات کر رہی ہے اور تمام ائیرپورٹس پر ہائی الرٹ کے علاوہ وہاں سکریننگ گیٹس لگائے جارہے ہیں۔ میرے نزدیک یہ انتظامات ناکافی ہیں حکومت کو ان پر مزید توجہ دینی چاہیے تاکہ یہ وائرس پاکستان میں داخل نہ ہو۔ ہم پہلے ہی پولیوسے جنگ لڑ رہے ہیں جوبری طرح ہمارے بچوں کو متاثر کررہا ہے۔اس وقت پاکستان ، افغانستان اور نائیجیریا میں پولیو کے مریض موجود ہیں اوربدقسمتی سے پاکستان ان ممالک میں سر فہرست ہے جس سے پاکستان کی عالمی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔

پولیو کا خاتمہ 1998ء میں ہوجانا چاہیے تھا مگراس خطے کے حالات اورپاکستان کے اندرونی مسائل کی وجہ سے تمام علاقوں میں پولیو کی مہم ٹھیک طریقے سے نہیں کی جاسکی  اور پولیو کا بر وقت خاتمہ نہیں ہوا۔ افغان جنگ کے نتیجے میں افغان باشندوں کی ایک بڑی تعداد پاکستان آکرآباد ہوگئی اور پھر یہ لوگ بڑے شہروں میں گئے جن سے پولیو وائرس پورے پاکستان میں منتقل ہوگیا۔میرے نزدیک پولیو کے خاتمے میں ایک اور بڑی رکاوٹ پولیو ویکسین کے بارے میں غلط افواہیں ہیں۔

ہمارے پسماندہ علاقے جہاں لوگوں کی تعلیم اور میڈیا تک آسان رسائی نہیں ہے، وہاں جب کوئی غلط اطلاع پہنچتی ہے تو لوگ اس پر یقین کرلیتے ہیں۔ اسی طرح جب وہاں پولیو ویکسین کے بارے میں غلط افواہ پھیلائی گئی تو وہاں کے لوگوں نے اس پر یقین کرتے ہوئے اپنے بچوں کو پولیو سے بچائو کے قطرے پلانے سے انکار کردیا جس کے سنگین نتائج سب کے سامنے ہیں۔ میرے نزدیک ایبولا، پولیو اور ڈینگی جیسی بیماریوں کا خاتمہ عوام کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں ہے لہٰذا عوام کو چاہیے کہ ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیں اور ان بیماریوں کے خاتمے کے لیے حکومت کا ساتھ دیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔