وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی ٹارگٹڈ آپریشن مزید تیز کرنے کی ہدایت کردی

ویب ڈیسک  جمعـء 7 نومبر 2014
لیاری میں پہلے کی نسبت ٹارگٹ کلنگ میں کمی واقع ہوئی ہے، آئی جی سندھ کی بریفنگ، فوٹو:فائل

لیاری میں پہلے کی نسبت ٹارگٹ کلنگ میں کمی واقع ہوئی ہے، آئی جی سندھ کی بریفنگ، فوٹو:فائل

کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کراچی میں امن وامان کی صورتحال پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے شہر میں ٹارگٹڈ آپریشن کو تیز کرنے کی ہدایت کردی ہے۔

ایکسپریس نیوز کےمطابق وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کی سربراہی میں امن وامان سے متعلق اہم اجلاس ہوا جس میں آئی جی سندھ، ایڈیشنل آئی جی کراچی سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی جبکہ اجلاس میں صوبائی وزرا بھی شریک تھے، اجلاس میں کراچی میں امن وامان اور بالخصوص لیاری کی صورتحال پر غور کیا گیا جبکہ اس دوران آئی جی سندھ نے وزیراعلیٰ کو امن وامان کی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ لیاری میں دو گروپ اپنی بقا کی جنگ لڑرہے ہیں، علاقے میں 132 جرائم پیشہ افراد مقابلے میں مارے گئے ہیں جبکہ علاقے میں پہلے کی نسبت ٹارگٹ کلنگ میں کمی واقع ہوئی ہے۔

اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ اور صوبائی وزرا نے کراچی اور لیاری میں امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا جبکہ آئی جی سندھ کی جانب سے بریفنگ پر وزیراعلیٰ سندھ کاکہنا تھا کہ ہمیں اعدادو شمار کی ضرورت نہیں ہے شہر میں مکمل طور پر امن دیکھنا چاہتے ہیں، کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن کے مکمل نتائج حاصل نہیں ہوئے اس لیے شہر میں ٹارگٹڈ آپریشن مزید تیز کیا جائے، کراچی اور بالخصوص لیاری میں جرائم پیشہ افراد اور دہشت گرد آتے ہیں جس کے باعث دہشت گردی سے دوچار ہیں لہٰذا ان سے نمٹنے  کے لیے فورسز کی ممکنہ مدد کی جائے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے شہر میں امن وامان کے لیے فورسز کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ امن کے قیام کے لیے فورسز نے قربانیاں دیں اور بہت بڑا کام کیا ہے لیکن ٹارگٹ کلنگ پر کنٹرول کرنے کے لیے مزید کوششوں کی ضرورت ہے، اجلاس میں لیاری کی خراب صورتحال کے پیش نظر علاقے میں مزید پانچ نئے تھانوں کے قیام اور شہر کے حساس تھانوں میں تعینات پولیس اہلکاروں کو دیئے جانے والے خصوصی الاؤنس میں بھی اضافے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ لیاری کے ترقیاتی کاموں کے لیے 50 کروڑ روپے فوری طور پر جانے کرنے کا بھی حکم دیا گیا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔