چیف الیکشن کمشنر تقرری، اتفاق رائے ضروری

ایڈیٹوریل  ہفتہ 8 نومبر 2014
واضح رہے کہ سپریم کورٹ کی ڈیڈ لائن 13 نومبر تک ہے، اس سے پہلے کسی بھی ایک نام پر اتفاق ہو جانا چاہیے۔
فوٹو: فائل

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کی ڈیڈ لائن 13 نومبر تک ہے، اس سے پہلے کسی بھی ایک نام پر اتفاق ہو جانا چاہیے۔ فوٹو: فائل

سپریم کورٹ کی جانب سے 13 نومبر تک چیف الیکشن کمشنر کی تقرری نہ ہونے پر قائم مقام چیف الیکشن کمشنر کو واپس بلانے کے کمنٹس کے بعد بڑی سیاسی پارٹیوں کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے لیے مشاورت کا عمل تیز ہو گیا، اس سلسلے میں حکومت اور اپوزیشن نے تقرری کے لیے جسٹس (ر) رانا بھگوان داس کے نام پر اتفاق کر لیا جب کہ تحریک انصاف اور جماعت اسلامی نے جسٹس (ر) ناصر اسلم زاہد کا نام پیش کیا، ادھر متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) نے حکومت اور اپوزیشن لیڈر کو 4 نام تجویز کر دیے۔

دوسری جانب وزیر اعظم نے سیاسی رہنماؤں سے رابطوں کی ذمے داری وزیر اطلاعات پرویز رشید کو سونپ دی۔ وزیر اطلاعات کا کہنا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کی تقرری مشاورت اور اتفاق رائے سے کی جائے گی، مشاورت کا عمل آیندہ 48 گھنٹوں میں مکمل ہو جائے گا۔ حاصل بزنجو نے چیف الیکشن کمشنر کے لیے تصدق حسین جیلانی کا نام تجویز کیا۔ دوسری جانب چیف الیکشن کمشنر کے تقرر تک نئے سیکریٹری الیکشن کمیشن کی تعیناتی کا فیصلہ بھی موخر کر دیا گیا، میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر اعظم نے سیکریٹری الیکشن کمیشن کی مدت پوری ہونے کے بعد اپوزیشن لیڈر سے رابطہ کیا تھا اور دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ چیف الیکشن کمشنر کی تقرری تک نئے سیکریٹری الیکشن کمیشن کا معاملہ موخر کر دیا جائے۔

ملک میں ایک خودمختار، باوقار اور آزاد چیف الیکشن کمشنر کی تقرری جمہوریت کی بقا اور شفاف انتخابات کے انعقاد کے لیے بنیادی شرط ہے، اس معاملے کو طول دینا اضطراب کا باعث بن رہا ہے۔ مذکورہ عہدہ ایک سال سے خالی ہے، بہتر ہے جلد از جلد مشاورت مکمل کر کے ایک نام پر اتفاق رائے حاصل کر لیا جائے۔ پرویز رشید اس معاملے پر ہونے والی پیشرفت سے وزیر اعظم کو آگاہ کریں گے، اس سے قبل اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے اس سلسلے میں پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی اور ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار سے ٹیلی فونک رابطہ جب کہ وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید نے ایم کیو ایم کے رہنماؤں حیدر عباس رضوی اور بابر غوری سے رابطہ کر کے انھیں اس حوالے سے اعتماد میں لیا۔ حکومت اور اپوزیشن جسٹس (ر) رانا بھگوان داس کے نام پر متفق ہوئے اس سلسلے میں اطلاعات یہ ہیں کہ رانا بھگوان داس نے یہ ذمے داری سنبھالنے سے انکار کر دیا ہے۔

ادھر اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی سے ملاقات میں چیف الیکشن کمشنر کی تقرری پر مشاورت کی، ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ موجودہ الیکشن کمیشن ناکام اور متنازع ہو چکا ہے، اگر موجودہ الیکشن کمیشن کے ذریعے انتخابات کرائے گئے تو وہ کسی صورت قابل قبول نہیں ہوں گے، وہ غیر جانبدار، آزاد اور خودمختار الیکشن کمیشن چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مشاورت کے بعد انھوں نے جسٹس (ر) ناصر اسلم زاہد کا نام تجویز کیا ہے کیونکہ ان کا پورا کیریئر شفاف ہے، کچھ ناموں پر شدید تحفظات ہیں۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ کی ڈیڈ لائن 13 نومبر تک ہے، اس سے پہلے کسی بھی ایک نام پر اتفاق ہو جانا چاہیے۔ اب مزید لیت و لعل کا وقت نہیں رہا۔ قوم پرامید ہے کہ اس اہم معاملے کو تمام اسٹیک ہولڈرز کی سنجیدہ اور نتیجہ خیز مشاورت اور اتفاق رائے کے بعد دیانتداری اور نیک نیتی کے ساتھ حل کر لیا جائے گا اور ایسا الیکشن کمشنر تعینات کیا جائے گا جس پر سب کو اعتماد ہو۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔