سب سے پہلے میں…

شیریں حیدر  اتوار 16 نومبر 2014
 Shireenhaider65@hotmail.com

[email protected]

سڑک تو تین رویہ تھی مگراس پر اس وقت گاڑیوں کی قطاریں سات تھیں، تین رویہ سڑک پر سات رویہ ٹریفک چلنے لگے تو کیا ہو سکتا ہے… آپ سب جانتے ہیں، یہ منظر صرف میرے لیے ہی نہیں بلکہ آپ سب کے لیے بھی عام ہے۔ چند گز کے بعد ہی گاڑیوں کا ایک اژدہام آپس میں اس طرح زنجیر ہوا ہوتا ہے کہ کوئی بھی ایک انچ نہیں سرک سکتا،اگرآپ یہ سوچ کر رک جائیں کہ چلو آگے ٹریفک بحال ہو جائے تو پھر حرکت کریں تو لوگ باگ آپ کی گاڑی کے آگے اپنی گاڑی لا کر پھنسا لیں گے، یہ سوچ کر کہ شاید آپ کو پھنسی ہوئی ٹریفک میں پیچا لڑا کر نکلنا نہیں آتا اور آپ اپنے صبر پر پچھتا رہے ہوتے ہیں۔ قوموں کے مزاج ایک دن میں پرورش نہیں پاتے، ’ ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے‘ کے مصداق ہم ان عادتوں کے ساتھ  پرورش پاتے ہیں جو ہمارے اولین سالوں سے ہی ہماری تربیت کا حصہ بنا دی جاتی ہیں۔

آپ میں سے شاید کچھ لوگوں نے ’مونٹیسوری‘ (Montesorri )  تربیت کے بارے میں سنا ہو، ماریہ مونٹیسوری نام کی اطالوی عورت نے ان بچوں کی تربیت اور تعلیم کے لیے یہ طریقہ دریافت کیا تھا جو کہ ذہنی طور پر مفلوج یا کسی کجی کا شکار تھے، آج مونٹیسوری تربیت کے آلات دنیا بھر میں دو سال سے اوپر کی عمر کے بچوں کی تربیت اور تعلیم کے لیے استعمال ہوتے ہیں ۔ ہم ہمیشہ تعلیم و تربیت کی اصطلاح اپنی بول چال میں استعمال کرتے ہیں جب کہ اصل اصطلاح تربیت اور تعلیم ہے، تربیت پالنے سے ہی شروع ہو جاتی ہے جب کہ تعلیم اس وقت شروع ہوتی ہے جب بچہ نسبتا بہتر سمجھ بوجھ کا حامل ہو جاتا ہے۔

Montessori equipment استعمال کرنیوالے جانتے ہیں کہ اس کا اولین مقصد بچوں کو  patience صبر اور تحمل سکھانا ہے، ان آلات کا استعمال بچوں میں نظم و ضبط، ارتکاز اور بھر پور توجہ، مسلسل محنت اور جدوجہد سکھانا ہے۔پرانے وقتوں میں بچوں کو یہی کچھ عام گھروں میں عام طریقوں سے سکھایا جاتا تھا، دوسرے کی بات سننے میں دھیان اور ارتکاز، مشاہدہ کرنا، احترام، صبر، برداشت، اپنی باری کا انتظار کرنا… حتی کہ بات کرنے کے لیے بھی، مگر بیچ کے کچھ عرصے میں کچھ انوکھے ماں باپ پیدا ہونے لگے ہیں کہ جو سمجھتے ہیں کہ اگر بچے کی بات پہلے نہ سنی جائے اور اسے صبر کرنے کو کہا جائے تو اس کی انا کو ٹھیس پہنچتی ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ انھیں کم اہمیت دی جا رہی ہے۔ بچوں کی انا زیادہ اہم ہو گئی ہے اور ماں باپ ان کا احترام کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

ہم… ماں باپ اور وہ لوگ جو ان کی تربیت اور تعلیم کی ذمے داری پر مامور ہیں، ہمیں ان بظاہر معمولی باتوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، یہ معمولی باتیں بچوں کی شخصیت میں ان خود رو پودوں کی طرح پروان چڑھتی رہتی ہیں جو بعد ازاں اصل فصل کی خرابی کا باعث بن جاتے ہیں۔ آپ کہیں بھی چلے جائیں ، چھوٹے چھوٹے بچے اپنی باری کا انتظار کرنے کی بجائے لپک لپک کر آگے جانے کے لیے کوشاں ہوتے ہیں، وہ کہیں کھانے کی میز ہو، سینما کی قطار، اسکول میں چھٹی کے وقت باہر جانے کی قطار، کسی فاسٹ فوڈکے کاؤنٹر پر یا کتابوں اور کھلونوں کی دکانوں پر ادائیگی کے کاؤنٹر۔

انھیں دیکھ کر کوفت ہوتی ہے اور خواہ مخواہ دل چاہتا ہے کہ وہیں پر ان کی کلاس لے لی جائے مگر ضبط بھی کسی چڑیا کا نام ہے… ان کے ماں باپ انھیں دیکھ رہے ہوتے ہیں اور ان کا فرض ہے کہ انھیں سمجھائیں، مگر وہ شاید خود بھی ضابطہء اخلاق نامی چیز سے واقف نہیں ہوتے۔ کسی اسپتال کے کسی بھی شعبہ میں چلے جائیں ، جہاں قطار بنا کر بہتر انداز سے تمام عمل کو تکمیل تک پہنچایا جا سکتا ہے وہاں ہر شخص ’ سب سے پہلے میں ‘ کی راگنی گاتا، دوسروں کو پیچھے دھکیلتا اور واویلا کرتا ہوا کہ میں سب سے سیریس مریض ہوں ، جس کے باعث سبھی کے معاملات تعطل کا شکار ہو جاتے ہیں اور انتظامیہ کے ہاتھوں بسا اوقات کچھ نہ کچھ ’’ عزت افزائی‘‘ ہو جاتی ہے۔

اس تربیت کے ’’ یافتہ‘‘ جب سڑکوں پر موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کی ڈرائیونگ سیٹ سنبھالتے ہیں تو ان کی ’’ صلاحیتیں ‘‘ بام عروج پر پہنچ جاتی ہیں، دائیں والے کو ہارن، بائیں والے کو ہلکی سی ٹکر، سامنے والے کو گالی، ہا تھ نچا کر، منہ سے مغلظات بک کر یہ لوگ اپنا راستہ ہر طور بنا لیتے ہیں، چاہے اس کے لیے انھیں دوسرے کی گاڑی اور قانون کی لاش کے اوپر سے گزرنا پڑے، قانون بے چارہ بھی کیا کرے یہاں ؟ اس ملک میں قانون تو بے وقعت ہو گیا ہے، بکنے والوں کے بھی کچھ قوانین اور قیمت ہوتی ہے مگر ہمارے ہاں قانون اس قدر سستے داموں بکتا ہے کہ اس معزز پیشے کو ’’ پیشہ‘‘ بنا دیا گیا ہے۔

ہمارے ہاں کے ٹی وی چینلز جو دن بھر جانے کون کون سے نعروں سے گونجتے رہتے ہیں کیا ان کی ذمے داری نہیں کہ اس میڈیا کو وہ عوام کی تربیت کے لیے استعمال کریں؟ مجھے یاد ہے کہ جب کسی مچھلی منڈی کی دکانوں کی طرح چینل نہیںہوتے تھے، ایک تن تنہا سرکاری چینل ہوتا تھا ، پی ٹی وی… تو اس وقت ہر موضوع کے پروگرام ہوتے تھے، مذہب، سیاست، خبریں ، تعلیم بالغاں ،گونگے بہرے بچوں کے لیے تعلیم، قرآن پڑھنا، عورتوں کے مسائل، صحت کے مسائل پر ڈاکٹروں کے ماہرانہ پروگرام ، دستاویزی فلمیں ، پاکستان کی تہذیب اور ثقافت کو اجاگر کرنیوالے پروگرام، سیاحت، ڈرامے، کارٹون، موسیقی، بچوں کے سلسلے وار ڈرامے، حج پر جانے والوں کے لیے تربیتی پروگرام اورٹریفک قوانین پر پروگرام… کون سا شعبہء زندگی ہے کہ جس کا احاطہ نہیں کیا جاتا تھا اور اس پر حیرت یہ کہ یہ نشریات عموماً چھ یا سات گھنٹے کے دورانئے کی ہوتی تھیں، ان کے اختتام تک لوگ سکون کی نیند سوتے تھے۔

اب چینل زیادہ ہیں، خبریں کم ، ہراس زیادہ، جھوٹ زیادہ، منفی باتیں اس سے بھی زیادہ، ملک دشمن عناصر کو اہمیت دی جاتی ہے… ہر ڈرامہ چینل پر بیرون ملک کے ڈرامے اور وہ ڈرامے جو ان کے اپنے ملکوں میں دکھانے کی اجازت نہیں کہ ان میں مذہب کے خلاف مواد ہوتا ہے… جو ملک کے خلاف زیادہ بولتا ہے اسے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ دھماکوں کے انتظار میں تمام چینلز ہولے ہولے چل رہے ہوتے ہیں، ادھر ادھر کی جھوٹی سچی اور گھسی پٹی خبروں سے کام چلا رہے ہوتے ہیں… دھماکا ہوتا ہے اور ان تمام چینلز میں زندگی کی لہر دوڑ جاتی ہے، دھماکے کی خبر… سب سے پہلے… بریک کرنے والوں کے چہرے تمتما رہے ہوتے ہیں !!! یہاں بھی ’’ سب سے پہلے میں ‘‘ کی دوڑ ہے۔کاش … اے کاش، کوئی ان چینلز کی تربیت کی ذمے داری اٹھائے ، انھیں ایک guideline دے تاکہ انھیں علم ہو کہ ہم کس طرح کا ملک ہیں، کس طرح کے عوام ہیں ، ہماری میڈیا سے منسلک کیا ضروریات ہیں اور میڈیا کی ترجیحات کیا ہونا چاہئیں۔

جس طرح ہمارے ہاں میڈیا اور سوشل میڈیا عام آدمی کی زندگی میں انقلاب لا سکتا ہے اس کا اندازہ بھی نہیں کیا جا سکتا ۔ بہت سے لوگ، جن میں ہمارے حکمران بھی شامل ہیں، دنیا کے بیشتر ملکوں میں سفر کرتے ہیں اور وہاں پر ہزاروں مثبت چیزیں دیکھتے ہیں، وہاں وہ ان پر عمل بھی کرنے پر مجبور ہوتے ہیں مگر بد قسمتی سے ملک میں آتے ہی اور اگر ملکی ائیر لائن سے سفر کر رہے ہوں تو جہاز میں ہی تہذیب کا لبادہ لپیٹ کر کسی طرف ڈال دیا جاتا ہے۔ یہاں سے دھکم پیل کر کے جہاز میں سوار ہو کر… جب اپنے دنیاوی آقاؤں کی سر زمین پر قدم رکھتے ہیں تو سب دائرہ قانون میں آجاتے ہیں۔

خواہ وہ ہمارے ملک کا سربراہ ہی کیوں نہ ہو اور انھیں پولیو ویکسین ہی کیوں نہ لینی ہو!!! ان کے ائیر پورٹ پر اتر کر امیگریشن کی قطاروں میں ایک دو نہیں… دس دس گھنٹے کی صبر آزما قطاروں میں بھی کھڑے رہ لیتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ بے تہذیبوں کو کیسے سدھایا جاتا ہے، وہاں کوئی چوں کرتا ہے نا چاں !!! ہر کوئی دوسرے کو برا کہنے میں ماہر ہے کہ فلاں کی وجہ سے فلاں خرابی ہوئی مگر میری وجہ سے خرابی کیا ہوئی اور اس میں کتنا اضافہ ہوا، اس کی کسی کو خبر نہیں ہو پاتی۔ کوئی بھی چیز، انسان ، رشتے اور رویے ناقابل مرمت  irrepairable ) )نہیں ہوتے… خرابی کو جب بھی جڑ سے پکڑ لیں اور اسے درست کرنے کی نیت کر لیں تو حل کے لیے آسانیاں خود بخود قدرت کی طرف سے پیدا ہوتی جاتی ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔