بھارت سے مذاکرات کیلئے تیار ہیں لیکن پہل اسی کو کرنا ہوگی، وزیراعظم

ویب ڈیسک  منگل 25 نومبر 2014
وزیراعظم نوازشریف سارک سربراہ کانفرنس میں شرکت کے لئے نیپال پہنچ گئے، فوٹو:رائٹرز

وزیراعظم نوازشریف سارک سربراہ کانفرنس میں شرکت کے لئے نیپال پہنچ گئے، فوٹو:رائٹرز

اسلام آباد: وزیراعظم نوازشریف سارک سربراہ کانفرنس میں شرکت کے لئے نیپال پہنچ گئے جہاں وہ کھٹمنڈو میں سارک کانفرنس سے خطاب کریں گے جبکہ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ پاکستان مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن پہل بھارت کو کرنا ہوگی۔

نیپال میں منعقد ہونے والی 2 روزہ سارک سربراہ کانفرنس کے لیے وزیراعظم نواز شریف کھٹمنڈو پہنچے جہاں نیپال کے نائب وزیراعظم نے ان کا استقبال  کیا جبکہ اس موقع پر ان کے اعزاز میں استقبالیہ بھی دیا گیا جس میں دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے۔ وزیراعظم نواز شریف کے کے ہمراہ ان کے معاون خصوصی عرفان صدیقی اور طارق فاطمی بھی موجود ہیں جب کہ مشیر خواجہ سرتاج عزیز گزشتہ روز ہی کھٹمنڈو پہنچ  گئے جہاں انہوں نے گزشتہ روز وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کی اور سارک ممالک کے سامنے پاکستان کا موقف رکھا۔

وزیراعظم نوازشریف 26 نومبر کو سارک سربراہ کانفرنس سے خطاب کریں گے اور 27 نومبر کو وہ سارک ممالک کے سربراہان مملکت سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں بھی کریں گے جس میں دہشت گردی کے خاتمے اور تجارت کے فروغ سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ سارک سربراہ کانفرنس کے موقع پر وزیراعظم نوازشریف کی اپنے بھارتی ہم منصب نریندر مودی سے ملاقات کو خارج از امکان ظاہر کیا گیا ہے تاہم اس دوران وفود کی سطح پر مذاکرات کیے جائیں گے۔

نیپال روانگی کے موقع پر طیارے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم نوازشریف کا کہنا تھا کہ یورپی یونین اور دنیا کی دوسری علاقائی تنظیمیں زبردست ترقی کرچکی ہیں لیکن سارک کو 30 سال ہوچکے ہیں اور اس میں خاطرخواہ پیش رفت نہیں ہوسکی ہے جبکہ پاکستان ، بھارت کےکشیدہ تعلقات کےباعث بھی سارک خاطرخواہ ترقی نہیں کرسکی تاہم پاکستان مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن اس کے لیے بھارت کو پہل کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے سیکریٹری خارجہ مذاکرات کو منسوخ کردیا تھا لیکن کسی ایک وزیراعظم کو بات چیت ختم کرنے کا اختیار نہیں تھا،مذاکرات دونوں وزرائے اعظم نے بحال کیے لیکن ایک نے ختم کردیئے لہٰذا بھارت کی جانب سےمذاکرات ختم کرنے کے یکطرفہ فیصلے سے مایوسی ہوئی۔

وزیراعظم نوازشریف نے کہا  کہ مذاکرات شروع نہ کرنے کا بھارتی وزیراعظم سے پوچھا جائے کیونکہ مذاکرات کی بحالی کے لیے بال اب بھارت کے کورٹ میں ہے جبکہ پاک بھارت تنازعات سارک کے موثر ہونے میں رکاوٹ ہیں اور ان کو ختم کیے بغیر سارک فورم کو موثر نہیں بنایا جاسکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت خطے میں امن اور استحکام چاہتی ہے، بہتر سکیورٹی اور معاشی تعاون کے اقدام سے خطے کو خوشحال بنایا جاسکتا ہے، سارک کو یورپی یونین کی طرز پر معاشی ترقی اور تجارت کا فورم بنانا چاہتے ہیں کیونکہ سارک کا خطہ امن اور اقتصادی تعاون کی فضا میں ترقی کرسکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔